سلامتی

پاکستان میں سابقہ قبائلی پٹی کے وسیع علاقوں سے بارودی سرونگوں کی صفائی

زرق خان

image

جون میں جنوبی وزیرستان کے باشندے بارودی سرنگوں کے دھماکوں میں جانبحق ہونے والے تین افراد کی نمازِ جنازہ ادا کرنے کے لیے جمع ہیں۔ [بشکریہ حیات پریگھل]

اسلام آباد – پاکستانی حکام نے طالبان کی عسکریت پسندی سے متاثرہ قبائلی اضلاع کا ایک وسیع علاقہ ان غیر تباہ شدہ گولہ بارود اور بارودی سرنگوں سے پاک کر دیا ہے، جو عام شہریوں اور عسکری عملہ کی زندگیوں کے لیے خطرہ تھے۔

اگرچہ سرکاری اعداد و شمار دستیاب نہیں، تاہم باشندوں اور سول سوسائٹی کے فعالیت پسندوں کا کہنا ہے کہ ماضی میں افغانستان کی سرحد کے ساتھ تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)، القاعدہ اور دیگر کثیر قومی عسکریت پسند گروہوں کا گڑھ رہنے والے اضلاع میں اب تک سینکڑوں باشندے جانبحق ہو چکے ہیں اور درجنوں کی ٹانگیں ضائع ہو چکی ہیں ۔

آپریشن میں شریک ایک عسکری عہدیدار کے مطابق، غیر تباہ شدہ گولہ بارود کی تلاش میں ایک جاری "کلیئرنس آپریشن" میں پاکستانی حکام نے عسکریت پسندی سے متاثرہ اضلاع، جن میں سے اکثر کا حال ہی میں خیبر پختونخوا میں انضمام ہوا ہے ، کے مختلف حصوں میں بڑے قطعہ ہائے اراضی کلیئر کر دیے ہیں۔ بارودی سرنگیں کلیئر کرنے کے کام کا آغاز 2018 میں ہوا۔

اس عسکری عہدیدار کی جانب سے دی گئی دستاویزات کے مطابق، دیسی ساختہ دھماکہ خیز آلات اور کھلونہ بموں سمیت غیر تباہ شدہ گولہ بارود ہٹانے کے لیے تمام تر قبائلی اضلاع میں 80 سے زائد ٹیمیں کام کر رہی ہیں۔ 2018 سے اب تک بارودی سرنگیں ناکارہ بناتے ہوئے کم از کم 37 سیکیورٹی اہلکار جاںبحق اور 17 زخمی ہو گئے۔

image

ایک فائل فوٹو میں جنوبی وزیرستان کے رہائشیوں کو بارودی سرنگوں سے درپیش خطرات سے متعلق معلومات کے حامل پوسٹرز دکھائے گئے ہیں۔ [زرق خان]

فوج کے مطابق، کارکنان نے باجوڑ کو مکمل طور پر غیر تباہ شدہ گولہ بارود سے پاک کر دیا ہے، جبکہ کارکنان نے ضلع مہمند کے 14 میں سے 13 مربع کلومیٹر کو کلیئر کر دیا ہے۔

کارکنان نے ضلع خیبر کے 12 میں سے 8 مربع کلومیٹر، ضلع اورکزئی کے 6 میں سے 5 مربع کلومیٹر، اور ضلع کرم کے 6 میں سے 4 مربع کلومیٹر کو کلیئر کر دیا ہے۔

عسکری عہدیداران اور سیکیورٹی تجزیہ کاروں کے مطابق، جنوبی اور شمالی وزیرستان کے علاقوں، جہاں دہشتگردی کے بدترین برسوں میں بارودی سرنگوں کی وجہ سے سب سے زیادہ اموات ہوئیں، میں حال ہی میں ٹی ٹی پی عسکریت پسندوں کے دوبارہ زور پکڑنے کی وجہ سے بارودی سرنگیں صاف کرنے کا کام نسبتاً سبک رفتاری سے چل رہا ہے۔

حکام نے جنوبی وزیرستان کے 62 میں سے 15 مربع کلومیٹر اور شمالی وزیرستان کے 37 میں سے 4 مربع کلومیٹر کو کلیئر کیا ہے۔

بڑھتی ہوئی تعداد

باشندوں اور بین الاقوامی امداد کے اداروں کے مطابق، بارودی سرنگوں کی وجہ سے شہریوں، بالخصوص بچوں اور نفاذِ قانون کے اہلکاروں کی اموات کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔

جون میں اقوامِ متحدہ کے بچوں کے فنڈ (یو این آئی سی ای ایف) نے پاکستان کے متعدد حصوں میں بارودی سرنگوں سے ہونے والے دھماکوں کے تواتر میں اضافے پر خدشات کا اظہار کیا، جس کے نتیجہ میں بچوں کی اموات اور زخمی ہونے کے واقعات ہوئے۔

"پاکستان میں یو این آئی سی ای ایف کی نمائندہ عائدہ گِرمہ نے کہا، "کسی بچے کو بارودی سرنگوں یا جنگ کے دھماکہ خیز باقیات کا شکار نہیں بننا چاہیئے، بچے بطورِ خاص ایسے غیر تباہ شدہ گولہ بارود اور بارودی سرنگوں سے خطرہ کی زد میں ہیں ، جنہیں وہ کھلونا سمجھ سکتے ہیں۔"

انہوں نے کہا کہ یو این آئی سی ای ایف بارودی سرنگوں سے درپیش خطرہ کی تعلیم میں حکومتِ پاکستان کی حمایت جاری رکھے گا تاکہ بحران سے متاثرہ علاقوں میں مقیم خاندانوں اور بچوں میں بارودی سرنگوں اور دھماکہ خیز مواد سے درپیش خطرات سے متعلق آگاہی پیدا کی جا سکے۔

بارودی سرنگیں ہٹانے کے لیے مہم چلانے والے ایک جنوبی وزیرستان اساسی فعالیت پسند حیات پریگھل نے کہا کہ قبائلی اضلاع میں خواتین اور نوعمر بچے پہاڑی اور غیر آباد علاقوں میں مویشی چراتے اور گھر لے جانے کے لیے جلانے کی لکڑی لاتے ہیں، لہٰذا بارودی سرنگوں کی زد میں ہوتے ہیں۔

پریگھل نے کہا، "ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ حکومت قبائلی اضلاع میں باقاعدہ سائنسی خطوط پر بارودی سرنگیں صاف کرنے کے ایک آپریشن کا آغاز کرے اور بارودی سرنگوں کے دھماکوں میں جاںبحق یا زخمی ہونے والوں کے خاندانوں کی تلافی کرے۔"

ان اضلاع سے پارلیمنٹیرئنز نے اپنے ایوانوں میں اس مسئلہ کو اٹھایا ہے، جبکہ حقوق کے فعالیت پسندوں نے علاقہ سے بارودی سرنگیں ہٹانے کے لیے حکومت پر دباؤ ڈالنے کے لیے مہمات چلائی ہیں۔

جنوبی وزیرستان سے ایک سینیٹر دوست محمد خان، جنہوں نے بارودی سرنگوں کے مسائل پر حال ہی میں وزیرِ دفاع کی توجہ حاصل کی، نے کہا، "بارودی سرنگیں صاف کرنے میں ناکامی کی وجہ سے قبائلی علاقوں کے سینکڑوں رہائشی اپنی زندگیاں کھو چکے ہیں اور متعدد جسمانی طور پر معذور ہو چکے۔"

انہوں نے کہا، "میں نے پارلیمان میں اپنی زندگیاں کھو بیٹھنے والوں کے خاندانوں کے لیے [5 ملین روپے، تقریباً 27,865 ڈالر] اور زخمی ہو کر معذور ہو جانے والوں کے لیے 2 ملین روپے [تقریباً 11,146 ڈالر] کے تلافی پیکیج کا مطالبہ کیا۔"

انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ بارودی سرنگوں سے جاںبحق ہو جانے والوں کے رشتہ داروں کو ملازمتیں دے۔

یو این مائین ایکشن سروس (یو این ایم اے ایس) کے مطابق، 1988 سے اب تک ہمسایہ افغانستان میں تقریباً 41,000 افغان شہری بارودی سرنگوں اور غیر تباہ شدہ گولہ بارود سے جاںبحق ہو چکے ہیں ۔

متاثرین میں سے دو تہائی سے زائد بچے تھے، جن میں سے متعدد نے کھیلتے ہوئے یہ مہلک آلات دیکھے اور اٹھا لیے۔

سویئتس نے علاقہ میں بارودی سرنگیں متعارف کرائیں

علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ 1979 میں سویئت۔افغان جنگ چھڑنے کے بعد سے قبائلی علاقوں میں بارودی سرنگوں سے ایک شدید مسئلہ درپیش ہے۔

جنوبی وزیرستان سے ایک بزرگ سیاسی فعالیت پسند شیر عالم محسود نے کہا، "1980 کی دہائی میں سویت مخالف جنگجوؤں کو سرحد پار کرنے سے روکنے کے لیے سویت جنگی ہوائی جہازوں نے شمالی وزیرستان سمیت سرحدی اضلاع میں سینکڑوں بارودی سرنگیں پھینکیں۔"

انہوں نے کہا، "بعد ازاں 2004 کے بعد سے قبائلی اضلاع میں القاعدہ اور اس کے اتحادی ٹی ٹی پی اور دیگر کثیر قومی گروہوں نے سیکیورٹی اہلکاروں کو ہدف بنانے کے لیے بارودی سرنگوں کا استعمال کیا۔"

عسکری عہدیدار نے کہا کہ ٹی ٹی پی عسکریت پسندوں نے قبائلی علاقہ جات کے چند علاقوں میں بارودی سرنگیں نصب کیں اور جب سیکیورٹی فورسز نے 2014 میں ان کے خلاف آپریشن ضربِ عضب کا آغاز کیا، جس نے انہیں افغانستان فرار ہونے پر مجبور کر دیا، تو غیر تباہ شدہ گولہ بارود پیچھے چھوڑ گئے۔

انہوں نے کہا، "ہو سکتا ہے اب سیلاب اور ببوطِ ارض نے متعدد بارودی سرنگوں کو اس مقام سے ہٹا دیا ہو جہاں انہیں اولاً نصب کیا گیا تھا۔ اور باشندے، بطورِ خاص بچے اور عورتیں بارودی سرنگوں کی شناخت نہیں کر سکتے۔"

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا

تبصرے 0

تبصرہ کی پالیسی * لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے 1500 / 1500