سلامتی

باجوڑ سپورٹس اسٹیڈیم عسکریت پسندی کے سبب 12 سالہ وقفے کے بعد دوبارہ کھل گیا

حنیف اللہ

image

خار میں باجوڑ سکاوٹس الیون اور باجوڑ یوتھ الیون کے درمیان 6 ستمبر کو فضل شہید اسٹیڈیم میں کرکٹ کا ایک میچ جاری ہے۔ اسٹیڈیم 12 سال کے بعد دوبارہ سے کھلا ہے۔ [حنیف اللہ]

خار -- خار میں فضل شہید اسٹیڈیم باجوڑ کے دربارہ کھلنے کی، جو کہ علاقے میں عسکریت پسندی کے باعث، 12 سالوں تک کھیلوں کی سرگرمیوں کے لیے بند رہا تھا، کو قبائلی ڈسٹرکٹ کے شہریوں کی طرف سے تعریف ہو رہی ہے۔

حکام نے اگست 2008 میں فوج کی طرف سے تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے عسکریت پسندوں کا صفایا کرنے کے لیے شروع کی جانے والی مہم کے شروع ہونے پر اسٹیڈیم کو بند کر دیا تھا اور انہوں نے عسکریت پسندوں کے خلاف استعمال کرنے کے لیے توپ خانے کا سامان ذخیرہ کیا تھا۔

اب جبکہ سیکورٹی کو یقینی بنا دیا گیا ہےاور فوجیوں نے باجوڑ سے دہشت گرد گروہ کا خاتمہ کر دیا ہے، تو کھیلوں کی سرگرمیاں بحال ہو گئی ہیں۔

کرکٹ کی دو مقامی ٹیموں -- باجوڑ سکاوٹس الیون اور باجوڑ یوتھ الیون -- نے 6 ستمبر کو اسٹیڈیم میں ایک نمائشی میچ کھیلا۔

image

کرکٹ کے کھلاڑی، 6 ستمبر کو خار میں فضل شہید اسٹیڈیم باجوڑ کے باہر ایک میچ سے قبل کھڑے ہیں۔ [حنیف اللہ]

image

حکام خار، باجوڑ میں 6 ستمبر کو کرکٹ کا ایک میچ دیکھ رہے ہیں۔ [حنیف اللہ]

باجوڑ کے ڈسٹرکٹ سپورٹس منیجر فضل اکبر خلجی نے 15 اکتوبر کو کہا کہ "یہ باجوڑ کا سب سے پرانا اسٹیڈیم ہے اور ماضی میں یہاں صوبائی سطح کی بہت سی تقریبات منعقد ہوئی ہیں جن میں تمام انضمام شدہ ڈسٹرکٹس کے لیے 2005 اور 2007 میں ہونے والے آئی جی ایف سی (انسپکٹر جنرل فرنٹیر کور) کرکٹ ٹورنامنٹس بھی شامل ہیں"۔

انہوں نے کہا کہ "اسٹیڈیم کا دوبارہ سے کھل جانا مزید تقریبات کو منعقد کرنے میں مدد کرے گا"۔

انہوں نے مزید کہا کہ "میں نے اس اسٹیڈیم میں کئی میچ کھیلے ہیں اور میں خوش ہوں کہ کھلیں بحال ہو رہی ہیں"۔

مقامی افراد کو اکٹھا کرنا

سابقہ کھلاڑی اور باجوڑ سکاوٹس کرکٹ ٹیم کے کپتان، عبدالرحمان جو کہ فرنٹیر کور (ایف سی) کے ریٹائرڈ رکن بھی ہیں نے ان دنوں کو یاد کیا جب وہ اسٹیڈیم میں علاقے کے مشہور ترین کھلاڑیوں میں سے ایک کو کھیلتا دیکھتے تھے۔

انہوں نے کہا کہ "باجوڑ سکاوٹس کے آل راونڈر مرحوم راحت (شہید) اس وقت کے مشہور ترین کرکٹ کے کھلاڑی تھے جب 2008 سے پہلے کھیلوں کے مقابلے منعقد ہوتے تھے اور انہیں مین آف دی میچ کے بہت سے ایوارڈ بھی ملے تھے"۔

رحمان نے کہا کہ راحت ہو کہ ایف سی کے رکن تھے، 10 اکتوبر 2009 کو باجوڑ میں ٹی ٹی پی کے عسکریت پسندوں کے ساتھ لڑائی میں شہید ہو گئے تھے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اسٹیڈیم میں کھیلوں کی سرگرمیوں کی بحالی ان مقامی فوجیوں کی قربانیوں کی یاد دہانی ہےجو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں شہید ہو گئے تھے۔

انہوں نے کہا کہ "میں 1995 سے 2007 تک باجوڑ سکاوٹس کی ٹیم کا ایک کھلاڑی رہا تھا مگر عسکریت پسندوں کی طرف سے دھمکیوں اور اسٹیڈیم میں کھیلوں کی سرگرمیوں کے رک جانے کے باعث میں نے کرکٹ چھوڑ دی"۔

رحمان نے کہا کہ "یہ ہماری کھیلوں کی سرگرمیوں کے لیے واحد جگہ تھی مگر عسکریت پسندوں کی طرف سے دھمکیوں اور پھر عسکری آپریشن کے باعث، اسے بند کر دیا گیا"۔

دیگر مقامی اتھلیٹس اور کھیلوں کے شائقین نے بھی اسٹیڈیم کے دوبارہ کھلنے کو خوش آمدید کہا ہے۔

باجوڑ یوتھ الیون ٹیم کے کپتان اظہار الحق نے کہا کہ "یہ پرامن اور خوشحال باجوڑ کے لیے ایک اچھا قدم ہے اور اس اسٹیڈیم کا دوبارہ سے کھلنا لوگوں کو ایک دوسرے کے قریب لے آئے گا"۔

انہوں نے کہا کہ "اس اسٹیڈیم میں کھیلنا میرے خوابوں میں سے ایک تھا۔ میں نے اپنا آخری میچ 2006 میں یہاں کھیلا تھا اور اب میں 6 ستمبر کو یہاں پر دوبارہ کھیلنے کا موقع ملنے پر بہت خوش ہوں"۔

"اب ہم ایک پرامن ماحول میں رہ رہے ہیںاور یہ سیکورٹی فورسز، قبائلی بزرگوں اور عام شہریوں کی ان قربانیوں کے باعث ممکن ہوا جو انہوں نے دہشت گردی کے خلاف جنگ کے دوران دیں"۔ یہ بات مقامی قبائلی بزرگ ملک ظاہر نے کہی۔

انہوں نے کہا کہ "ٹی ٹی پی نے نہ صرف ہمارے کاروبار اور عام زندگیوں کو تباہ کر دیا بلکہ انہوں نے ہمارے کھیلوں کو بھی برباد کر دیا"۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا

تبصرہ
تبصرہ کی پالیسی * لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے 1500 / 1500