https://pakistan.asia-news.com/ur/articles/cnmi_pf/features/2018/07/24/feature-01
| انتخابات

پاکستانی سول سوسائٹی نے ووٹروں پر زور دیا کہ وہ مشتدد گروہوں کو مسترد کر دیں

ضیاء الرحمان

image

کراچی میں سول سوسائٹی کے سرگرم کارکن 16 جولائی کو الیکشن کمیشن آف پاکستان کے باہر مظاہرہ کر رہے ہیں۔ انہوں نے کمیشن سے مطالبہ کیا کہ وہ کالعدم تنظیموں سے تعلق رکھنے والے امیدواروں کو عام انتخابات میں شرکت کرنے سے روکے۔ ]ضیاء الرحمان[

کراچی -- سول سوسائٹی اور انسانی حقوق کے گروہ کالعدم عسکری گروہوں اور بنیاد پرست مذہبی گروہوں کی طرف سے25 جولائی کو ہونے والے عام انتخابات میں شرکت کرنے پر تشویش کا اظہار کر رہے ہیں اور ووٹروں سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ وہ ایسے امیدواروں کو مسترد کر دیں۔

کالعدم اہلِ سنت والجماعت (اے ایس ڈبلیو جے) اور ملی ملسم لیگ (ایم ایم ایل) جنہیں الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) نے سیاسی جماعت کے طور پر رجسٹر ہونے سے روک دیا تھا، ایسے کالعدم گروہوں میں شامل ہیں جو نیابتی گروہوں کی آڑ میں انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں۔

دونوں گروہوں کو عسکریت پسندی میں ان کی شمولیت اور دہشت گردی سے تعلقات کے سلسلے میں پابندیوں کا سامنا ہے۔

image

سرگرم کارکنوں نے الیکشن کمیشن آف پاکستان سے مطالبہ کیا کہ وہ کالعدم گروہوں جیسے کہ سپاہ صحابہ پاکستان (ایس ایس پی) جسے اب اہلِ سنت والجماعت (اے ایس ڈبلیو جے) کا نام دے دیا گیا ہے اور دیگر ممنوع گروہوں کو انتخابات میں لڑنے سے روکے۔ ]ضیاء الرحمان[

image

مختلف بڑی سیاسی جماعتوں کے نمائںدوں نے 21 جولائی کو کراچی میں شہر کے رہائشیوں پر زور دیا کہ وہ کالعدم جماعتوں سے تعلق رکھنے والے امیدواروں کو مسترد کر دیں۔ ]ضیاء الرحمان[

اے ایس ڈبلیو جے ایک ذیلی گروہ پاکستان راہِ حق پارٹی کے تحت انتخاب لڑ رہی ہے۔ ایم ایم ایل اللہ اکبر تحریک کے پردے میں امیدوار کھڑے کر رہی ہے جو کہ اس سے پہلے ایک گمنام سیاسی جماعت تھی۔

اسی طرح، تحریکِ لبیک یا رسول اللہ پاکستانجو کہ ایک بنیاد پرست مذہبی جماعت ہے، انتخابات میں حصہ لے رہی ہے۔ ممتاز قادری جسے اس وقت کے پنجاب کے گورنر سلمان تاثیر کو قتل کرنے پر 2016 میں پھانسی دی گئی تھی، کے حامیوں نے یہ جماعت بنائی تھی۔

کالعدم گروہوں کے خلاف احتجاج

سول سوسائٹی کے سرگرم کارکنوں اور تشویش کے شکار شہریوں نے بہت سی کوششوں کا آغاز کیا ہے تاکہ ان کالعدم گروہوں کو عام انتخابات میں حصہ لینے سے روکا جا سکے۔

اس ماہ کے آغاز میں، انہوں نے الیکشن ٹربیونل میں اپنی شکایات درج کروائیں جس نے ان کی تشویش کو مسترد کر دیا۔ گروپ نے پھر 16 جولائی کو کراچی میں ای سی پی کے سامنے ایک احتجاج کو منظم کیا تاکہ حکام پر دباؤ ڈالا جا سکے کہ وہ ایسے امیدواروں کو انتخابات میں حصہ لینے سے روکیں۔

مظاہرین نے ایسے کتبے اٹھائے ہوئے جن پر کالعدم دہشت گرد گروہوں کے ارکان کے الفاظ لکھے ہوئے تھے، احتجاج کیا تاکہ دکھایا جا سکے کہ ایسے انتہاپسند ملک کی سالمیت اور اتحاد کو کیسے چیلنج کرتے ہیں۔

سول سوسائٹی کے ایک سرگرم رکن اور احتجاج کو منظم کرنے والے اسد گوکل نے کہا کہ "کالعدم دہشت گرد گروہوں نے صرف اپنی جماعتیں کا نام بدلا ہے اور وہ ابھی بھی اپنی سرگرمیوں کو جاری رکھے ہوئے ہیں اور مذہبی عدم برداشت اور نفرت کو پھیلا رہے ہیں"۔

انتخابات سے صرف دو ہفتے پہلے، پاکستان کی ٹیرر واچ لسٹ کے چوتھے شیڈول سے ناموں کو ہٹایا جانا خصوصی طور پر تشویش کا باعث ہے۔

اے ایس ڈبلیو کے کے سربراہ محمد احمد لدھیانوی ان افراد میں شامل ہیں جن کا نام حکام نے 28 جون کو اس فہرست سے نکال دیا تھا۔

حکومت اس فہرست پر موجود افراد کو ہجوم میں لوگوں سے گھلنے ملنے، غیر ملکی سفر، بینک اکاونٹوں تک رسائی اور انتخابات میں حصہ لینے سے روکتی ہے۔

اے ایس ڈبلیو جے نیشنل کاونٹر ٹیررازم اتھارٹی کی واچ لسٹ پر ابھی بھی موجود ہے۔

گوکل نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ "ان لوگوں کو انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت دینا پریشان کن ہے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے کام کا مذاق اڑانا ہے"۔ انہوں نے مزید کہا کہ سول سوسائٹی کے سرگرم کارکن آگاہی پھیلانے کے لیے ہر قانونی حربہ استعمال کریں گے اور مظاہروں کو اسلام آباد اور دوسرے شہروں تک بڑھائیں گے۔

پاکستان کمیشن برائے انسانی حقوق (ایچ آر سی پی) نے متنبہ کیا ہے کہ کالعدم گروہ مختلف ناموں کے تحت انتخابات کے میدان میں آ گئے ہیں۔ اس نے حکومت پر الزام لگایا کہ وہ ایسے گروہوں کو انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت دینے سے ان کی سیاسی حثیت کی تصدیق کر رہی ہے۔

سندھ میں ایچ آر سی پی کے وائس چیرمین اسد اقبال بٹ نے کہا کہ حکام کو ای سی پی کے چھان بین کے عمل کا دوبارہ سے جائزہ لینا چاہیے تاکہ اس بات کا پتہ لگایا جا سکے کہ اس نے مزید تفتیش کیے بغیر ایسے امیدواروں کے کاغذاتِ نامزدگی منظور کیوں کیے ہیں۔

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ "کالعدم گروہوں سے تعلق رکھنے والے یہ امیدوار خطرناک اور عدم برداشت کے نظریات کو پھیلانے کے لیے مذہب کا غلط استعمال کر رہے ہیں اور ہمیں اس پر تشویش ہے"۔

ووٹروں پر زور دیا گیا کہ وہ عسکری امیدواروں کو مسترد کر دیں

کراچی میں سول سوسائٹی کی تنظیموں نے ایسے بہت سے وکالتی اور آگاہی کے سیشن منعقد کیے ہیں جن کا مقصد ووٹروں کو مرکزی دھارے کے گروہوں اور کالعدم گروہوں میں فرق کرنے کے بارے میں تعلیم دینا ہے۔

بڑی سیاسی جماعتوں کے نمائںدوں نے 21 جولائی کو کراچی میں ہونے والی کانفرنس میں اتفاق کیا کہ ووٹروں کو کالعدم گروہوں سے تعلق رکھنے والے امیدواروں کو مسترد کر دینا چاہیے۔

رواداری تحریک (آر ٹی) جو کہ بین المذہبی ہم آہنگی اور امن کے لیے کام کرنے والا سول سوسائٹی کا ایک خودمختار ادارہ ہے، نے اس سیمینار کو منظم کیا تھا۔

نمایاں مقررین میں پاکستان مسلم لیگ کے خواجہ طارق نذیر،عوامی نیشنل پارٹی کے حمید اللہ خٹک، متحدہ قومی موومنٹ کی کشور زہرہ، پاکستان پیپلز پارٹی کے انور لال دین، آزاد امیدوار جبران ناصر اور عوامی ورکرز پارٹی کے یوسف مستی خان شامل تھے۔

تمام مقررین نے پاکستانیوں پر زور دیا کہ وہ اپنے آپ کو تعلیم دیں اور پرامن سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے امیدوار کو ووٹ دیں اور کالعدم گروہوں کے امیدواروں کو مسترد کر دیں۔

کراچی سے تعلق رکھنے والی آر ٹی کی راہنما سیما شیخ نے کہا کہ ہر کوئی دہشت گردانہ سرگرمیوں اور بے گناہ شہریوں کو ہلاک کرنے کے مجرمین کو انتخابات میں حصہ لیتے ہوئے دیکھ کے پریشان ہے۔

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ "ان دہشت گردوں کو انتخابات میں کھڑے ہونے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے تھی۔ انتخابی عمل میں ان کی موجودگی، حکومت کی انسدادِ دہشت گردی کی کوششوں پر سوالیہ نشان ہے"۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا
14
نہیں
تبصرے 2
تبصرہ کی پالیسی
Captcha

Is list may MWM ka name b Shamil kia jaey Jo TNFJ ki bali badli hoi shakal he..TNJF ban organisation he

جواب

پی ایم ایل ن کامیاب

جواب