دہشتگردی

پاکستان کو ٹی ٹی پی سے بڑھتے ہوئے خطرات

زرق خان

image

اگست میں کراچی میں پولیس اہلکار ایک شاہراہ پر سیکیورٹی فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔ [زرق خان]

اسلام آباد – افغانستان میں افغان طالبان کے قبضہ کے بعد، پاکستانی حکام کاروائیاں تیز تر کر رہے ہیں، جس سے متعلق مشاہدین کا کہنا ہے کہ تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے لیے اپنی رسائی کو وسعت دینے کے سلسلہ میں حوصلہ افزائی کا باعث ہو سکتا ہے۔

ٹی ٹی پی نے اگست میں ایک بیان میں 32 دہشتگرد حملوں کی ذمہ داری قبول کی جن میں سے زیادہ تر نفاذِ قانون کے اہلکاروں پر ہوئے۔ اس دعویٰ کی آزادانہ طور پر تصدیق نہ ہو سکی۔

اس گروہ نے جولائی میں 26 حملوں کی ذمہ داری بھی قبول کی۔

5 ستمبر کو ٹی ٹی پی نے کوئٹہ میں ایک خود کش بم حملے کی ذمہ داری قبول کی جس میں چار پاکستانی فوجی شہید اور کم از کم 18 دیگر زخمی ہو گئے۔

ٹی ٹی پی رہنماؤں بشمول چوٹی کے رہنما مفتی نور ولی محسود نے جولائی میں سی این این کے ساتھ ایک ٹیلی ویژن انٹرویو کے دوران افغان طالبان کے اقتدار میں لوٹنے کی ستائش کی ہے۔

2019 میں حکومتِ امریکہ نے محسود کو عالمی دہشتگرد قرار دیا تھا اور اس سے اگلے سال اقوامِ متحدہ نے القائدہ کے ساتھ تعلقات کی وجہ سے ان پر پابندی عائد کر دی، جن کی وہ تردید کرتے ہیں۔

انہوں نے اس امر کی بھی تردید کی کہ ٹی ٹی پی افغان طالبان کے ہمراہ لڑ رہی ہے۔

انہوں نے ایک مصلح کے ذریعے سی این این کو بتایا، "ہماری لڑائی صرف پاکستان میں ہے اور ہم پاکستانی سیکیورٹی فورسز کے ساتھ جنگ میں ہیں۔"

تاہم محسود نے تسلیم کیا کہ یہ گروہ پاکستان کے قبائلی علاقہ جات کا انتظام اپنے ہاتھ میں لینے اور انہیں "خودمختار" کرنے کے خواہاں ہیں۔

مستحکم روابط

سیکیورٹی تجزیہ کاوروں کا کہنا ہے کہ ممکنہ طور پر افغان طالبان کے علاقہ حاصل کرنے کے ساتھ، ٹی ٹی پی کی واپسی کے لیے حوصلہ افزائی ہو رہی ہے۔

کراچی میں انسدادِ دہشتگردی کے ایک پولیس اہلکار نے کہا، "بلا شبہہ افغانستان میں طالبان کے تسلط نے ٹی ٹی پی کا حوصلہ بلند کیا ہے اور گروہ کی قوت میں اضافہ کیا ہے۔"

انہوں نے کہا کہ گزشتہ چند ماہ میں تشدد میں اضافہ تو صرف ابتدا ہے۔ انہوں نے پیش گوئی کرتے ہوئے کہا، "پاکستان میں دہشتگرد حملوں میں اضافہ ہو گا۔"

ٹی ٹی پی نے پاکستانی سیکیورٹی فورسز اور شہریوں پر سینکڑوں حملے کئے۔

16 دسمبر، 2014 کو جب ٹی ٹی پی دہشتگردوں نے پشاور میں آرمی پبلک سکول پر حملہ کیا تو 150 سے زائد پاکستانی، جن میں زیادہ تر بچے تھے، جاںبحق ہو گئے۔ 110 دیگر زخمی ہوئے۔

پاکستانی فوج نے قبائلی علاقہ جات میں کاروائیاں کرنے والے عسکریت پسند گروہوں کے خلاف عسکری آپریشن کی صورت میں ردِ عمل دیا جس کی وجہ سے ٹی ٹی پی افغانستان جانے پر مجبور ہو گئی، جہاں افغان طالبان نے ان کو پناہ دی۔

تاہم افغان اور اتحادی افواج نے افغانستان میں متعدد ٹی ٹی پی رہنماؤں کو ہدف بنایا اور انہیں قتل کیا۔

تسلط کے بعد سے افغان طالبان نے ہزاروں قیدیوں کو رہا کیا، جن میں سے اکثریت— ٹی ٹی پی رہنماؤں اور دیگر ارکان سمیت خطرناک عسکریت پسندوں کی تھی۔

ان میں ٹی ٹی پی کے سابق ڈپٹی چیف مولوی فقیر محمد ہیں، جنہوں نے ضلع باجوڑ میں ٹی ٹی پی کی قیادت کی اور القاعدہ رہنما ایمن الزواہری کے ساتھ قریبی تعلقات کے حامل ہیں۔

افغان پولیس اور انٹیلی جنس اہلکاروں نے 2013 میں محمّد کو صوبہ ننگرہار سے پکڑا۔

ٹی ٹی پی نے 16 اگست کو محمّد کی رہائی کے بعد ان کی ایک تصویر جاری کی اور "انہیں اور متعدد دیگر عسکریت پنسدوں کو ان کی رہائی پر" مبارکباد دی۔

جاری کریک ڈاؤن

درایں اثناء، پاکستان میں افواج ٹی ٹی پی کے خلاف آپریشن تیز تر کر رہی ہیں۔

8 ستمبر کو خیبر پختونخوا پولیس کے شعبہٴ انسدادِ دہشتگردی (سی ٹی ڈی) نے ضلع ہنگو میں ایک آپریشن کے دوران دہشتگردی کے مختلف واقعات میں ملوث ہونے کے الزام میں ٹی ٹی پی کے نو عسکریت پسندوں کو گرفتار کیا۔

پنجاب پولیس کے سی ٹی ڈی نے 4 ستمبر کو اعلان کیا کہ انہوں نے صوبہ بھر میں انٹیلی جنس پر مبنی 45 وسیع آپریشنز کیے اور ٹی ٹی پی سمیت کالعدم تنظیموں کے پانچ ارکان کو گرفتار کر لیا۔

24 اگست کو پولیس نے کراچی کے علاقہ ابراہیم حیدری میں ایک چھاپہ کے دوران ٹی ٹی پی کے دو عسکریت پسند ملزمان کو گرفتار کر لیا۔

جون میں سندھ پولیس کے سی ٹی ڈی نے اپنی مطلوب دہشتگردوں اور عسکریت پسند ملزمان کی ایک فہرست ، ریڈ بک، کا تازہ ترین شمارہ شائع کیا۔

اس فہرست میں 23 ٹی ٹی پی عسکریت پسندوں کے نام شامل ہیں، جن میں سے متعدد کے بارے میں مانا جاتا ہے کہ وہ 2014 میں پاک فوج کے آپریشن ضربِ عضب کے بعد مشرقی افغانستان میں پناہ لیے ہوئے ہیں۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا

تبصرے 0

تبصرہ کی پالیسی * لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے 1500 / 1500