معیشت

افغان وفد کی پاکستان میں تجارتی مواقع کی تلاش

عالم زیب خان

image

27 اکتوبر کو اسلام آباد میں قومی اسمبلی کے سپیکر اسد قیصر پاکستان- افغانستان ٹریڈ اینڈ انوسٹمنٹ فورم 2020 کی اختتامی نشست سے خطاب کر رہے ہیں۔ [عالم زیب خان]

اسلام آباد – منگل (27 اکتوبر) کو اختتام پذیر ہونے والے پاکستان-افغانستان انوسٹمنٹ اینڈ ٹریڈ فورم 2020 جیسی کاوشوں کے ذریعے پاکستان اور افغانستان کے عوام اور حکومتون کے درمیان تعلقات مستحکم ہو رہے ہیں۔

اس فورم میں دونوں ملکوں نے تعمیر، ٹیکسٹائلز، کان کنی، زراعت، مویشی بانی، طبی سیاحت، دواسازی، پلاسٹکس اور بنکاری سمیت متعدد شعبہ جات میں پاکستانی-افغان تجارت اور سرمایہ کاری کو فروغ دینے کے لیے 140 سے زائد تجاویز کو اپنایا۔

پاکستانی قومی اسمبلی کے سپیکر اسد قیصر نے ان کاوشوں کا آغاز کیا، جس کے بعد افغان وولیسی جرگہ کے سپیکر میر رحمٰن رحمانی نے چھ روزہ دورہٴ پاکستان کیا۔ انہوں نے 23 اکتوبر کو شروع ہونے والے دورہ میں عہدیداران، افسران، کاروباری افراد اور تاجروں کے ایک وفد کی قیادت کی۔

پاکستانی وزیرِ اعظم عمران خان نے 26 اکتوبر کو اس دو روزہ فورم کا افتتاح کرتے ہوئے کہا کہعلاقائی امن و آسودگی کے لیے افغانستان میں امن ناگزیر ہے۔

image

23 اکتوبر کو پاکستانی پارلیمان کے سامنے قومی اسمبلی کے سپیکر اسد قیصر اور افغان وولیسی جرگہ کے سپیکر رحمٰن رحمانی نے ایک درخت لگایا۔ [عالم زیب خان]

image

وولیسی جرگہ کے سپیکر میر رحمٰن رحمانی کی قیادت مین اففان وفد نے 23 اکتوبر کو وزیرِ اعظم عمران خان سے ملاقات کی۔ [حکومتِ پاکستان پریس آفس]

انہوں نے کہا، "دونوں ملکوں کا مستقبل ان کے اتحاد، باہمی تجارت اور افزوں معاشی تعلقات پر منحصر ہے۔"

خان نے افغان تجارت اور سرمایہ کاری کی تسہیل کی اہمیت پر زور دیا، کیوں کہ دونوں ملکوں میں معاشی ترقی اور پیش رفت کے لیے وسیع امکانات ہیں۔

قیصر نے افتتاحی نشست میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانی-افغان معاشی تعاون اور بہتر تجارتی اور سفری سہولیاتبحیرہٴ عرب کی بحری بیڑوں کی لینز کو وسط ایشیا سے ملانےمیں مدد کریں گی۔

انہوں نے کہا کہ پارلیمان سے پارلیمان کا رابطہسرحد کے دونوں جانب تاجروں اور سرمایہ کاروں کے لیے رکاوٹیں ہٹانے میں مددگار ہو گا۔

قیصر نے کہا، "دنوں ملک شدت پسندی، دہشتگردی اور معاشی محرومی کی لعنت کا سامنا کر رہے ہیں، اور دونوں قریقین کی جانب سے مشترکہ کاوشوں سے ہی دونوں ملکوں کو درپیش معاشرتی-معاشی مسائل کی شدت کم ہو سکتی ہے۔"

رحمانی نےافغانستان میں قیامِ امن کے لیے پاکستان کی کاوشوںکی پذیرائی کی۔

انہوں نے کہا، "افغانستان پاکستان کے ساتھ اپنے تعلقات کو نہایت قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے، کیوں کہ دونوں ملکوں کے مشترکہ مذہبی اور ثقافتی اقدار ہیں، اور افغانستان کو پاکستان کے ساتھ اپنے قریبی تعلقات پر فخر ہے۔"

رحمانی نے کہا، "دونوں ملکوں میں ممکنات کو استعمال میں لانے کی اشد ضرورت ہے، جن میں تجارت اور سرمایہ کاری کے وسیع مواقع ہیں۔"

پاکستان کے چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے 27 اکتوبر کو اختتامی نشست میں کہا کہ علاقائی ترقی اور معاشی آسودہ حالی کا انحصار رابطہ، بہتر تجارتی روابط اور سرمایہ کاری کے بہتر مواقع پر ہے۔

انہوں نے کہا، "اب وقت ہے کہ ہم اپنے لوگوں اور خطے کے لیے اپنے دوطرفہ اور معاشی روابط کو ایک تذویری اشتراک میں بدلیں۔"

سنجرانی نے معاشی معاونت کے لیے بے انتہا امکانات سے مطابقت بنانے کے لیے دونوں ملکوں کے درمیان مزید تجارت کی ضرورت پر زور دیا۔

تجارت کی راہ سے رکاوٹوں کا خاتمہ

سفارت کار اور تاجر اس فورم کو پاک-افغان تعلقات میں ایک بڑی پیش رفت کے طور پر دیکھتے ہیں۔

افغانستان کے لیے پاکستان کے سفیر منصور احمد خان نے کہا، "میں افغانستان کی جانب مستقل رابطہ میں ہوں، اور ہم آنے والے دنوں میں اس پرامید روایت کو مزید عملی اقدامات کر کے جاری رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔"

انہوں نے کہا کہ حکومتِ پاکستان نے 2010 میں دستخط ہونے والے افغانستان-پاکستان ٹرانزٹ ٹریڈ کوآرڈینیشن اتھارٹی (APTTCA) کی تجدید کے لیے کاوشوں کا بھی آغاز کر دیا ہے، اور ایک تجدید شدہ معاہدہ ممکنہ طورپر جلد دستخط ہو جائے گا۔

افغانستان کے لیے سابقہ پاکستانی سفیر سید ابرار حسین نے حالیہ پیش رفت اور دونوں جانب سے سرکاری دوروں، جیسا کہقومی مفاہمت کے لیے افغانستان کی ہائی کاؤنسل کے چیئر مین عبداللہ عبداللہکے دورے، سے متعلق امّید کا اظہار کیا۔

انہوں نے کہا، "آپ مستقبل میں ایسے مزید دورے دیکھیں گے، ان دوروں کا مقصد دونوں ملکوں کے درمیان ماضی میں اعتماد کے فقدان کا خاتمہ اور اعتماد بحال کرنے کے اقدامات، دوستی اور تجارتی تعلقات استوار کرنا ہے۔"

دونوں جانب کے تاجر پرامید ہیں کہ حالیہ معاہدوں پر جلد عملدرآمد ہو جائے گا۔

پاکستان-افغانستان مشترکہ ایوانِ صنعت و تجارت کے ڈائریکٹر زاہد شنواری نے کہا، "اسلام آباد میں تجارت و سرمایہ کاری کے فورم کے انعقاد کے بعد، ہم نے تشخیص کر لی تھی، مسائل کی شناخت، اب ہمیں علاج کی ضرورت ہے، ان تجاویز کا عملی نفاذ۔"

انہوں نے کہا، "2011-2012 میں ہماری 2.7 بلین ڈالر کی باہمی تجارت تھی، جو بدقسمتی سے 2014-2015 میں سکڑ کر 2.3 بلین ڈالر رہ گئی۔ تاہم، میرا ماننا ہے کہ اگر دونوں حکومتیں ان تجاویز پر عملدرآمد کرانے میں کامیاب ہو جاتی ہیں تو ہم نہایت کم وقت میں اس باہمی تجارت کو کم از کم 5 بلین ڈالر [سالانہ] تک لے جا سکتے ہیں۔"

شنواری نے کہا، "یہ صرف اسی طور ممکن ہے کہ دونوں حکومتیںباہمی تجارت میں ہمیں درپیش رکاوٹوں کو ہٹائیں۔"

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا

تبصرہ
تبصرہ کی پالیسی * لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے 1500 / 1500

اچھے تعلقات دونوں ممالک میں خوشحالی کو یقینی بناسکتے ہیں ...

جواب