https://pakistan.asia-news.com/ur/articles/cnmi_pf/features/2019/10/31/feature-02
| تعلیم

باجوڑ کے شہریوں نے لڑکیوں کے لیے پہلے نجی اسکول کو خوش آمدید کہا ہے

حنیف اللہ

image

لڑکیاں، 18 اکتوبر کو باجوڑ ڈسٹرکٹ میں لڑکیوں کے پہلے نجی اسکول کی طرف جا رہی ہیں۔ [حنیف اللہ]

خار -- قبائلی شہریوں نے باجوڑ ڈسٹرکٹ میں لڑکیوں کے لیے کھلنے والے پہلے نجی اسکول کو گرم جوشی سے خوش آمدید کہا ہے۔

اسلامک گرلز پبلک ہائی اسکول کا 18 اگست کو عنایت کلی میں ایک تقریب کے دوران افتتاح کیا گیا۔

پرائیوٹ ایجوکیشن نیٹ ورک (ای پی این) کی جابوڑ شاخ کے صدر، نور رحمان نے تقریب کے دوران کہا کہ یہ اسکول، جسے باجوڑ کے سب سے گنجان آباد علاقے میں کھولا گیا ہے "علاقے کے لوگوں کو معیاری تعلیمی سہولیات فراہم کرے گا اور لڑکیوں کے اسکولوں کی کمی کو پورا کرے گا"۔

image

10 اکتوبر کو دیواروں پر لکھی تحریر میں باجوڑ میں لڑکیوں کے پہلے اسکول کو خوش آمدید کہا گیا ہے۔ [حنیف اللہ]

image

پرائیوٹ ایجوکیشن نیٹ ورک (پی ای این) کے اہلکار، 18 اگست کو باجوڑ ڈسٹرکٹ میں لڑکیوں کے لیے کھلنے والے پہلے نجی اسکول کے سامنے تصویر کھینچ رہے ہیں۔ [حنیف اللہ]

انہوں نے کہا کہ "باجوڑ میں، ہمارے پاس سرکاری اسکول کافی تعداد میں نہیں ہیں اور یہ ایک مثبت قدم ہے اور مزید سرمایہ کاروں کی حوصلہ افزائی کرے گا کہ وہ لڑکیوں کے نجی اسکول قائم کریں"۔

رحمان نے کہا کہ "یہ جنگ سے متاثر ہونے والی ڈسٹرکٹ میں ایک انقلابی قدم ہے۔ ہم خار، باجوڑ میں اس طرح کا ایک اور اسکول کھولنے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں"۔

انہوں نے کہا کہ "باجوڑ میں لڑکیوں کا پہلا اسکول قائم کرنے کے بعد، پی ای این کے نیٹ ورک میں اس وقت ہمارے 92 اسکول ہیں"۔

رحمان نے اس بات کا اضافہ کرتے ہوئے کہ داخلہ لینے والی پہلی 50 طالبات کو کسی داخلہ فیس کے بغیر داخلہ دیا جائے گا تاکہ دوسروں کی داخلہ لینے کے لیے حوصلہ افزائی کی جا سکے، کہا کہ افتتاح کے ایک ہفتہ کے بعد، 30 سے زیادہ لڑکیوں نے داخلہ لے لیا ہے۔

چوتھی جماعت کی ایک طالبہ بشری بی بی نے کہا کہ "اس اسکول کے قیام سے پہلے ہمیں مسائل کا سامنا تھا کیونکہ لڑکیوں کا سرکاری اسکول ہمارے گھر سے بہت دور ہے، اب ہم اپنی دہلیز پر اسکول کھلنے سے بہت خوش ہیں"۔

رائزنگ ویمن آف پاکستان آرگنائزیشن کی چیرپرسن رینا گل نے کہا کہ "ایسے اقدامات معاشرے کی ترقی کی طرف مثبت اقدامات ہیں اور مزید اسکولوں کی ضرورت ہے کیونکہ ڈسٹرکٹ میں لڑکیوں کے لیے اسکولوں کی تعداد لڑکوں کے لیے موجود اسکولوں سے کم ہے"۔

باجوڑ سے تعلق رکھنے والے ایک مذہبی عالم مفتی بلال یاسر نے کہا کہ "اسلام نے مردوں اور عورتوں، دونوں کے لیے تعلیم کو برابر کے طور پر لازم قرار دیا ہے"۔

انہوں نے کہا کہ "خواتین معاشرے کی اصلاح میں اہم کردار ادا کرتی ہیں اور اس مقصد کے لیے ہمیں اپنی بیٹیوں اور بہنوں کو تعلیم دینے کی ضرورت ہے"۔

امن کے دوران ترقی

باجوڑ کے اسسٹنٹ ایجوکیشن افسر، حمید اللہ جان نے سرکاری اسکولوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ "ہم باجوڑ ڈسٹرکٹ میں مختلف اسکولوں کو جدید بنانے پر کام کر رہے ہیں"۔

انہوں نے کہا کہ تین اسکولوں میں زیادہ تعداد کی اہل عمارات کی تعمیر جاری ہے اور جو جلد ہی مکمل ہو جائیں گی اور ان میں سے ایک لڑکیوں اور دو لڑکوں کے لیے ہیں۔

جان نے کہا کہ "مزید چھہ اسکولوں کو جدید بنانے کی تجویز پیش کی گئی ہے اور اس کے لیے ہم نے 218 بلین روپے (1۔4 ملین ڈالر) مختص کر دیے ہیں"۔

جان نے مزید کہا کہ "2008 سے2015 تک کے عسکریت پسندی کے دور میں عسکریت پسندوں نے باجوڑ میں111 اسکولوں کو تباہ کر دیا تھا مگر 110 اسکولوں کو دوبارہ تعمیر کر دیا گیا ہے اور باقی ایک کو بھی پاکستانی فوج جلد ہی تعمیر کر دے گی"۔

باجوڑ ڈسٹرکٹ کے ڈپٹی کمشنر عثمان محسود نے کہا کہ "امن کے قیام کے بعد، حالات درست سمت میں جا رہے ہیں اور ہم مختلف شعبوں میں ترقی کے لیے 10 سالہ، 20 سالہ اور 30 سالہ منصوبوں پر کام کر رہے ہیں" جس میں دوسرے شعبوں کے علاوہ تعلیم، صحت اور آبپاشی کے شعبے شامل ہیں۔

نئے سرکاری شعبے،جیسے کہ ایکسائز اور ٹیکسیشن، خوراک اور ریسکیو 1122 جلد ہی باجوڑ میں کام کرنا شرع کر دیں گے۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا
0
نہیں
تبصرے 0
تبصرہ کی پالیسی
Captcha