https://pakistan.asia-news.com/ur/articles/cnmi_pf/features/2018/07/25/feature-01
| انتخابات

پاکستانی ووٹروں نے فساد کی پرواہ نہیں کی، سخت مقابلے کے نتائج کے منتظر

پاکستان فارورڈ اور اے ایف پی

image

25 جولائی 2018 کو لاہور میں عام انتخابات کے دوران ایک بزرگ ووٹ ڈالنے کے بعد پولنگ اسٹیشن کے باہر اپنا سیاہی لگا انگوٹھا دکھاتے ہوئے۔ [عارف علی / اے ایف پی]

اسلام آباد -- پورے پاکستان میں کروڑوں ووٹر بدھ (25 جولائی) کو ووٹ ڈالنے نکلے اور اب سخت مقابلے کے نتائج کا بیتابی سے انتظار کر رہے ہیں۔

لگ بھگ 106 ملین شہری پارلیمانی انتخابات میں ووٹ ڈالنے کے اہل تھے جو کہملک میں ایک نایاب جمہوری انتقالِ اقتدارہے، جس پر لگ بھی اپنی نصف تاریخ میں فوجی حکمرانی رہی ہے۔

مسلح افواج کی جانب سے قبل از انتخاب دھاندلی کے وسیع الزامات نے انتخابات کو داغدار کر دیا ہے لیکنفوج نے الزامات کو مسترد کر دیا ہےاور کہا ہے کہ انتخابی عمل میں اس کا کوئی "براہِ راست کردار" نہیں ہے۔

image

25 جولائی کو لاہور میں ایک پولنگ اسٹیشن کے باہر ایک پولیس اہلکار ووٹروں کی تلاشی لیتے ہوئے جبکہ ایک فوجی سپاہی پہرے پر کھڑا ہے۔ [عارف علی / اے ایف پی]

image

25 جولائی کو اسلام آباد میں پولنگ کا عمل شروع ہونے سے قبل ایک انتخابی اہلکار بیلٹ بکس کو مہربند کرتے ہوئے۔ [عامر قریشی / اے ایف پی]

image

25 جولائی کو کوئٹہ میں ایک پولنگ اسٹیشن کے قریب خود کش حملے کے بعد دفاعی اہلکاروں کو انتہائی چوکس کھڑے دیکھا جا سکتا ہے۔ [عبدالغنی کاکڑ]

انتخابی مہم کا موسم بھی انتہاپسند دینی جماعتوں کی وسعتسے خراب ہوا ہے، جیسے کہملی مسلم لیگ، جس کا تعلقحافظ سعیدسے ہے، وہ شخص جس پر 2008 کے ممبئی حملوں کی منصوبہ بندی کرنے کا الزام ہے۔

تقریباً 800،000 پولیس اور فوجی اہلکاروں کو پورے ملک میں 85،000 سے زائد پولنگ اسٹیشنوں پرحفاظت کو یقینی بنانے کے لیے تعینات کیا گیا ہے جس سے پہلےانتخابی مہم کے آخری ہفتے میں دہشت گردوں کے خونریز حملوں کے ایک سلسلےمیں 180 سے زائد افراد، بشمول تین امیدوار جاں بحق ہوئے۔

تشدد کے سامنے ڈٹ جانا

بڑھائے گئے حفاظتی اقدامات کے باوجود، بدھ کے روز بلوچستان میں ایک دن کے آغاز ہی میں ایک حملے میں ایک پولیس اہلکار شہید اور تین زخمی ہو گئے جب پھینکا گیا ایک دستی بم کوشک گاؤں میں ایک پولنگ اسٹیشن پر گرا۔

پولیس نے کہا کہ صوابی میں، پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کا ایک کارکن مخالف جماعت کے ساتھ فائرنگ کے تبادلے میں جاں بحق ہو گیا۔

دریں اثنا، کوئٹہ میں انتخابات کے روز ایک بم دھماکے میں کم از کم 31 افراد جاں بحق ہوئے۔

مقامی انتظامیہ کے ایک اہلکار، ہاشم گلزئی نے اے ایف پی کو بتایا، "[بمبار] پولنگ اسٹیشن میں گھسنے کی کوشش کر رہا تھا۔ جب پولیس نے اسے روکنے کی کوشش کی تو اس نے خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔"

جاں بحق ہونے والوں میں پانچ پولیس اہلکار اور دو بچے شامل تھے۔

بم دھماکے میں ستر افراد زخمی ہوئے، جو کہ اس ماہ صوبہ بلوچستان میں ہونے والا دوسرا بم دھماکہ تھا جس کی ذمہ داری"دولتِ اسلامیہ" (داعش)کی جانب سے قبول کی گئی۔

13 جولائی کو، داعش کے ایک خودکش بمبار نے مستونگ میں ایک انتخابی ریلی میں 153 افراد کو شہید کیا تھا۔۔

سخت مقابلہ

مقابلہ بہت زیادہ حد تک عمران خان کی پی ٹی آئی، اور سابقہ حکمران جماعت پاکستان مسلم لیگ نواز (پی ایم ایل-این) جو کہنااہل کیے گئے سابق وزیرِ اعظم میاں محمد نواز شریفکی جماعت ہے، جس کی انتخابی مہم کی قیادت ان کے بھائی شہباز نے کی۔

خان نے اپنا ووٹ اسلام آباد کے نواحی علاقے، بنی گالہ میں ڈالا، انہوں نے میڈیا کو بتایا کہ یہ "ان جماعتوں کو شکست دینے کا وقت ہے جنہوں نے برسوں تک ملک کو یرغمال بنائے رکھا۔"

لاہور میں ایک پولنگ اسٹیشن پر داخل ہونے والا پہلا ووٹرایک خاتون تھیں، کاروباری منتظمہ مریم عارف، جنہوں نے اے ایف پی کو بتایا، "یہاں امن و امان کی صورتحال ٹھیک ہے۔"

ان سے کچھ ہی دیر بعد شہباز شریف پہنچے، جنہوں نے خود اپنا ووٹ ڈالنے اور فتح کا نشان لہراتے ہوئے پاکستانیوں سے کہا کہ "اپنے گھروں سے نکلیں اور ۔۔۔ پاکستان کی تقدیر بدل دیں"۔

ایک تیسری جماعت، پاکستان پیپلز پارٹی جس کی سربراہی بلاول بھٹو زرداری -- 2007 میں قتل کی جانے والی سابق وزیرِ اعظم، بینظیر بھٹو کے بیٹے -- کر رہے ہیں اسے کسی بھی فاتح کے ساتھ اتحاد بنانے کی دعوت دی جا سکتی ہے۔

19 ملین سے زائد نئے ووٹر، بشمول کئی ملین خواتین اور نوجوان، فیصلہ کن ثابت ہو سکتے ہیں۔

رائے شماری کرنے والے ادارے گیلپ پاکستان کے انتظامی ڈائریکٹر، بلال گیلانی نے منگل (24 جولائی) کو اے ایف پی کو بتایا، "ہماری پیش گوئیاں اس وقت بہت دھندلی ہیں۔ صورتحال کسی بھی طرف جا سکتی ہے۔"

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا
6
نہیں
تبصرے 2
تبصرہ کی پالیسی
Captcha

انتخاب فوج کے تعاون سے نہیں بلکہ فوج کے زیرِ اثر ہوا

جواب

پاکستان بھرمیں لاکھوں رائے دہندگان بدھ (25 جولائی) کو ووٹ ڈالنے کے لیے جمع ہوئے اور اس سخت دوڑ کے نتائج کے بے صبری سے منتظر ہیں ۔
درحقیت اب تمام پاکستانی بیدار ہو گئے ہیں اور ایک ایسے سربراہ کے انتخاب پر شدّت سے مرتکز ہیں جو مستقبل کی بلندیوں کی جانب ان کی قیادت کرے لیکن سیاسی جماعتوں، محکمہٗ قانون، اور ان سب سے بڑھ کر میڈیا کے کردار کی بد ترین صورتِ حال کی وجہ سے میں یہ تسلیم کرنے سے قاصر ہوں کہ میڈیا ہر مرتبہ کیسے اس طور سے ردِّ عمل دے سکتا ہے۔ میڈیا تازہ ترین خبریں تلاش کر رہا ہے لیکن ان انتخابات میں میڈیا نے ایک طرف رخ پھیر لیا جو کہ قابلِ قبول نہیں۔ چینلز پر صرف بتائی گئی خبریں اور رپورٹس چلائی گئیں۔ میرا خیال ہے کہ پاکستانی قوم اب تک اندرونی حقائق سے مکمل طور پر آگاہ نہیں۔ ہم سب ان کے بارے میں باتیں کر کے اور چینل دیکھ کر اپنا وقت ضائع کر رہے ہیں۔

جواب