https://pakistan.asia-news.com/ur/articles/cnmi_pf/features/2020/03/20/feature-01
صحت |

ایران کی جانب سے متاثرہ زائرین، پناہ گزینوں کو ملک بدر کرنے کے بعد کرونا وائرس کے خطرے میں اضافہ

پاکستان فارورڈ اور اے ایف پی

ایران میں افغان پناہ گزینوں کا کہنا ہے کہ انہیں فوج کی جانب سے پکڑا جا رہا ہے اور انہیں ایران میں کرونا وائرس پھیلانے کے لیے موردِ الزام ٹھہرایا جا رہا ہے جبکہ حکومت مزدوروں کو دھڑا دھڑ پکڑ کر واپس افغانستان بھیج رہی ہے۔

ہرات – ایران کی جانب سے مہلک کرونا وائرس سے متاثرہ ہزاروں زائرین اور پناہ گزینوں کو جبری طور پر پاکستان اور افغانستان میں ملک بدر کرنے نے خطے میں وباء کے بہت بڑے پیمانے پر پھیلاؤ کا خطرہ پیدا کر دیا ہے۔

بین الاقوامی تنظیم برائے ہجرت کا حوالہ دیتے ہوئے، اس ہفتے اے ایف پی نے رپورٹ دی تھی کہ تقریباً 70،000 افغان باشندوں – جن میں سے بیشتر کرونا وائرس سے متاثرہ ہیں – کو گزشتہ 20 روز میں وائرس زدہ ایران سے ملک بدر کیا گیا ہے، جو سرحد پار کرنے کے مقام پر محکمۂ صحت کے اہلکاروں پر بھاری پڑ رہے ہیں۔

دریں اثناء، تفتان بارڈر کراسنگ پر ایران سے واپس لوٹنے والے تقریباً نصف زائرین میں کرونا وائرس کا ٹیسٹ مثبت آیا ہے۔

جمعرات (19 مارچ) کے روز عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے، " تفتان سے مسافروں سے جمع شدہ 303 نمونوں میں سے، 290 جانچے جا چکے ہیں اور 143 (49 فیصد) میں کرونا وائرس کی مثبت تشخیص ہوئی ہے۔"

image

کرونا وائرس کے پھیلاؤ پر تشویشوں کے سبب قومی حکومت کی جانب سے عوامی پابندی عائد ہونے کے بعد 18 مارچ کو چہرے پر ماسک پہنے ایک پولیس اہلکار کراچی میں ویران کلفٹن ساحلِ سمندر پر گشت کرتے ہوئے۔[آصف حسین/اے ایف پی]

image

ایک ایرانی اعلیٰ فوجی افسر 1 مارچ کو ایک مقام کے دورے پر جہاں محکمۂ صحت کے اہلکار کرونا وائرس کی وباء سے نمٹنے کے لیے مختلف تکنیکوں کی نمائش کر رہے ہیں۔ [ایرانی وزارتِ دفاع]

image

ایران سے ملک بدر کیے گئے افغان پناہ گزین 12 مارچ کو اسلام قلعہ، صوبہ ہرات میں افغانستان واپس داخل ہونے کے منتظر ہیں۔ [عمر]

عالمی ادارۂ صحت کے کچھ اہلکاروں کو ڈر ہے کہوائرس سے متاثرہ ہزاروں پاکستانی ایران کے ساتھ سرحد پار کریں گے۔

تفتان بارڈر کراسنگ اور ڈیرہ اسماعیل (ڈی آئی) خان کے قرنطینہ مرکز میں بیشتر افراد وہ تھے جو ایران میں گرفتار ہوئے تھے اور انہیں جبری طور پر پاکستان میں ملک بدر کر دیا گیا تھا۔

خیبرپختونخوا میں ضلع ہنگو کے ایک 56 سالہ مکین، محمد حسین نے کہا، "ہم زیارات کے لیے مشہد، ایران گئے تھے، مگر حکام نے ہمیں گرفتار کر لیا اور بسوں میں ٹھونس دیا جو ہمیں تفتان سرحد پر چھوڑ گئیں۔ کہیں بھی کوئی طبی انتظامات نہیں تھے۔"

حسین کا کہنا تھا کہ ایرانی حکام زائرین پر وباء پھیلانے کا الزام لگا رہے تھے، یہ کہتے ہوئے کہ وہ وائرس لے کر آئے ہیں، اور انہوں نے زائرین اور پناہ گزینوں کو صحت کی سہولیات تک رسائی دینے سے بھی انکار کر دیا۔

حسین ایران کا سفر کرنے والے ان 19 پاکستانی مسافروں میں سے ایک ہے جنہیں ڈی آئی خان میں قرنطینہ میں رکھا گیا ہے۔ ان میں سے پندرہ میں مہلک وائرس کی تشخیص ہو چکی ہے۔

ڈاکٹر رئیس خان، جو ڈی آئی خان میں قرنطینہ میں رکھے گئے زائرین کی دیکھ بھال کر رہے ہیں، کا کہنا تھا، "ایران پاکستان میں کرونا وائرس پھیلانے کا ذمہ دار ہے کیونکہ بیشتر لوگ بغیر چھان بین کے اپنے گھروں کو واپس جا چکے ہیں۔"

واپس لوٹنے والے ایک اور زائر، 52 سالہ ندیم علی، جو اب ڈی آئی خان کے قرنطینہ میں ہیں، نے کہا کہ پاکستانی زائرین کی اموات اور مشکلات کی تمام تر ذمہ داری "نالائق اور بے ایمان" ایرانی حکومت پر عائد ہوتی ہے۔

متاثرہ افغانوں کی ملک بدری

واپس لوٹنے والے افغانوں کے ایرانی بدسلوکی بیان کرنے کے اپنے تجربات ہیں۔

احمد احمدی، ایک افغان پناہ گزین جو تہران میں کام کرتے تھے، نے کہا کہ ایرانی فوج نے اسے اور اس کے نو سالہ بیٹے کو گرفتار کیا اور پھر انہیں اسلام قلعہ بارڈر کراسنگ کے ذریعے افغانستان ملک بدر کر دیا۔

انہوں نے کہا، "انہوں نے جن لوگوں میں بیماری کی علامات واضح تھیں انہیں افغانستان ملک بدر کر دیا مگر جنہیں کرونا وائرس تھا اور سنگین حالت میں تھے انہیں قرنطینہ میں ڈال دیا۔"

ان کا مزید کہنا تھا، "ایرانی فوج نے مجھے میرے نو سالہ بیٹے کے ہمراہ گرفتار کیا اور مجھے کہا کہ مجھے ۔۔۔ بیماری لگ گئی ہے، اور [پھر] انہوں نے مجھے ملک بدر کر دیا۔"

ایک اور پناہ گزین نے ایران پر نظر آنے والے ہر افغان کو پکڑ کر ملک بدر کرنے کا الزام لگایا۔

65 سالہ نذیر احمد، جنہیں حال ہی میں ایران سے ملک بدر کیا گیا تھا اور اب ہرات شہر میں اقوامِ متحدہ کے مہاجر کیمپ میں رہتے ہیں، نے کہا کہ ایرانی فوج کے ہاتھ جو بھی افغان لگا انہوں نے کرونا وائرس کے الزام میں اسے پکڑ کر ملک بدر کر دیا۔

ان کا کہنا تھا، "ایرانی پولیس نے مجھے اور چند دیگر افراد کو گرفتار کیا، اور انہوں نے ہمیں کہا کہ ہمیں کرونا وائرس ہے اور یہ کہ ہمیں اپنے ملک واپس جانا ہو گا۔"

انہوں نے مزید کہا، "ہم تہران میں کام کرتے تھے اور ایک اپارٹمنٹ میں اکٹھے رہتے تھے۔ انہوں نے ہمیں گھسیٹ کر ہمارے کمروں سے نکالا، ہمیں ایک گاڑی میں ڈال کر افغان سرحد پر لے آئے۔ انہوں نے ہمیں کہا کہ ہم افغانوں کو کرونا وائرس تھا جو ایرانیوں کو لگ گیا ہے۔"

صوبہ ہرات کے محکمۂ مہاجرین و مراجعت کے ڈائریکٹر، احمد جاوید ندیم نے تصدیق کی ہے کہ ایران سے ملک بدر کیے جانے والے افغانوں کی تعداد گزشتہ مہینوں کے مقابلے میں بڑھ گئی ہے۔

ان کا کہنا تھا، "ہر روز، ایرانی حکومت کی جانب سے ملک بدر کیے گئے درجنوں افغان اسلام قلعہ کے ذریعے صوبہ ہرات میں داخل ہو رہے ہیں۔ کیونکہ کرونا وائرس ایران کے بہت سے شہروں میں پھیلا ہوا ہے، ایران سے ملک بدر کردہ افغانوں کی تعداد میں کئی گنا اضافہ ہو گیا ہے۔"

کرونا وائرس کا پھیلاؤ

جمعہ (20 مارچ) کے روز تہران نے کہا کہ گزشتہ 24 گھنٹے میں کرونا وائرس نے ایران میں مزید 149 افراد کو ہلاک کر دیا ہے اور 1،237 مزید کیسز کی تصدیق ہوئی ہے، جس سے اس ملک میں ہونے والی اموات کی تعداد 1،433 اور متاثرین کی تعداد 19،644 ہو گئی ہے۔

تاہم وائرس کے پھیلاؤ کے متعلقعوام کو درست معلومات فراہم کرنے میں ایرانی حکومت کی شفافیت میں کمی پر بڑھتے ہوئے بین الاقوامی خدشاتہیں۔

ڈان کے مطابق 20 مارچ کو پاکستان میں کرونا وائرس کے 448 مصدقہ کیسز تھے اور تین افراد اس سے ہلاک ہوئے تھے۔

افغانستان کی وزارتِ صحت کے مطابق وہاں 20 مارچ کو مصدقہ کیسز کی تعداد 24 تھی۔

افغانستان میں ہرات کے سرکاری محکمۂ صحت کے ڈپٹی ڈائریکٹر، ڈاکٹر محمد آصف کبیر نے کہا کہ ایران بھر میں کرونا وائرس کے دھماکہ خیز وباء کے پیشِ نظر، ایران سے پناہ گزینوں کی ملک بدری میں اضافہ بہت زیادہ تشویش کا باعث ہے۔

انہوں نے کہا، "پناہ گزینوں کی بہت بڑی تعداد کی ملک بدری سے عوام کی صحت کو ایک سنگین خطرہ لاحق ہو گیا ہے۔ افغانستان میں وہ تمام لوگ جنہیں کرونا وائرس ہے وہ حال ہی میں ایران سے واپس لوٹے ہیں۔"

کبیر نے مزید کہا، "ایرانی حکومت کے لیے لازمی ہے کہ جن لوگوں میں کرونا وائرس کی علامات ہیں انہیں افغان سرحد پر [انہیں ملک بدر کرنے کے لیے] نہ لائے کیونکہ یہ افراد علاقے میں وائرس کے پھیلاؤ کا سبب بن سکتے ہیں۔"

14 مارچ کو اپنے دفتر میں ایک پریس کانفرنس میں گورنر ہرات عبدالقیوم رحیمی نے کہا، "افغانستان میں کرونا وائرس کا ماخذ ایران ہے۔ وہ تمام مریض جن میں کرونا وائرس کی مثبت تشخیص ہوئی ہے اور ہسپتال میں داخل ہوئے ہیں وہ ایران سے واپس آئے تھے۔ اگر ایران سے افغان پناہ گزینوں کی ملک بدری یا واپسی جاری رہی، اس سے افغانوں کے لیے ایک بڑا خطرہ پیدا ہو جائے گا۔"

رحیمی نے کہا کہ بڑھتے ہوئے بحران سے بچنے کے لیے افغانستان کو فوری کارروائی کرنے کی ضرورت ہے۔

ان کا کہنا تھا، "ایران سے واپس آنے والوں [اور] کئی داخلی مقامات سے افغانستان میں داخل ہونے والوں کی اتنی بڑی تعداد کے لیے، اگر ہم نے اب کوئی اقدامات نہ کیے اور مل کر کام نہ کیا۔۔۔ تو ہمیں ایران سے بھی بری صورتحال دیکھنے کو ملے گی۔"

انہوں نے کہا، "مجھے ڈر ہے۔۔۔ [کہ] ایک دن آئے گا جب ہم لاشوں کی گنتی کرنے کے قابل بھی نہیں ہوں گے۔"

[پشاور سے اشفاق یوسفزئی نے اس رپورٹ میں حصہ لیا۔]

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا
1
تبصرے 0
تبصرہ کی پالیسی