https://pakistan.asia-news.com/ur/articles/cnmi_pf/features/2020/04/30/feature-01
معاشرہ

کورونا وائرس کے اثرات کو کم کرنے کے لیے خیراتی اداروں کی توجہ قبائلی اضلاع پر

حنیف اللہ

image

الخدمت فاونڈیشن کے کارکن، 9 اپریل کو باجوڑ ڈسٹرکٹ کے علاقے سالارزئی کے قرنطینہ مرکز میں، تقسیم کے لیے کھانے کی اشیاء کو ایک قطار میں رکھ رہے ہیں۔ [حنیف اللہ]

خار، باجوڑ ڈسٹرکٹ -- مقامی فلاحی ادارے باجوڑ ڈسٹرکٹ کے شہریوں کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں تاکہ عسکریت پسندی سے متاثر ہونے والے علاقوں کے کمزور شہریوں کو کورونا وائرس کی عالمی وباء کے دوران امداد فراہم کی جا سکے۔

الخدمت فاونڈیشن (اے کے ایف) جس نے پاکستان کے مختلف علاقوں میں ہزاروں شہریوں کی مدد کی ہے، ان بہت سے فلاحی اداروں میں سے ایک ہے جو ایسے وقت میں مدد فراہم کر رہا ہے جبعالمی وباء نے ملازمتوں اور لوگوں کی صحت کو متاثر کیا ہے ۔

اے کے ایف کی باجوڑ شاخ کے صدر خلیل اللہ جان نے کہا کہ "ہم نہ صرف ضرورت مندوں کی بلکہ ان لوگوں کی مدد بھی کر رہے ہیں جو کورونا وائرس کے باعث قرنطینہ میں ہیں"۔

انہوں نے کہا کہ "اس مشکل وقت میں ہمیں ان لوگوں کو مدد فراہم کرنے کی ضرورت ہے جو اپنی ملازمت سے محروم ہو چکے ہیںاور لاک ڈاؤن میں ہیں"۔

image

باجوڑ ڈسٹرکٹ کا ایک فلاحی ادارہ کمرسر، باجوڑ ڈسٹرکٹ کے گاؤں کمر سر میں رہائشیوں کو ان کے دروازوں پر خوراک کا عطیہ دے رہا ہے۔ [حنیف اللہ]

image

خار، باجوڑ ڈسٹرکٹ میں آٹھ اپریل کو الخدمت فاونڈیشن کی طرف سے مزدور برادری کو مدد فراہم کرنے کے لیے منعقد کی جانے والی ایک تقریب کے دوران پاکستانی گندم اور کھانا پکانے کا تیل وصول کر رہے ہیں۔ [حنیف اللہ]

عسکریت پسندی کے شکار قبائلی اضلاع کے شہری ان فلاحی اداروں کے مشکور ہیں جو ان کو امداد فراہم کر رہے ہیں۔

باجوڑ ڈسٹرکٹ سے تعلق رکھنے والے ایک قبائلی بزرگ ملک ظاہر نے کہا کہ "ہم اس بات پر خوش ہیں کہ یہ فلاحی ادارے اس بحران میں غریبوں کی مدد کر رہے ہیں -- وہ بہت عظیم لوگ ہیں"۔

'ایک بہت مشکل صورتِ حال'

انہوں نے کہا کہ "عسکریت پسندی کے دور نے ہمیں سکھایا ہے کہ ہم ایسے بحرانوں میں متحد رہیں کیونکہ ہمارے علاقے کو ماضی میں برے تجربات کا سامنا کرنا پڑا تھا"۔

خار کاروباری مرکز کے ایک کارکن خائستہ محمد نے کہا کہ "عسکریت پسند انتہائی برے لوگ تھے اور انہوں نے ضرورت مندوں کی مدد نہیں کی مگر اب یہ اچھے لوگ اس انتہائی مشکل صورتِ حال میں ہماری مدد کر رہے ہیں"۔

محمد نے وزیراعظم عمران خان کے مزدورں کے لیے مالی امدادی منصوبے کی تعریف کی۔

انہوں نے ضرورت مند خاندانوں کے لیے حکومت کے مالی امدادی قدم کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ "مجھے احساس کفالت پروگرام کے تحت 12,000 روپوں (75 ڈالر) نقد کی امداد بھی ملی ہے"۔

انہوں نے مزید کہا کہ "اب مجھے ایک ماہ تک تنخواہ کے نقصان کا کوئی ڈر نہیں ہے کیونکہ مجھے حکومت کی طرف سے تنخواہ مل گئی ہے"۔

کھانے پینے کی چیزیں دینے کے علاوہ، بہت سے افراد اور خیراتی ادارے، لوگوں کو کووڈ-19 سے محفوظ رکھنے کے لیے مفت ماسک بھی فراہم کر رہے ہیں۔

ایک مقامی فلاحی ادارے، یوتھ آف باجوڑ نے علاقے میں اس عالمی وباء کے پھیلنے سے لے کر اب تک 4,000 ماسک مفت تقسیم کیے ہیں۔

یوتھ آف باجوڑ کے چیرمین ریحان زیب خان نے کہا کہ "ہم نے ان لوگوں میں ماسک تقسیم کیے ہیں جو دوسرے شہروں سے آ رہے ہیں، خصوصی طور پر کراچی اور سندھ کے دوسرے علاقوں سے تاکہ ہم اپنے علاقے کے شہریوں کو کورونا وائرس سے محفوظ رکھ سکیں"۔

انہوں نے کہا کہ "پاکستانی فلاحی کاموں میں اول ہیں اور انہوں نے ہمیشہ یہ دکھایا ہے کہ مشکل حالات میں ہم ایک قوم ہیں"۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا

تبصرے 3
تبصرہ کی پالیسی * لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے 1500 حروف باقی ہیں (حد 1500 حروف)

بہت خوب الخدمت۔

جواب

الخدمت فاؤنڈیشن نے ہر تنازع میں ہمیشہ ضرورت مند افراد کے لیے شاندار معاونت کا مظاہرہ کیا ہے۔ بہت خوب

جواب

الخدمت فاؤنڈیشن نے شاندار کام کیا ہے۔ بہت خوب الخدمت۔

جواب