https://pakistan.asia-news.com/ur/articles/cnmi_pf/features/2020/03/31/feature-01
معاشرہ |

غیر قانونی منشیات کی بیخ کنی کی ایک کوشش میں کے پی پولیس کی جانب سے پوست کے کھیتوں کی تباہی

جاوید خان

image

20 مارچ کو ایک آپریشن کے دوران پولیس اہلکار گدون، ضلع صوابی کے کچھ علاقوں میں پوست کی فصل تباہ کر رہے ہیں۔ [کے پی پولیس]

پشاور –غیر قانونی منشیات سازی کی بیخ کنی کی ایک کوششمیں خیبر پختونخوا (کے پی) کے متعدد اضلاع میں پولیس نے حال ہی میں بڑے رقبہ پر کاشت شدہ پوست کی فصل تباہ کی۔

صوابی کے ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر (ڈی پی او) عمران شاہد نے کہا کہ "ہم نے صوابی کی سبڈویژنز گدون اور رازار، جہاں مقامی کسانوں نے اپنے کھیتوں پر پوست کی فصل کاشت کر رکھی تھی، میں کاروائیاں کرتے ہوئے تقریباً 200 کنال (25 ایکڑ) رقبہ پر کاشت شدہ پوست تباہ کر دی۔"

انہوں نے کہا، "پولیس نے مقامی عمائدین کو ملوث کرتے ہوئے پولیس اہلکاروں نے یہ فصلیں تباہ کیں تاکہ اس امر کو یقینی بنایا جا سکے کہ مستقبل میں اس ضلع میں یہ کاشت نہ ہو۔"

انہوں نے مزید کہا کہ پوست کی فصلوں کے خاتمہ کی کاروائی ان عوامی خدشات سے شروع ہوئی کہ جرائم پیشہ افراد اس پودے سے غیر قانونی منشیات بناتے ہیں۔

image

20 مارچ کو ضلع صوابی میں پولیس اہلکار پوست کی فصلیں تباہ کر رہے ہیں۔ [کے پی پولیس]

شدت پسند گروہ ہیروئن اور "آئس" یا کرسٹل میتھ جیسی غیر قانونی منشیات کی سمگلنگ سے آنے والی رقوم کو اپنی تشدد آمیز سرگرمیوں کو مالیات فراہم کرنے میں مدد کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

رازار کے ایک رہائشی اعجاز احمد نے کہا، "اس ضلع کے دورافتادہ اضلاع میں چند کاشتکار ہر سال پوست کاشت کرتے ہیں تاکہ وہ زیادہ کمائی کر سکیں۔"

مہمند آپریشنز

پولیس اہلکاروں کے مطابق، کے پی پولیس منشیات سمگلروں کے خلاف ایک مہم جاری رکھے ہوئے ہے اور ان میں سے متعدد کو ہیروئن، آئس، حشیش اور افیون کی فروخت، سمگلنگ اور تیاری کی وجہ سے گرفتار کیا ہے۔

صوابی کے ساتھ ساتھ، کے پی پولیس نے ضلع مہمند کے دورافتادہ علاقوں میں کاشت شدہ پوست کو بھی ہدف بنایا اور اپنے علاقہٴ عملداری میں اس فصل کو تباہ کیا۔

مہمند کے سربراہ ڈی پی او فضل احمد جان نے کہا، "22 مارچ کو 75 اہلکاروں پر مشتمل ایک پولیس جماعت نے مہمند کے علاقہ پرانگ گڑھ میں 115 کنال (14 ایکڑ) پر پھیلے 53 کھیتوں سے پوست کی فصل تباہ کی۔"

انہوں نے کہا کہ علاقہ میں مہم جاری ہے اور اب تک 250 کنال سے زائد فصل تباہ کی جا چکی ہے۔

جان نے کہا کہ پولیس اس امر سے آگاہی کے لیے چھاپے مار رہی ہے کہ آیا کسی اور مقامی کاشتکار نے خفیہ طور پر مزید پوست کاشت کر رکھی ہے۔

سٹیشن ہاؤس آفیسر شمشاد آفریدی نے کہا، "ضلع خیبر کے علاقہ اکاخیل میں کاروائی کے دوران ہم نے متعدد کنال رقبہ پر کاشت کی گئی پوست تباہ کی۔"

انہوں نے کہا کہ یہ فصلیں دورافتادہ علاقوں میں کاشت کی جاتی تھیں، لیکن پولیس نے پوست کے کاشتکاروں سے متعلق مخبریاں ملنے پر کاروائی کی۔

انہوں نے کہا کہ ماضی میں منشیات کے کسان پشاور کے دورافتادہ علاقوں میں چھوٹے کھیتوں پر پوست کاشت کیا کرتے تھے۔

پشاور سے تعلق رکھنے والے ایک صحافی قیصر خان نے کہا، "پولیس نے حالیہ برسوں میں پشاور کے نواحی علاقوں حسن خیل اور سربند میں کاروائیاں کیں اور چند کھیتوں میں کاشت شدہ پوست تباہ کی۔"

انہوں نے کہا کہ پولیس نے اس فصل کی کاشت سے متعلق سنتے ہی کاروائی کی۔

انہوں نے گزشتہ برس سے موازنہ کا حوالہ دیتے ہوئے پوست سے متعلق کہا، "اب یہ مشکل ہی سے ملتی ہے،"

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا
1
تبصرے 0
تبصرہ کی پالیسی