معیشت

اقوامِ متحدہ، امریکہ کی مویشیوں کی پہل کاری کا مقصد ضم شدہ اضلاع میں زراعت کا احیاء ہے

از ظاہر شاہ شیرازی

image

پھلوں کے پاکستانی تاجر 31 اگست 2019 کو پشاور میں ایک پھلوں کی منڈی میں خربوزوں کو ترتیب سے رکھتے ہوئے۔ [عبدالمجید/اے ایف پی]

پشاور -- خیبرپختونخوا (کے پی) کے نئے ضم شدہ قبائلی اضلاع کے باشندے ایک بین الاقوامی پہل کاری کا خیر مقدم کر رہے ہیں جس کا مقصد خطے کی زرعی سرگرمیوں کا احیاء ہے۔

امریکی ادارہ برائے بین الاقوامی ترقی (یو ایس ایڈ) اور اقوامِ متحدہ کی تنظیم برائے خوراک و زراعت (ایف اے او) جنوبی وزیرستان، شمالی وزیرستان اور خیبر کے اضلاع میں 13 کلسٹر پر مبنی پیکنگ کے سائبان، پانچ پھلوں اور سبزیوں کی بولی کے سائبان، اور تین مویشی منڈیاں تعمیر کرنے کے لیے کام کر رہے ہیں۔

ایف اے او نے کہا کہ یہ کوشش ناصرف ضم شدہ اضلاع میں سال بھر پیداوار کے لیے ویلیو چین ڈویلپمنٹ اور بہتر زرعی روایات میں معاونت کرے گی بلکہ پھلوں، سبزیوں اور مویشیوں کے انتظام کے لیے ایک نموپذیر ماحول بھی فراہم کرے گی۔

پانچ منڈیوں کے ڈھانچے -- بشمول ایک مویشی منڈی، دو پھلوں اور سبزیوں کی پیکنگ کے سائبانو٘، اور کچھ پھلوں اور سبزیوں کی بولی کے سائبانوں -- کا افتتاح 27 ستمبر کو جنوبی وزیرستان میں کیا گیا تھا۔

image

ضلع خیبر کے ڈپٹی کمشنر اسلم وزیر 24 جولائی کو باڑہ میں زراعت اور مویشی پالنے کے پہلے مرکز کا افتتاح کرتے ہوئے۔ [اقوامِ متحدہ]

image

باغبانی کی پیداوار کے لیے ایک نئی افتتاح کردہ منڈی 24 جولائی کو باڑہ میں دکھائی گئی ہے۔ [اقوامِ متحدہ]

29 ستمبر کو ایک ویڈیو پیغام میں ایف اے او کے ایک بین الاقوامی رابطہ کار، ولید مہدی نے کہا، "منڈی کے ڈھانچے زرعی پیداوار کی ویلیو چین کو برقرار رکھنے اور اس میں اضافہ کرنے کے لیے تجارتی زرعی سرگرمیوں کی معاونت کا حصہ ہیں۔"

انہوں نے کہا، "ایف اے او یو ایس ایڈ کی جانب سے سرمائے کی فراہمی کے ساتھ ایک منصوبے کے تحت کے پی کے نئے ضم شدہ اضلاع میں 42،763 گھرانوں کے لیے معاش اور تجارتی زراعت کی بحالی میں معاونت کر رہا ہے۔"

13 سائبانوں میں سے پہلے کا افتتاح 24 جولائی کو ضلع خیبر کی تحصیل باڑہ میں کیا گیا تھا۔

اُس وقت پاکستان میں یو ایس ایڈ کی مشن ڈائریکٹر جولی کوئنن نے کہا تھا، "ضم شدہ اضلاع میں واپس آنے والے کسانوں کو کئی چیلنجز درپیش ہیں، اور ان میں سے ایک ان کے علاقوں میں باقاعدہ منڈیوں کا نہ ہونا ہے۔"

امریکی سفارت خانے کے پریس بیان کے مطابق، انہوں نے کہا، "ڈھانچے پھلوں، سبزیوں اور مویشیوں کی سال بھر فروخت کو یقینی بنائیں گے، پیکنگ کو بہتر بنائیں گے، اور کسانوں کو کاروبار کے لیے آسان ماحول فراہم کریں گے۔"

بیان میں کہا گیا، "منڈیوں کی تعمیر خیبرپختونخوا کے ضم شدہ اضلاع میں واپس لوٹ رہی عارضی طور پر بے گھر ہونے والی آبادی کے لیے معاش کو بہتر بنانے اور منڈی کے نظاموں کو بحال کرنے کے لیے بحالی اور برقراری کی فنڈنگ میں 10 ملین سے زائد رقم کی ایک مشترکہ پہل کاری کا ایک جزو ہے۔"

پاکستان میں ایف اے او کی نمائندہ، مینا دولتشاہی نے کہا، "منصوبے کا مقصد کووڈ-19 کے باوجود، مخصوص علاقوں میں زراعت پر مبنی معاش کی بحالی اور بہتری اور خوراک کی تیاری کے دوبارہ حصول کے ذریعے غربت اور معاشی عدم برابریوں میں کمی کے ذریعے خطے کے امن اور ترقی میں نمایاں طور پر حصہ ڈالنا ہے۔"

تجارت، ذرائع معاش میں اضافہ کرنا

افغانستان کے ساتھ ملحقہ سرحد کے ساتھ ساتھ بسنے والے قبائل ایک طویل عرصے سے اپنے ذرائع معاش کے لیے تجارت، زراعت اور مویشی پالنے پر انحصار کرتے تھے -- جو کہ سبھی عسکریت پسندی سے متاثر ہوئے تھے۔

اب، نئے مراکز دہائیوں کی دہشت گردی سے رکی ہوئی معیشت کو فوری طور پر شروع کر کے، تجارت کے لیے سال بھر کی سہولیات فراہم کریں گے۔

ضلع خیبر سے قومی اسمبلی کے ایک سابق رکن، الحاج شاہ جی گُل آفریدی نے کہا، "قبائلی اضلاع، خصوصاً خیبر میں مراکز کا قیام، ناصرف مقامی تجارت میں بلکہ ہمسایہ افغانستان کے ساتھ تجارت میں بھی اضافہ کرنے کے لیے ایک بنیاد کا کام دے گا۔"

ان کا کہنا تھا کہ طورخم بارڈر کراسنگ اور درۂ خیبر ان مرکزی راستوں میں سے ایک کی نمائندگی کرتے ہیں جن سے مویشی اور زرعی مصنوعات پاکستان اور افغانستان کے درمیان آتی جاتی ہیں۔

انہوں نے کہا، "تجارت کا احیاء اور ترقی بہت اہم ہے کیونکہ بے گھر ہونے والے زیادہ تر قبائلی اب اپنے دیہاتوں میں واپس لوٹ آئے ہیں ۔۔۔ ان کی زندگیوں کو بحال کرنا ہے، اور پہل کاری وہ مقصد پورا کرے گی۔"

ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنوبی وزیرستان فہید اللہ خان نے کہا کہ ضلع میں حساس گروہوں کی معاونت بروقت اور قابلِ تعریف ہے۔

انہوں نے کہا، "انضمام نے دور دراز علاقوں کے لیے ترقی کے نئے دروازے کھولے ہیں۔ اس سے پہلے، زیادہ تر مویشی اور زرعی تجارت غیر منظم ہوتی تھی [اور] دیہاتی میلوں ٹھیلوں میں عارضی کھوکھوں میں ہوتی تھی ۔۔۔ ہمیشہ سخت موسم اور عدم تحفظ کی زد میں رہتی تھی۔"

ان کا کہنا تھا، "مگر اب کسانوں اور بیوپاریوں کے پاس سائبان اور محفوظ گروہ ہوں گے، جو انہیں زیادہ دیر تک قیام کرنے اور اپنا کاروبار کرنے [کے قابل] بنائیں گے۔"

وادیٔ تیراہ سے تعلق رکھنے والے ایک کسان، اکرام آفریدی نے کہا، "یہ سائبان اور مراکز بڑے گروہوں اور منظم تجارت کے لیے ایک بنیادی جگہ کا کام دیں گے جہاں زرعی اجناس کسانوں کے لیے زیادہ کمائی کریں گی۔"

انہوں نے کہا، "اس طرح، معاشی حالات بہتر ہو جائیں گے اور اس سے مستقل امن بھی بحال ہو گا، کیونکہ اس سے پہلے دہشت گردی اور عسکریت پسند سرگرمیوں نے ان کے ذرائع معاش کو تباہ کر دیا تھا۔"

ان کا کہنا تھا، "جنگ کے دنوں میں، عسکریت پسند ہی واحد خریدار تھے اور وہ فصلوں اور مویشیوں کے لیے اپنی مرضی کی قیمت طے کرتے تھے، مگر اگر یہ گروہ منظم ہو جاتے ہیں، تو مقامی تاجروں اور کسانوں کو فائدہ ہو گا۔"

وانا، جنوبی وزیرستان سے تعلق رکھنے والے ایک قبائلی صحافی، شاذالدین وزیر نے کہا، "یہ دیکھ کر خوشی ہوئی کہ قبائل اپنے معاش کو بحال کرنے کے لیے بیج، کھادیں، بکریاں اور مویشی حاصل کر رہے ہیں۔"

انہوں نے کہا، "ان منصوبوں کے طویل مدتی ہونے [پر توجہ دینے] نیز شفاف ہونے کی اشد ضرورت ہے۔"

کیا آپ پاکستان کے مستقبل سے متعلق پرامید ہیں؟
تبصرہ
تبصرہ کی پالیسی * لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے 1500 / 1500