سفارتکاری

عبداللہ کا دورۂ اسلام آباد گرمجوش پاک-افغان تعلقات کا نقیب

از عالم زیب خان

image

28 ستمبر کو اسلام آباد میں عبداللہ عبداللہ کے تین روزہ دورۂ پاکستان پر ایک سڑک پر لگا خیرمقدمی پوسٹر۔ [عالم زیب خان]

اسلام آباد -- کابل کی طالبان کے ساتھ امن معاہدہ کرنے کی کوششوں کی نگرانی کرنے والے افغان حکام نے بدھ (30 ستمبر) کے روز پاکستان کا تین روزہ دورہ مکمل کر لیا۔

افغان حکومت اور طالبان کے درمیان دوحہ، قطر میں مذاکرات 12 ستمبر کو شروع ہوئے تھے مگر سست روی کا شکار ہو گئے ہیں کیونکہ دونوں فریقین کو کئی بنیادی مسائل کا سامنا ہے۔

طالبان نے جنگ بندی پر اتفاق کرنے سے بھی انکار کر دیا ہے۔

افغانستان کی اعلیٰ کونسل برائے قومی مفاہمت کے چیئرمین، عبداللہ عبداللہ نے اسلام آباد میں عبوری تجارت، پاک افغان تعلقات، معاشی روابط، ویزہ اور دیگر امور پر چوٹی کے پاکستانی حکام کے ساتھ ملاقاتیں کیں جن میں صدر عارف علوی، وزیرِ اعظم عمران خان اور وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی شامل ہیں۔

image

وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی (دائیں) 28 ستمبر کو اسلام آباد میں دفترِ خارجہ میں عبداللہ عبداللہ کا استقبال کرتے ہوئے۔ [پاکستانی دفترِ خارجہ]

image

عبداللہ عبداللہ (بائیں) کی 30 ستمبر کو اسلام آباد میں صدر ڈاکٹر عارف علوی کے ساتھ افغان امن عمل پر بات چیت کرنے کے لیے آمد۔ [عبداللہ عبداللہ / ٹوئٹر]

image

عبداللہ عبداللہ 29 ستمبر کو اسلام آباد میں وزیرِ اعظم عمران خان کے ساتھ افغان امن عمل پر تبادلۂ خیال کرتے ہوئے۔ [عبداللہ عبداللہ / ٹوئٹر]

30 ستمبر کو صدر علوی کے ساتھ ملاقات کے بعد ٹویٹس کے ایک سلسلے میں عبداللہ کا کہنا تھا، "ہم نے افغان امن عمل اور [افغانستان اور پاکستان] کے درمیان دوطرفہ تعلقات پر تبادلۂ خیال کیا۔ صدر عارف علوی نے امن کی کوششوں اور برادر ممالک کے درمیان تعلقاتکو مضبوط کرنے کے لیے اپنی بھرپور حمایت کا اظہار کیا۔"

انہوں نے کہا، "میں نے پرجوش خیرمقدم، مہمان نوازی، اور امن عمل کے لیے متواتر حمایت، اور دوطرفہ تعلقات کی مضبوطی کے لیے صدر، حکومت، اور پاکستان کے عوام کا شکریہ ادا کیا۔"

منگل (29 ستمبر) کو ایک بیان میں خان نے اس امید کا اظہار کیا کہ عبداللہ کا دورہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان تعلقات میں ایک نیا باب رقم کرنے میں مددگار ہو گا۔

خان نے کہا، "افغان تنازع کا کوئی فوجی حل نہیں ہے اور ۔۔۔ صرف ایک سیاسی حل ہی آگے بڑھنے کا واحد راستہ ہے۔"

پاکستان کی جانب سے "افغان عوام کے ساتھ مکمل تعاون اور یکجہتی" کی پیشکش کرنے کے ساتھ ساتھ، بیان میں ان کا کہنا تھا کہ افغان رہنماء، "ایک مشمولہ، وسیع البنیاد اور جامع سیاسی تصفیہ" کرنے کے لیے ذمہ دار ہیں۔

اس سے پہلے 29 ستمبر کو، عبداللہ اور قریشی دونوں نے انسٹیٹیوٹ آف سٹریٹیجک سٹڈیز اسلام آباد (آئی ایس ایس آئی) میں ایک اجتماع سے خطاب کیا۔

قریشی نے کہا، "ہم محسوس کرتے ہیں اور مجھے یقین ہے، افغان اور صرف افغان ہی افغانستان کے مستقبل کا تعین کر سکتے ہیں۔ ایک استحکام پذیر امن صرف افغانستان کے اندر ہی سے آ سکتا ہے، اسے افغانستان پر مسلط نہیں کیا جا سکتا۔"

ان کا مزید کہنا تھا، "ایک پُرامن، خوشحال، مستحکم افغانستان کے لیے، جو کہ پاکستان کی خواہش ہے، تمام فریقین کو مل کر کام کرنا ہو گا۔"

انہوں نے کہا، "ہمارا کوئی بھی لاڈلہ نہیں ہے۔ ہم آپ کے اندرونی امور میں مداخلت نہیں کرنا چاہتے، ہم آپ کی خود مختاری، آپ کی آزادی، اور آپ کی علاقائی سالمیت کا احترام کرتے ہیں اور احترام کرنا چاہتے ہیں۔"

عبداللہ نے اجتماع میں کہا کہ وہ افق پر ایک پُرامن مستقبل کی نموداری کے ساتھ پاکستان کا دورہ کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا، "جب ہم یہاں بات کر رہے ہیں، دونوں اطراف کے وفود دوحہ میں ایک میز کے گرد بیٹھے افغانستان میں ایک سیاسی تصفیئے کے ذریعے عشروں پر محیط جنگ ختم کرنے کے طریقے اور ذرائع پر بات چیت کر رہے ہیں۔"

انہوں نے امن عمل میں پاکستانی حکومت اور عوام کے کردارکو سراہا۔

انہوں نے کہا، "مشکلات کے بہت سے برسوں کے بعد، ہمیں اب ان عمومی بناوٹی اور بے حقیقت سازشی نظریات سے آگے بڑھنے کی ضرورت ہے جنہوں نے ہمیں پسماندہ رکھا ہے۔ ہم پہلے کی طرح معاملات کو چلانے کے متحمل نہیں ہو سکتے۔ ہمیں بالکل تازہ سوچوں کی ضرورت ہے اور ہمارے لوگ ہم سے اس کا مطالبہ کرتے ہیں۔ ہمارے خطے کو بطور ایک خطہ دیکھنے کی اب ہمیشہ سے زیادہ ضرورت ہے۔"

ان کا مزید کہنا تھا، "ہمیں مشترکہ خطرات اور مشکلات کے ایک سلسلے کا سامنا ہے۔۔۔ بشمول دہشت گردی، انتہاپسندی، عدم برداشت کی کئی شکلیں اور بالکل حال ہی میں کووڈ-19 کی عالمی وباء جس نے کسی بھی ملک کو نہیں بخشا ہے۔"

پاک-افغان تعلقات کو مضبوط بنانا

عبداللہ کا دورہ اس وقت ہوا ہے جب پاکستانی کابینہ نے 29 ستمبر کو افغان کاروباری حضرات، طلباء و طالبات اور مریضوں کے لیے ایک سے زیادہ بار داخلے کی اجازت دینے کے لیے ایک نئی ویزہ پالیسی کی منظوری دی ہے۔

سوموار (28 ستمبر) کے روز پاکستانی حکام نے اعلان کیا تھا کہ خیبر پختونخوا میں افغانستان کے ساتھ تمام سرحدی ٹرمینل، بشمول طورخم کراسنگ، ہفتے میں چار دن پیدل ٹریفک کے لیے کھلے ہوں گے۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ عبداللہ کا دورہ ایک فیصلہ کن موڑ ہے جو ناصرف امن عمل میں سہولت کاری کرنے میں افغانستان کی مدد کرے گا بلکہ دونوں ممالک کے درمیان تجارت کے نئے مواقع، عوام کے عوام کے ساتھ رابطے اور استحکام کا بھی راستہ کھولے گا۔

پشاور کے مقامی ایک سینیئر صحافی، رحیم اللہ یوسفزئی نے کہا، "ڈاکٹر عبداللہ 12 برسوں کی غیر حاضری کے بعد پاکستان آئے ہیں۔۔۔ وہ شمالی اتحاد کا حصہ تھے، جو کہ پاکستان اور طالبان دونوں کا مخالف تھا۔"

یوسفزئی نے کہا، "ان کے دورۂ پاکستان کا مطلب ہے کہ وہ اختلافات اب مزید نہیں ہیں۔"

انہوں نے کہا، "اس کے علاوہ، عبداللہ اب افغان حکومت کا حصہ ہیں اور مصالحتی کونسل کے چیئرمین ہیں۔ ڈاکٹر عبداللہ ان مواقع کا بھرپور استعمال چاہتے ہیں۔"

اس معاہدے کا جس نے افغانوں کے مابین مذاکرات کا راستہ کھولا ہے، حوالہ دیتے ہوئے یوسفزئی نے کہا، "29 فروری کے امن معاہدے پر امریکہ اور طالبان کے درمیان دستخط ہونے کے بعد سے، امن عمل میں پاکستان کا کردار بہت اہم رہا ہے۔

یوسفزئی کا کہنا تھا، "پاکستان ایک کردار ادا کرے گا، خواہ یہ کردار بڑا ہو یا چھوٹا۔"

اسلام آباد کے مقامی ایک تجزیہ کار حسن خان کے مطابق، عالمی طاقتوں نے امن عمل میں پاکستان کے کردار کو تسلیم کیا ہے، اور پاکستان میں امیدوں میں اضافہ ہو گیا ہے۔

انہوں نے کہا، "تاہم، خطے میں فساد میں کمی کامیابی کی کلید ہو گی۔۔۔ جس کی نشاندہی وزیرِ اعظم عمران خان اور عبداللہ عبداللہ دونوں نے اپنی ملاقات میں کی تھی۔"

کیا حکومت پاکستان بھر میں سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے کافی کام کر رہی ہے؟
تبصرہ
تبصرہ کی پالیسی * لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے 1500 / 1500