صحت

کرونا وائرس میں اضافے کو روکنے کی جدوجہد میں پاکستانی شہروں کی بندش

از شہباز بٹ اور اے ایف پی

ریسکیو 1122 کے اہلکار 22 مارچ کو پشاور کے مختلف علاقوں میں جراثیم کش دوا کا چھڑکاؤ کرتے ہوئے۔ [شہباز بٹ]

22 مارچ کو پشاور میں پولیس کرونا وائرس کے ایک مشتبہ مریض کے گھر کے باہر خیمہ لگاتے ہوئے۔ [شہباز بٹ]

22 مارچ کو پشاور میں ایک اہلکار پودوں پر جراثیم کش دوا کا چھڑکاؤ کرتے ہوئے۔ [شہباز بٹ]

22 مارچ کو پشاور کی مارکیٹ جو پہلے بہت مصروف ہوتی تھی میں تھوڑی بہت ٹریفک دیکھی جا سکتی ہے۔ [شہباز بٹ]

22 مارچ کو پشاور میں ایک شخص ایک بند مارکیٹ کے سامنے ایک پھیری والے سے چہرے کے ماسک خریدتے ہوئے۔ [شہباز بٹ]

پشاور میں خالی بابِ پشاور فلائی اوور 22 مارچ کو دیکھا جا سکتا ہے۔ [شہباز بٹ]

ضلعی انتظامیہ کی کرونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کی کوششوں کے مطابق، ایک پولیس افسر 22 مارچ کو صدر بازار پشاور میں ایک دکاندار سے اپنی دکان شام 7 بجے سے پہلے بند کرنے کا کہتے ہوئے۔ [شہباز بٹ]

چہروں پر ماسک پہنے پاکستانی فوج کے جوان 23 مارچ کو تالا بندی کے درمیان کراچی کی ایک ویران سڑک پر پہرہ دیتے ہوئے۔ [رضوان تبسم/اے ایف پی]

22 مارچ کو سندھ کی صوبائی حکومت کی جانب سے تالا بندی کا اعلان کیے جانے کے بعد ایک دوا خانے کے باہر گاہکوں کی قطار۔ [رضوان تبسم/اے ایف پی]

پشاور پولیس کے اہلکار 23 مارچ کو پشاور کے مضافات میں ایک قرنطینہ مرکز کے حفاظتی انتظامات کی پڑتال کرتے ہوئے جو ایران سے واپس آنے والے 132 پاکستانیوں کے لیے قائم کیا گیا ہے۔ [کے پی پولیس]

پشاور -- کووڈ- 19 وائر کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے جاری کوششوں کے ساتھ پاکستان کے مختلف حصوں میں خریداری کے بڑے مراکز، ریستوران اور عوامی مقامات بند رہے۔

عالم گیر وباء کے ردِعمل میں، وزارتِ داخلہ نے سوموار (23 مارچ) کے روز چاروں صوبوں، گلگت-بلتستان اور پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں مسلح افواج کی تعیناتی کی منظوری دے دی ہے۔

اتوار (22 مارچ) کے روز حکومتِ سندھ نے 15 روزہ تالا بندی کا اعلان کیا تھا جس کا آغاز 23 مارچ سے ہونا ہے۔

حکومتِ پنجاب نے بھی سوموار کے روز منگل (24 مارچ) سے شروع کرتے ہوئے غیر ضروری خدمات اور دکانوں کی 14 روزہ بندش کا اعلان کیا ہے۔

image

کرونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے ریسکیو 1122 کے اہلکار 22 مارچ کو پشاور میں سول سیکریٹریٹ کے اندر جراثیم کش دوا کا چھڑکاؤ کرتے ہوئے۔ [شہباز بٹ]

سوموار کے روز ملک میں کرونا وائرس کے مریضوں کی تعداد بڑھ کر 803 ہو گئی ہے، جن کی اکثریت سندھ میں ہے، اور کُل چھ اموات واقع ہوئی ہیں۔

لاہور میں وزیرِ اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے کہا، "اس وائرس سے لڑنے کا واحد حل گھر میں رہنا ہے،" ان کا مزید کہنا تھا کہ خریداری کے بڑے مراکز اور عوامی مقامات کی بندش کا فیصلہ غیر ضروری اجتماعات کو روکنے کے لیے کیا گیا ہے۔

دریں اثناء، خیبرپختونخوا (کے پی) میں محکمۂ صحت کے اہلکاروں نے صوبے کے مختلف حصوں میں جراثیم کشی کے لیے سڑکوں اور عوامی مقامات پر کلورین کا چھڑکاؤ شروع کر دیا ہے۔

کے پی محکمہ امداد، بحالی و آبادکاری کے سیکریٹری عابد مجید نے کہا کہ امدادی اہلکاروں کو اپنے اپنے اضلاع میں عوامی مقامات کی جراثیم کشی کے لیے کلورین اور دیگر کیمیائی مواد موصول ہو گئے ہیں۔

سوموار کے روز ریسکیو 1122 کے ٹرکوں کو اندرونِ پشاور شہر اور صوبے کے دیگر حصوں میں کلورین کا چھڑکاؤ کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا تھا۔

کے پی حکومت کے ترجمان، اجمل وزیر نے کہا، "کے پی میں مثبت کیسوں کی تعداد 31 ہے، جبکہ 200 سے زائد مریضوں کا معائنہ کیا جا رہا ہے۔"

ان کا مزید کہنا تھا کہ پشاور کے مضافات میں ایک قرنطینہ مرکز قائم کر دیا گیا ہے جہاں 132 پاکستانی جوایران سے واپس آئے تھے انہیں علیحدگی میں رکھا جائے گا۔

کیپیٹل سٹی پولیس افسر محمد علی گنڈا پور نے کہا، "ہم نے ایران سے واپس آنے والوں کی دیکھ بھال کرنے کے لیے قرنطینہ مراکز کے اندر اور باہر پولیس اہلکار تعینات کر دیئے ہیں،" ان کا مزید کہنا تھا کہ واپس لوٹنے والوں کو جانے کی اجازت صرف تبھی ملے گی جب وہ ٹھیک ہو جائیں گے۔

کے پی نے بین الاضلاعی آمدورفت بھی معطل کر دی ہے اور اپنی تمام مارکیٹیں بند کر دی ہیں۔

ایک پاکستانی ماڈل

سوموار کے روز فیس بُک نے بیرونی ڈویلپرز کو بھرتی کرنا شروع کر دی ہے ایسے طریقے بنانے کے لیے جن سے اس کی میسنجر سروس نئے کرونا وائرس سے لڑنے میں صحت کی تنظیموں کی مدد کر سکتی ہے، یہ ایک ایسا اقدام ہے جو پاکستان پہلے ہی کر چکا ہے۔

فیس بُک کے ملکیتی پیغام رسانی کے پلیٹ فارم کے مطابق، یونیسیف اور پاکستان کی وزارتِ قومی صحت پہلے ہی عوام کو کووڈ-19 کے متعلق تازہ ترین معلومات فراہم کرنے کے لیے میسنجر استعمال کر رہے ہیں۔

میسنجر کے نائب صدر سٹین چدنووسکی کی ایک بلاگ پوسٹ کے مطابق، سوشل نیٹ ورک نے سافٹ ویئر کے ماہرین کو ایک آن لائن "ہیکاتھون" میں حصہ لینے کی دعوت دی ہے جس کا مقصد ایسے طریقے تخلیق کرنا ہے جن سے میسنجر کو سماجی فاصلہ رکھنے میں آسانی اور عالم گیر وباء کے متعلق بالکل درست معلومات پہنچانے کے لیے استعمال کیا جائے۔

انہوں نے ایک عالمی پروگرام کی نقاب کشائی کی جس کا مقصد صحت کی سرکاری تنظیموں اور اقوامِ متحدہ کے محکمہ جات کو ایسے ڈویلپرز کے ساتھ منسلک کرنا ہے جو میسنجر کو بالکل درست معلومات کے تبادلے کے لیے استعمال کرنے اور صارفین کی جانب سے سوالات کے جوابات کو تیز رفتار بنانے کے طریقے تخلیق کر سکیں۔

مثال کے طور پر، سافٹ ویئر بنانے والے عام سوالات کے خودکار جواب دینے میں محکموں کی مدد کر سکتے ہیں جو عملے کو زیادہ مشکل کاموں کو سنبھالنے کے قابل بنائے گا۔

[پشاور سے جاوید خان نے اس رپورٹ میں حصہ لیا۔]

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا

تبصرے 0

تبصرہ کی پالیسی * لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے 1500 / 1500