https://pakistan.asia-news.com/ur/articles/cnmi_pf/features/2020/06/02/feature-01
مذہب

ایرانی پشت پناہی کے حامل ملیشیاؤں کی جانب سے خلیفہ کے مقبرے کی بے حرمتی پر غم و غصہ

از ضیاء الرحمان

image

شامی صدر بشار الاسد کی حکومت کی جانب سے کی گئی ہلاکتوں کے خلاف ایک دینی جماعت کے کارکنان دسمبر 2018 میں کراچی میں احتجاجی مظاہرہ کرتے ہوئے۔ [ضیاء الرحمان]

اسلام آباد -- ایرانی پشت پناہی کی حامل ملیشیاؤں کی جانب سے شام کے صوبہ ادلب میں ایک مسلمان مزار کی بے حرمتی کی خبروں میں عالمِ اسلام میں غم و غصے کی لہر دوڑا دی ہے۔

روزنامہ صباح نے خبر دی ہے کہ 26 مئی کو حکومت کے حامی سوشل میڈیا پر نشر ہونے والی ایک ویڈیو میں عسکریت پسندوں کو ایک قبر پر حملہ کرتے اور اسے کھودتے ہوئے دکھایا گیا ہے جس کے متعلق یہ ماننا ہے کہ وہ اموی خلیفہ عمر بن عبدالعزیز کی قبر ہے، جنہیں عمر ثانی بھی کہا جاتا ہے۔

عمر ثانی آٹھویں اُموی خلیفہ تھے اور ان کا دورِ حکومت 717 سے 720 تک تھا۔ انہیں اپنے اقتدار کے دوران انصاف کرنے پر اسلام کے پانچویں خلیفۂ راشد نامزد کیا گیا تھا۔

فروری میں، حکومتی فوج نے مزار کے اردگرد کے علاقے کو اس وقت نذرِ آتش کر دیا تھا جب انہوں نے شہر پر قبضہ کیا تھا، اور مبینہ طور پر العزیز کی بیوی اور غلام دونوں کی قبروں کو نقصان پہنچایا تھا۔

image

شام میں اموی خلیفہ عمر بن عبدالعزیز کے مقبرے کے انہدام کی ویڈیو میں سے لی گئی ایک تصویر۔ [فائل]

ویڈیوز کے جواب میں، پاکستان کے دینی گروہوں نے سوموار (1 جون) کے روز شامی حکومت اور ایرانی پشت پناہی کی حامل ملیشیاؤں کے خلاف ملک گیر احتجاجی مظاہروں کا اعلان کیا تھا جو جمعہ (5 جون) کے روز کیے جائیں گے۔

پاکستان علماء کونسل کے چیئرمین، حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے 31 مئی کو کہا، "ہم اسلامی تعاون کی تنظیم (او آئی سی)، جو کہ 57 مسلمان ممالک پر مشتمل ایک بین الاقوامی ادارہ ہے، اور حکومتِ پاکستان سے بھی مطالبہ کرتے ہیں کہ اس واقعہ کا نوٹس لیا جائے اور اس کے ذمہ داران کے خلاف کارروائی کی جائے۔"

سپیکر پنجاب اسمبلی، چودھری پرویز الٰہی، نے بھی واقعے کی مذمت کی اور مطالبہ کیا کہ وفاقی حکومت فوری طور پر شامی حکومت پر جسدِ خاکی کی برآمدگی کے لیے دباؤ ڈالے۔

پرویز الٰہی کا کہنا تھا، "ہم بے حرمتی کے ذمہ داروں کے لیے سنگین سزاؤں کا مطالبہ کرتے ہیں۔"

19 دینی جماعتوں کے اتحاد، سنی اتحاد کونسل (ایس آئی سی) نے کہا کہ محترم شخصیات کے مزار اور مقبروں کی بے حرمتی قابلِ مذمت اور ناقابلِ قبول فعل ہے۔

کراچی میں ایس آئی سی کے ایک رہنماء، علامہ حسین قادری نے کہا، "تخریب کار اسلام کو بدنام کر رہے ہیں، اور ایسے کاموں کا مقصد عالمِ اسلام میں بدامنی پیدا کرنا ہے۔"

انہوں نے کہا، "اسلامی شخصیات کے مقبروں کے انہدام پر ہم شامی حکومت کے خلاف بڑے پیمانے پر ملک گیر مظاہروں کا اہتمام کریں گے۔"

ماضی میں، پاکستان کی دینی جماعتوں نے ہزاروں مسلمانوں کے قتل پر بشار الاسد کی شامی حکومت کے خلاف بڑے پیمانے پر ملک گیر مظاہروں کا اہتمام کیا تھا۔

قادری کا کہنا تھا، "ہر کسی کو معلوم ہے کہ بشار الاسد قتلِ عام کے لیے سپاہِ اسلامی پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) کی قدس فورس کے کمانڈر میجر جنرل قاسم سلیمانی کی قیادت میں ایرانی ملیشیاؤں کو استعمال کرتا تھا۔"

سلیمانی 3 جنوری کو بغداد میں ایک امریکی ڈرون حملے میں مارا گیا تھا۔

بے ادبی کی تاریخ

بشار الاسد کی افواجاور تہران کی پشت پناہی کے حامل الحاق شدہ ملیشیاؤںکی تاریخ ہے کہ وہ ناصرف شام اور عراق بلکہ مجموعی طور پر مسلمانوں کے لیے علامتی اہمیت کے حامل مزاروں کو منہدم اور مقامات کی بے ادبی کرتے رہے ہیں۔

30 مئی کو مڈل ایسٹ مانیٹر نے خبر دی تھی کہ فروری میں، ویڈیوز منظرِ عام پر آئی تھیں جن میں شامی حکومت کی افواج اور ایرانی پشت پناہی کی حامل ملیشیاؤں کو سنی علاقوں میں دفن حزبِ اختلاف کے بڑے جنگجوؤں اور کمانڈروں کی قبروں کی بے حرمتی کرتے اور لاشوں کو قبروں سے نکالتے ہوئے دکھایا گیا تھا۔

دیگر ویڈیوز میں شامی سپاہیوں کو نکالی گئی لاشوں کی کھوپڑیوں کے ساتھ کھیلتے ہوئے دکھایا گیا تھا۔

دہشت گرد تنظیم "دولتِ اسلامیہ عراق و شام" (آئی ایس آئی ایس) کے لیے استعمال ہونے والے دوسرے نام کا حوالہ دیتے ہوئے تجزیہ کاروں نے کہا، "تاریخی اور دینی مقامات کی بے رحمانہ تباہی داعش کی جانب سے انجام دی جانے والی تباہی کی مہم کے ساتھ ملتی جلتی ہے۔"

ایسی ہی ویڈیوز سنہ 2015 میں اس وقت منظرِ عام پر آئی تھیں جب حکومتی افواج نے ہومس میں درجنوں مقبروں کو منہدم کر دیا تھا۔

قادری نے کہا، "ماضی میں، بشار الاسد کی سربراہی میں افواج نے ہومس میں اسلامی شخصیت خالد بن ولید کے تاریخی مقبرے کی بے حرمتی کی تھی۔"

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا

تبصرے 0
تبصرہ کی پالیسی * لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے 1500 حروف باقی ہیں (حد 1500 حروف)