میڈیا

قبائلی اضلاع میں نئے ریڈیو اسٹیشن عسکریت پسندوں کے پراپیگنڈہ کا مقابلہ کرنے میں کوشاں

از دانش یوسفزئی

image

4 اکتوبر کو پشاور میں ریڈیو کی ایک خاتون صداکار پختونخوا ریڈیو اسٹیشن سے ایک براہِ راست پروگرام کے دوران گفتگو کرتے ہوئے۔ [دانش یوسفزئی]

پشاور -- اصلاحات، ترقیاتی پہل کاریوں اور روزگار کے مواقع سے مقامی باشندوں کو آگاہ کرنے کے لیے ہر قبائلی ضلع میں خیبر پختونخوا (کے پی) حکومت کی جانب سے قائم کیے جا رہے نئے ریڈیو اسٹیشن اگلے ماہ نشریات کا آغاز کرنے کو تیار ہیں۔

کے پی حکام نے ستمبر 2017 میں دو ترقیاتی پروگراموں کی منظوری دی تھی -- ایک قبائلی علاقہ جات میں پانچ ریڈیو اسٹیشن قائم کرنا اور دوسرا ریڈیو پیشکاری کا بنیادی ڈھانچہ بنانا۔ قبائلی علاقہ جات سنہ 2018 میں کے پی کا حصہ بنے تھے۔

کے پی ڈائریکٹوریٹ جنرل آف انفارمیشن اینڈ پبلک ریلیشنز (ڈی جی آئی پی آر) پر الیکٹرانک میڈیا منصوبوں کے سربراہ، غلام حسین غازی نے کہا، "ریڈیو اسٹیشنوں کے قیام کی بنیادی وجہ -- افغانستان میں -- چل رہے ریڈیو اسٹیشنوں کی جانب سے منفی اور ریاست مخالف پراپیگنڈے کا مقابلہ کرنا ہے۔"

غازی نے کہا کہ پہلے منصوبے کی لاگت کا تخمینہ 310 ملین روپے (1.9 ملین ڈالر) لگایا گیا ہے، جبکہ دوسرے منصوبے کا تخمینہ 900 ملین روپے (5.5 ملین ڈالر) لگایا گیا ہے۔

image

پشاور میں ایک ریڈیو پیشکار 6 اکتوبر کو ایک پروگرام پر کام کرتے ہوئے۔ [دانش یوسفزئی]

image

6 اکتوبر کو ضلع کوہاٹ میں ایک دکاندار اپنی دکان میں ریڈیو سنتے ہوئے۔ خیبرپختونخوا کے بہت سے اضلاع میں ریڈیو بہت مقبول ہے۔ [دانش یوسفزئی]

ان کا کہنا تھا کہ پانچوں ریڈیو اسٹیشن جنوبی وزیرستان، شمالی وزیرستان، باجوڑ، کرم اور مہمند میں واقع ہوں گے۔ باجوڑ میں اسٹیشن پر کام پایۂ تکمیل کو پہنچ چکا ہے۔

مزدور رزمک، شمالی وزیرستان میں ایک موجودہ اسٹیشن کی جلد ہی تزئینِ نو کر دیں گے۔

غازی نے مزید کہا، "امید ہے کہ تمام ریڈیو اسٹیشن نومبر 2020 کے اختتام تک نشریات شروع کر دیں گے۔"

انہوں نے کہا کہ خیبر اور اورکزئی کے اضلاع میں ریڈیو اسٹیشن قائم کرنا دوسرے منصوبے کا حصہ ہو گا، جس میں جدید ترین پیشکاری اسٹوڈیوز بنانا شامل ہے اور اس کا نومبر تک مکمل ہونا طے ہے۔

ڈی جی آئی پی آر کی جانب سے چلائے جانے والے ایف ایم ریڈیو پختونخوا کے اسٹیشن ڈائریکٹر، انصار خلجی نے کہا کہ نئے ریڈیو اسٹیشن ناصرف ریاست کا بیانیہ لوگوں تک پہنچائیں گے بلکہ مقامی افراد کو قانونی نظام اور بطور صوبے کے شہری ان کے حقوق کی تعلیم بھی دیں گے۔

ایف ایم ریڈیو پختونخوا، پختونخوا ریڈیو پشاور کا بانی نیٹ ورک ہے، جو نئے ریڈیو اسٹیشنوں کی نگرانی کرے گا۔

پختونخوا ریڈیو پشاور پہلا ایف ایم ریڈیو اسٹیشن تھا جو کسی بھی صوبائی حکومت کی ملکیت تھا، یہ یاد دلاتے انہوں نے مزید کہا کہ حکام نے اسے ریاست مخالف بیانیوں کا مقابلہ کرنے کے لیے سنہ 2009 میں قائم کیا تھا اور اس نے دیگر ایف ایم ریڈیو اسٹیشنوں کی راہ ہموار کی۔

خلجی کا کہنا تھا کہ نئے ریڈیو اسٹیشن عوام الناس کو تعلیم دینے اور مختلف معاشرتی برائیوں سے آگاہ کرنے میں حکومت کی مدد کریں گے۔

انہوں نے مزید کہا، "حکومتِ بلوچستان [کے پی] کے نقشِ قدم پر چل رہی ہے اور کے پی کی طرح اپنے ایف ایم ریڈیو اسٹیشن قائم کرنے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔"

قبائلی باشندوں کے ساتھ رابطے میں رہنا

کوہاٹ یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے شعبۂ صحافت کے چیئرمین، رحمان اللہ کے مطابق قبائلی اضلاع کی تقریباً 70 فیصد آبادی خبروں اور تفریح کے لیے اپنے بنیادی ذریعے کے طور پر ریڈیو استعمال کرتی ہے۔

رحمان اللہ کے مطابق، مقبول ترین ریڈیو چینلوں میں وائس آف امریکہ، ریڈیو مشال اور بی بی سی شامل ہیں، جو کہ زیادہ تر پاکستان سے باہر سے چلتے ہیں۔

انہوں نے کہا، "ماضی میں، عسکریت پسندوں نے بھی غیر قانونی ایف ایم ریڈیو قائم کیے تھے اور انہیں اپنے 'قوانین' بتانے اور سرِ عام پھانسیوں کی اطلاع دینے اور جہاد کے نام پر بھتہ خوری کے لیے استعمال کرتے تھے۔"

ان کا مزید کہنا تھا کہ سرحد کے ساتھ ملحق افغانستان یا قبائلی پٹی کے اندر سے چلنے والے، ایسے اسٹیشن اکثر متعصبانہ اور پاکستان مخالف پراپیگنڈہ پیش کرتے تھے۔

یونیورسٹی آف پشاور کے ایک اسسٹنٹ پروفیسر، بخت زمان یوسفزئی، جنہوں نے ایسے اسٹیشنوں پر تحقیق کی ہے، کے مطابق عسکریت پسندی کے دوران غیر قانونی اسٹیشنوں کے پُراثر ہونے کی بنیادی وجہ قبائلی پٹی میں روایتی مرکزی دھارے کے ذرائع ابلاغ تک رسائی نہ ہونا تھی۔

انہوں نے کہا کہ عسکریت پسندوں کے لیے عوام تک رسائی کرنے اور اپنا پیغام پہنچانے کے لیے ریڈیو تیز ترین، آسان ترین اور مؤثر ترین طریقہ بن گیا تھا۔

یوسفزئی نے مزید کہا کہ عسکریت پسند سماجی جھگڑوں کو نمٹانے کے لیے ریڈیو استعمال کرتے۔ عام شہری کال کرتے اور اپنی شکایات درج کرواتے، اور اگلے روز عسکریت پسند اپنے ریڈیو پر نمٹانے جانے والے جھگڑوں کا اعلان کر دیتے، جس سے شہرت ملی اور بصورتِ دیگر دنیا سے کٹے ہوئے باشندوں کے ساتھ مؤثر طریقے سے رابطہ ہو جاتا۔

مقامی باشندوں کو آواز دینا

خیبر سے تعلق رکھنے والے ایک ریڈیو کے صحافی، اسلام گل آفریدی کے مطابق، قبائلی پٹی پر دہائیوں کی جنگ کی حکمرانی رہی ہے اور اب اس میں ایسے سنجیدہ مسائل ہیں جن پر جنگی بنیادوں پر توجہ دینا لازم ہے۔

خطے، جو کہ ماضی میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان ایک بفر زون کا کام کرتا تھا، پر پہلے سفاکانہ، الگ قانونی نظام کے تحت حکمرانی ہوتی تھی، جو نوآبادیاتی زمانے کا فرنٹیئر کرائمز ریگولیشن (ایف سی آر) تھا.

اپنے دشوار گزار علاقوں اور منفرد قانونی حیثیت کے سبب، قبائلی پٹی غیر قانونی اشیاء، منشیات اور اسلحے کا ایک مرکز بنی رہی۔

سنہ 2018 میں، وفاقی حکومت نے پرانی قبائلی ایجنسیوں کو کے پی میں ضم کر دیا، اور انہیں صوبائی حکومت کے حلقۂ اختیار کے تحت لے آیا گیا اور ایف سی آر کا خاتمہ کر دیا گیا۔

انہوں نے کہا، "اس وقت، کوئی بنیادی ڈھانچہ نہیں ہے، اور ابلاغی نیٹ ورکس جو زراعت، تعلیم، صحت اور حتیٰ کہ پناہ سے متعلقہ امور مرکوز ہیں ان میں اضافہ ہو رہا ہے۔"

آفریدی کا کہنا تھا، "اگر ہم مقامی باشندوں کو آواز فراہم نہیں کرتے، تو ترقی کی کوئی امید نہیں لگائی جا سکتی۔ آمدنیاں کم ہیں، اور کے پی کے ساتھ انضمام کے بعد عوام فوائد اور مواقع سے آگاہ نہیں ہیں۔"

انہوں نے کہا، "کم شرح خواندگی کی وجہ سے، اخبارات اور دیگر تحریری ذرائع ابلاغ بے سُود ہیں۔ سمارٹ فونز کا نا ہونے برابر استعمال ہے، انٹرنیٹ نہیں ہے، اور کوئی ٹی وی یا کیبل نیٹ ورک نہیں ہے، جس سے ریڈیو واحد ذریعہ رہ جاتا ہے۔ ماضی میں اس کا پُراثر ہونا ثابت شدہ ہے کیونکہ اس سے مقامی لہجے میں رابطہ ہوتا ہے، جو جواب میں [اسٹیشن کے پیغام کے ساتھ] مقامی وابستگی کو فروغ دیتا ہے۔"

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا

تبصرہ
تبصرہ کی پالیسی * لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے 1500 / 1500

حکومت کی جانب سے اچھا اقدام، اس طرح قبائلی علاقوں کے لوگوں کو بآسانی تعلیم دی جا سکے گی۔

جواب