https://pakistan.asia-news.com/ur/articles/cnmi_pf/features/2019/12/02/feature-01
نوجوان |

کے پی کا زرعی پروگرام زدپذیر قبائلی نوجوانوں کو روزگار فراہم کرنا چاہتا ہے

اشفاق یوسف زئی

image

خیبر پختونخواہ کے وزیراعلی محمود خان، 12 نومبر کو باجوڑ ڈسٹرکٹ میں ایک زرعی پروگرام کا افتتاح کرنے کے بعد، عوامی جلسے سے خطاب کر رہے ہیں۔ [پاکستان تحریکِ انصاف]

پشاور -- خیبر پختونخواہ (کے پی) کی حکومت نے ایک نیا قدم اٹھایا ہے جس کا مقصد، انضمام شدہ قبائلی اضلاع میں زدپذیر نوجوانوں کو زراعت میں ملازمتیں فراہم کرنا ہے۔

کے پی کے وزیراعلی محمود خان نے 12 نومبر کو باجوڑ ڈسٹرکٹ میں چھہ منصوبوں کا آغاز کیا جس میں زیتون کی کاشت کے لیے زمین مختص کرنا اور اس کے ساتھ ہی ڈیری کے کاروباروں کو دودھ ٹھنڈا کرنے کے ٹینک فراہم کرنا، تیل نکالنے کے لیے زیتون کے بیج فراہم کرنا اور انضمام شدہ قبائلی اضلاعمیں کم قیمت پر گندم کے بیج، مرغیاں اور مویشی فراہم کرنا شامل ہے۔

اس قدم پر، جو وزیراعظم کا قومی زرعی ہنگامی پروگرام کے نام سے جانا جاتا ہے، میں پانچ سالوں کے دوران تقریبا 44.5 بلین روپے (286 ملین ڈالر) خرچ کیے جائیں گے۔

image

شمالی وزیرستان کا ایک قبائلی شخص، فوجی آپریشن کے آغاز کے بعد، 19 جون 2014 کو اپنی گائے کو فوجی چیک پوائنٹ سے گزار رہا ہے۔ [اے مجید/ اے ایف پی]

انضمام شدہ اضلاع کے ایک زرعی افسر غفار خان نے کہا کہ حکومت کے پیکج سے مقامی معیشت کو فروغ ملے گا اور زدپذیر نوجوانوں کے لیے مواقع پیدا ہوں گے۔

زرعی پروگرام کے تحت، کارکن 8,000 ایکڑ کی خالی زمین کو باغات میں تبدیل کریں گے اور دیگر 28,000 میں دوسری اجناس کاشت کریں گے۔ یہ منصوبہ زرعی مقاصد کے لیے ماہی گاہیں بنائے گا اور آب پاشی کا نظام قائم کرے گا۔

علاقے میں آب پاشی کے لیے 327 ٹیوب ویلوں کو بنانا، ایک ملین مویشیوں کو ویکسین دینا اور 30 ڈیری فارم قائم کرنا بھی اس منصوبے کا حصہ ہے۔

شمالی وزیرستان کے ایک شہری احسان علی کے مطابق، توقع ہے کہ اس منصوبے سے نوجوانوں کے لیے اتنا کام پیدا ہوگا کہ وہ اپنی گزر اوقات کر سکیں جس سے اس بات کا امکان کم ہو جائے گا کہ دہشت گرد انہیں بہلا پُھسلا لیں گے۔

انہوں نے کہا کہ "ہم اس بات پر شکرگزار ہیں کہ ترقیاتی سرگرمیاں مقامی شہریوں کو کام دیں گی اور عسکریت پسندوں کو انہیں دہشت گردی کے کاموں کے لیے بھرتی کرنے کے امکانات کم ہو جائیں گے"۔

نوجوانوں کو ملازمیتں فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ، توقع ہے کہ حکومت کا پروگرام علاقے کے زرعی شعبہ کے لیے انتہائی ضروری مدد فراہم کرے گا۔

کے پی کے وزیرِ زراعت محب اللہ خان نے کہا کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ قبائلی علاقوں میں ہر قسم کی اجناس پیدا کرنے کی بہت زیادہ صلاحیت موجود ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس پروگرام میں شامل کسانوں کو مفت بیج فراہم کیے جائیں گے۔

'آمدن کے مزید مواقع'

باجوڑ کے ایک شہری، محمد رئیس نے کہا کہ "مقام شہری اس پروگرام پر انتہائی خوش ہیں جس کے تحت قبائلی علاقوں میں بنجر زمین کو کاشت کیا جائے گا، اور یہ نوجوانوں کو کھیتی باڑی میں مصروف کرے گا اور انہیں منفی سرگرمیوں میں مشغول ہونے سے روکے گا

رئیس جن کی عمر 55 سال ہے اور ان کے پاس 30 ایکڑ سے زیادہ زمین ہے جس پر وہ کئی سالوں تک کاشت کاری نہیں کر سکے تھے جب تک کہ عسکری آپریشن نے 2014 میں عسکریت پسندوں کو علاقے سے نکال نہیں دیا اور بے گھر ہو جانے والے لوگ اپنے گھروں کو واپس نہیں آ گئے۔

رئیس نے کہا کہ "ماضی میں، عسکریت پسندوں نے بے روزگار نوجوانوں سے فائدہ اٹھایا جنہیں بھرتی کرنے کے بعد برین واش کیا گیا اور عوامی جگہوں پر خودکش دھماکے کرنے کے لیے بھیج دیا گیا"۔

باجوڑ ڈسٹرکٹ کے 39 سالہ علی خان نے کہا کہ یہ پروگرام نوجوانوں اور اس کے ساتھ ہی زمینداروں اور کسانوں کے لیے امید کی ایک کرن ہے کہ وہ اپنی زمین کو استعمال کرسکیں گے اور امن کے لیے راہ ہموار کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ اگر نوجوان کھیتوں میں کام کرنے میں مصروف ہوں گے تو اس بات کا کوئی امکان نہیں کہ دہشت گردی واپس آ سکے گی۔

علی نے کہا کہ ایسی سرگرمیوں کو شروع کرنے کا یہ بالکل ٹھیک وقت ہے کیونکہ علاقے سے عسکریت پسندوں کا خاتمہ ہو چکا ہے اور علاقے میں امن ہے اور وہ مثبت سرگرمیوں کے لیے تیار ہے۔

زرعی یونیورسٹی پشاور کے ایک ماہرِ معیشت بلال خان نے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ یہ منصوبہ حکومت کی طرف سے دہشت گردوں کی طرف سے بھرتی کی کوششوں کا ناکام بنانے کے لیے ایک اچھی حکمتِ عملی ہے۔

انہوں نے کہا کہ "یہ آمدن کے مزید مواقع فراہم کرے گا اور وہ (نوجوان) دہشت گردوں کے ساتھ شامل نہیں ہوں گے۔ ایک پائیدار امن قائم ہو جائے گا"۔

انہوں نے مزید کہا کہ "یہ پروگرام ایسا معاشی انقلاب لائے گا جو بچوں کو صحت اور تعلیم کی بہتر سہولیات حاصل کرنے کے قابل بنائے گا"۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا
0
نہیں
تبصرے 0
تبصرہ کی پالیسی
Captcha