https://pakistan.asia-news.com/ur/articles/cnmi_pf/features/2020/08/26/feature-01
سلامتی

طالبان پر فساد ختم کرنے، بین الافغان امن مذاکرات شروع کرنے کے لیے ہر طرف سے دباؤ

پاکستان فارورڈ اور اے ایف پی

image

طالبان وفد کی 25 اگست کو اسلام آباد میں پاکستانی حکام کے ساتھ ملاقات۔ [پاکستانی دفترِ خارجہ]

اسلام آباد -- باغیوں کی جانب سے افغانستان میں ایک اور خوں ریز بم دھماکہ کرنے کا دعویٰ کرنے کے بعد، افغان حکومت اور طالبان پر بین الافغان امن مذاکرات شروع کرنے کے لیے دباؤ بڑھ رہا ہے۔

پاکستانی وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی نے اسلام آباد میں منگل (25 اگست) کے روز ایک ملاقات میں سینیئر طالبان قائدین کو کابل کے ساتھ زیرِ التوا امن مذاکرات شروع کرنے کی ترغیب دی ہے۔.

ایک بیان میں پاکستان کی وزارتِ خارجہ کا کہنا تھا کہ قریشی نے "امریکہ طالبان امن معاہدے کو، مکمل طور پر، نافذ کرنے پر زور دیا، جس سے بین الافغان گفت و شنید کا ہر ممکن حد تک جلدی آغاز ہونے کی راہ ہموار ہو۔"

طالبان کے سربراہ مذاکرات کا، شیر محمد عباس ستانکزئی نے بدھ (26 اگست) کو مشعل ریڈیو پر بتایا کہ بین الافغان مذاکرات کسی بھی لمحے شروع ہو سکتے ہیں۔

image

منگل (25 اگست) کو اسلام آباد میں پاکستانی وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی (دائیں) افغان مذاکرات کار ملا عبدالغنی برادر (بائیں سے دوسرے) کے ساتھ جاتے ہوئے۔ [پاکستانی دفترِ خارجہ]

image

طالبان کو محرم الحرام کے احترام میں افغان حکومت کے ساتھ براہِ راست مذاکرات کی ترغیب دینے کے لیے، درجنوں علمائے دین اور سول سوسائٹی کے کارکنان 21 اگست کو پُلِ خماری، صوبہ بغلان میں جمع ہیں۔ [نورگل اندروال]

طالبان کی جاری پُرتشدد کارروائیاں

قریشی اور مُلا عبدالغنی برادر، تنظیم کے بانی شریک جنہوں نے آٹھ سال پاکستان کی حراست میں گزارے تھے، کی سربراہی میں طالبان وفد کے درمیان ملاقات طالبان کی جانب سے صوبہ بلخ میں افغان نیشنل آرمی کی ایک چھاؤنی کے قریب خودکش بم دھماکے کی ذمہ داری قبول کرنے کے کچھ ہی عرصہ بعد ہوئی ہے۔

25 اگست کو ایک الگ واقعہ میں، کابل میں مسلح افراد نے ایک افغان اداکارہ اور حقوقِ نسواں کی مہم جو، صبا سحر کو گولی مار کر زخمی کر دیا تھا۔

طالبان اور افغان حکومت نے اشارہ دیا تھا کہ وہ عید الاضحیٰ، جو کہ اس ماہ کے شروع میں ہوئی تھی، کے فوری بعد مذاکرات شروع کرنے کے لیے تیار ہیں، مگر قیدیوں کے تبادلے کے معاملے پر یہ عمل سست روی کا شکار ہو گیا تھا۔

صدر اشرف غنی کے ترجمان، صادق صدیقی کے مطابق، انہوں نے کہا، "طالبان کی جانب سے پرتشدد کارروائیوں کے تسلسل پر اصرار سے امن کے مواقع خطرے سے دوچار ہیں۔"

انہوں نے مزید کہا، "طالبان کو چاہیئے کہ افغانوں سے لڑنا اور مارنا ترک کریں، جنگ بندی قبول کریں اور افغانستان کی حکومت کے ساتھ براہِ راست گفت و شنید شروع کریں۔"

عبداللہ عبداللہ، جو افغان قومی مفاہمتی کونسل کے سربراہ ہیں، نے کہا کہ وزیرِ اعظم پاکستان عمران خان نے انہیں دورہ کرنے کی دعوت دی ہے اور وہ جلد ہی پاکستان جانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

انہوں نے اے ایف پی کو بتایا، "ہمیں توقع ہے کہ پاکستانی حکومت عملی اقدامات کرے گی اور خطے میں استحکام لانے میں مدد کے لیے افغان حکومت اور بین الاقوامی برادری کے ساتھ تعاون کرے گی۔"

پاکستان کا اثرورسوخ

لندن کے ایک صحافی سمیع یوسف زئی نے کہا اگرچہ پاکستان عسکری تنظیم کو مشورہ دے سکتا ہے، اس کا اثرورسوخ محدود ہے۔

ان کا کہنا تھا، "ہاں، ملاقات کے کچھ اثرات مرتب ہوں گے مگر اس حد تک نہیں جس کی عالمی برادری کو توقع ہے، خصوصاً طالبان پر پاکستان کے اثرورسوخ کے تناظر میں۔ تاہم، پاکستان میں طالبان کو مشورہ دینے کی صلاحیت ہے، جسے طالبان بعض اوقات قبول کر لیتے ہیں اور بعض اوقات مسترد کر دیتے ہیں۔"

ان کا مزید کہنا تھا کہ طالبان "بعض اوقات لچک کا بالکل مظاہرہ نہیں کرتے حتیٰ کہ چھوٹی موٹی باتوں پر بھی نہیں۔ مثال کے طور پر، جب کابل حکومت نے 5،000 سے زائد قیدیوں کو رہا کیا تھا،" طالبان کی توجہ چھ مخصوص قیدیوں کی رہائی تک مرکوز رہی۔

طالبان کے متعلق انہوں نے کہا، "انہیں آگے بڑھنا چاہیئے۔"

انہوں نے کہا، "جیسا کہ [امریکی نمائندۂ خصوصی برائے افغان مصالحتی عمل زلمے خلیل زاد] نے کہا ہے، ان چھ قیدیوں کی رہائی پر اصرار کرنے کی بجائے، طالبان کو [آزاد کروانے والے قیدیوں کی] ایک متبادل فہرست پیش کرنی چاہیئے کیونکہ کچھ یورپی ممالک کو ان پر تحفظات ہیں۔"

ان کا کہنا تھا، "یہی وجہ ہے کہ بین الافغان مذاکرات میں تاخیر ہوئی ہے، اور اب پاکستان اس کا ایک حل تلاش کرنے اور عالمی برادری کو یہ بتانے کا متلاشی ہے کہ طالبان اس کے زیرِ اثر ہیں۔"

اسلام آباد کے مقامی صحافی، اشرف علی نے کہا، "اسلام آباد میں حالیہ سیاسی پیش رفت درست سمت میں اٹھایا گیا ایک درست قدم ہے۔ لیکن کوئی بھی مثبت پیش رفت تمام علاقائی فریقین کی جانب سے ٹھوس اور مربوط کوششوں کی متقاضی ہو گی کہ وہ قوتوں کو مجتمع کریں اور جنگ سے تباہ شدہ افغانستان میں باالخصوص، اور خطے میں باالعمول، دیرپا امن کی راہ ہموار کریں۔"

تشدد ترک کرنے کا مطالبہ

اسلام آباد کی کوششوں کے علاوہ، افغان صوبہ بغلان کے علمائے دین اور سول سوسائٹی کے کارکنان افغان حکومت اور طالبان سے محرم الحرام کے احترام میں بین الافغان امن مذاکرات شروع کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

وہ 21 اگست کو پُلِ خماری، صوبہ بغلان میں جمع ہوئے۔

صوبہ بغلان کے ایک عالمِ دین، مولوی صبغت اللہ مسلم نے کہا، "ہم اپنے طالبان بھائیوں سے کہتے ہیں کہ محرم الحرام کے احترام میں بے گناہ لوگوں کو قتل کرنا بند کریں اور امن مذاکرات شروع کریں۔"

طالبان سے مخاطب ہوتے ہوئے، مسلم نے کہا، "بین الاقوامی برادری اور افغان حکومت نے آپ کے لیے تمام تر سہولیات فراہم کی ہیں لہٰذا آپ آ سکتے ہیں اور اپنی توقعات پر تبادلۂ خیال کر سکتے ہیں۔"

اجتماع میں ایک اور عالمِ دین، مولوی عبدالغیاث احمدی نے طالبان سے اپنے ذاتی اہداف کو فراموش کرنے اور خدا کے واسطے تشدد کو ترک کرنے کی درخواست کی۔

بغلان علماء کونسل کے ایک رکن، مولوی سردار ولی نے کہا، "آئیے مذاکرات کی میز پر بیٹھتے ہیں اور تمام مسائل کا حل نکالتے ہیں۔"

انہوں نے کہا، "غیر ملکیوں کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ اگر ہم ایک معاہدے پر پہنچ جاتے ہیں تو مشرق یا مغرب کو ثالثی کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔"

ولی نے کہا، "ہم خود افغانستان کو تعمیر کر سکتے ہیں۔"

صوبہ بغلان میں ایک سول سوسائٹی کے کارکن، احمد خالد فراہمند نے طالبان سے افغان عوام پر یہ ثابت کرنے کا مطالبہ کیا کہ وہ آزادانہ طور پر اور افغانستان کے مفاد میں کام کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا، "اگر آپ دیگر ممالک کی کٹھ پتلیاں نہیں ہیں، تو آپ افغانوں کے ساتھ مذاکرات کی میز پر شامل ہو سکتے ہیں اور آزادی کے ساتھ اپنے متضاد خیالات افغان عوام کو بتا سکتے ہیں تاکہ آپ ان کے لیے ایک حل تلاش کر سکیں۔"

امن کے لیے قربانی دینا

پُلِ خماری کے ایک مکین، عبدالجلیل راغب نے کہا، "چونکہ ہم امن کے قریب پہنچ رہے ہیں، دونوں فریقین کو اس نازک وقت میں قربانیاں دینے کی ضرورت ہے۔"

انہوں نے کہا، "حکومت اور طالبان کے باقی ماندہ قیدیوں کو لازماً رہا ہونا چاہیئے کیونکہ افغان عوام بے چینی سے امن کے منتظر ہیں۔"

انہوں نے مزید کہا، "طالبان کے لیے [لڑائی جاری رکھنے کا] کوئی جواز نہیں ہے، اور انہیں مذاکرات کی میز پر آنا چاہیئے اور اپنے مسائل قانونی راستوں سے حل کرنے چاہیئیں۔"

صوبہ بغلان میں سول سوسائٹی کے ایک کارکن، غلام یحییٰ احرار نے کہا، "طالبان کو اس بہترین موقعے کو استعمال کرنا چاہیئے اور اپنی ذاتی ترجیحات پر قومی مفادات کو ترجیح دینی چاہیئے۔ پہلے انہیں جنگ بندی کا اعلان کرنے کی اور پھر ملک کے اندر مذاکرات شروع کرنے کی ضرورت ہے۔"

قندوز پولیس کے ایک ترجمان، احمد جواد بشارت نے کہا کہ طالبان کے پاس دو ہی انتخاب ہیں: امن عمل میں شامل ہو جائیں یا شکست کا سامنا کریں۔

انہوں نے کہا کہ افغان نیشنل ڈیفنس اینڈ سیکیورٹی فورسز (اے این ڈی ایس ایف) نے گزشتہ ماہ بغلانِ مرکزی اور دوشی کے اضلاع اور داندِ غوری، داندِ شہاب الدین اور چشمۂ شیر کے علاقوں میں طالبان کو بھاری جانی نقصان پہنچایا ہے۔

انہوں نے کہا، "ہم نے اپنی چوکیوں پر طالبان کے ہر حملے کا جواب دیا ہے، اور بھاری جانی نقصان اٹھانے کے بعد وہ پسپا ہوئے ہیں۔"

بشارت نے کہا، "ہم طالبان سے کہتے ہیں کہ وہ امن عمل میں شامل ہو جائیں۔ ماضی میں سیکیورٹی فورسز نے انہیں تباہ و برباد کیا ہے، اور وہ مستقبل میں بھی ایسی ہی شکست کا سامنا کریں گے۔"

[قندوز سے ہدایت اللہ اور اسلام آباد سے عالم زیب خان نے اس رپورٹ میں حصہ لیا.]

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا

تبصرے 0
تبصرہ کی پالیسی * لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے 1500 حروف باقی ہیں (حد 1500 حروف)