https://pakistan.asia-news.com/ur/articles/cnmi_pf/features/2020/08/03/feature-02
معیشت

پاکستانی اور افغان عوام نے درہِ خیبر اقتصادی راہداری کی منظوری کو خوش آمدید کہا ہے

عدیل سید

image

طورخم بارڈر کے قریب ایک کھلے علاقے میں کنٹینروں سے لدے ہوئے ٹرک 19 جون کو سرحد پار کر کے افغانستان جانے کے لیے کھڑے ہیں۔ [بہ شکریہ ضیاء الحق سرحدی]

پشاور -- پاکستانی اور افغان شہری دونوں ہی اسلام آباد کی طرف سے درہِ خیبر اقتصادی راہداری (کے پیک)کی منظوری دیے جانے کے فیصلے کا خیرمقدم کر رہے ہیں۔

ایکسپریس ٹریبیون نے خبر دی ہے کہ قومی اقتصادی کونسل کی ایگزیکٹیو کمیٹی نے 16 جولائی کو کئی منصوبوں کی منظوری دی جس میں کے پیک بھی شامل ہے۔

اس منصوبے کے تحت پشاور اور طورخم کے درمیان 48 کلومیٹر طویل چار لائنوں پر مبنی ایکسپریس وے جون 2024 تک منظور ہو جائے گی جو کہ پاکستان اور افغانستان کو درہِ خیبر کے ذریعے وسطی ایشیاء سے جوڑ دے گی۔ یہ بات عالمی بینک نے بتائی جس نے گزشتہ دسمبر میں اس پہل کاری کے لیے 406.6 ملین ڈالر (68 بلین روپے) فراہم کرنے پر رضامندی ظاہر کی تھی۔

عالمی بینک نے گزشتہ اکتوبر میں جاری کیے جانے والے ایک بیان میں کہا کہ توقع ہے کہ کے پیک سے مقامی اقتصادی مواقع پیدا ہوں گے اور خیبر ڈسٹرکٹ میں پاکستانی شہریوں کے لیے ملازمتیں پیدا ہوں گی۔

image

جون کے مہینے میں افغانستان جانے والے کنٹینروں سے لدے ہوئے ٹرک طورخم کی بارڈر کراسنگ پر قطار میں کھڑے ہیں۔ [بہ شکریہ ضیاءالحق سرحدی]

ریڈیو پاکستان کے مطابق، وفاقی وزیر برائے مذہبی امور پیر نور الحق قادری نے گزشتہ جون میں پیشن گوئی کی تھی کہ اس منصوبے سے اقتصادی انقلاب آ جائے گا۔

پاکستان، افغانستان اور وسطی ایشیاء کے درمیان تجارت کے لیے پاکستان ایوان ہائے صنعت و تجارت کی فیڈریشن کے کنوینر شاہد شنواری نے کہا کہ "یہ منصوبہ علاقائی تجارت میں ایک مثبت تبدیلی لانے کے لیے انتہائی اہم ہے"۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس سے نئی انضمام شدہ ڈسٹرکٹس میں صنعت و تجارت کا ایک نیا دور شروع ہو جائے گا، جنہیں عسکریت پسندوں کی طرف سے علاقے میں تباہی پھیلا دینے کے بعد اقتصادی استحکام کی اشد ضرورت ہے۔

شنواری نے کہا کہ "اس منصوبے کا علاقے کی معیشت پر انتہائی دور رس اثر ہو گا کیونکہ اس میں نہ صرف پاکستان اور افغانستان کے درمیان تجارتی تعلقات بہتر بنانے کی صلاحیت ہے بلکہ یہ مرکزی اور وسطی ایشیا میں تاریخی تعلق کے بھی بحال کر سکتا ہے"۔

انہوں نے کہا کہ اس منصوبے کو عملی جامہ پہنانے سے پاکستان اور افغانستان کے درمیان پورے سرحدی علاقے کو فائدہ پہنچے گا کیونکہ یہ دونوں ملکوں کے درمیان تجارت کو اہمیت دے گا۔

شنواری نے اس پیش رفت کو خوش آمدید کہا اور اس منصوبے کی بروقت تکمیل پر زور دیا تاکہ علاقہ اس سے فائدہ اٹھا سکے۔

لاکھوں لوگوں کو فائدہ

سرحد ایوانِ صنعت و تجارت کے سینئر نائب صدر عبدل جلیل جان نے کہا کہ "کے پیک کی منظوری نئی انضمام شدہ ڈسٹرکٹس کی ترقی اور علاقے میں کاروبار کے فروغ کے لیے بہت اچھی پیشن گوئی ہے"۔

انہوں نے کہا کہ اس منصوبے سے پورے علاقے کے لاکھوں باسیوں اور بہت سے ممالک کو فائدہ پہنچے گا۔

جان نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان دونوں ہی دہشت گردی سے متاثرہ ملک ہیں اور ایسے ترقیاتی منصوبوں کا آغاز ایک مثبت تبدیلی لانے کے لیے وقت کی ضرورت ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ کاروباری برادری اس پہلکاری کو مکمل طور پر خوش آمدید کہتی ہے اور وہ ایک بہتر مستقبل اور علاقے میں تجارت کی بہتری کے لیے اپنی امیدیں اس سے وابستہ کر رہی ہے۔

افغانستان کے تاجر اور جلال آباد، افغانستان کی ایک انجمنِ تاجران کے صدر حاجی زلمے نے بھی کے پیک کی منظوری کو خوش آمدید کہا اور اس امید کا اظہار کیا کہ اس منصوبے سے پاکستان اور افغانستان اور پورے علاقے میں تجارت کو فروغ ملے گا۔

انہوں نے کہا کہ علاقے میں مواصلات کے رابطوں کو بہتر بنانے سے صدیوں پرانی تاریخی تجارت کو بحال کرنے اور کاروباروں کے لیے نئے اقتصادی منصوبے شروع کرنے کے لیے مزید مواقع تخلیق کرنے میں مدد ملے گی۔

زلمے نے کہا کہ کاروباری مواقع پیدا کرنا ملازمتیں پیدا کرنے کے لیے بہترین آلہ ہے اور علاقے کے رہائشیوں کو ایسی پہلکاریوں کی ضرورت ہے تاکہ وہ دہشت گردی کے باعث پیدا ہونے والی دیرینہ کسادبازاری سے باہر آ سکیں۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا

تبصرے 1
تبصرہ کی پالیسی * لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے 1500 حروف باقی ہیں (حد 1500 حروف)

یہ ایک بہت اچھا منصوبہ ہے۔ قبائلی علاقوں میں معاشی آسودہ حالی لانا ایک ترجیح ہونا چاہیئے۔

جواب