https://pakistan.asia-news.com/ur/articles/cnmi_pf/features/2019/09/13/feature-01
| جرم و انصاف

کے پی میں نئی قانون سازی میں غیر قانونی منشیات کی بیخ کنی کے لیے سخت سزائیں

از محمد شکیل

image

سنہ 2019 میں پشاور کی کارخانو مارکیٹ کے قریب ریل کی پٹڑی کے ساتھ منشیات کا ایک عادی شخص ہیروئین استعمال کرتے ہوئے۔ کے پی اسمبلی نے اگست 2019 میں نشہ آور مواد پر قابو پانے کا بل منظور کیا ہے۔ [محمد شکیل]

گزشتہ ماہ خیبرپختونخوا (کے پی) اسمبلی نے صوبے میں غیر قانونی منشیات، خصوصاً کرسٹل متھ، جسے "آئس" بھی کہتے ہیں، کی بیخ کنی کرنے کے مقصد سے ایک نیا قانون منظور کیا ہے۔

اسمبلی نے 27 اگست کو کے پی کا نشہ آور مواد پر قابو پانے کا بل 2019 منظور کیا تھا، جو نشہ آور مواد کی تعریف کرتا ہے، غیر قانونی منشیات کی نقل و حمل، غیر قانونی منتقلی اور تیاری کا خلاصہ کرتا ہے اور خصوصی عدالتیں قائم کرتا ہے۔

بل گورنر کے پی شاہ فرمان کے پاس بھیج دیا گیا ہے، جن کا 30 ایام کے اندر اندر اس پر دستخط کر کے اسے قانون میں بدل دینا متوقع ہے۔

image

سنہ 2019 میں 2 ستمبر کو پشاور میں ایک پُل کے ستون کے قریب ایک شخص منشیات پیتے ہوئے۔ [محمد شکیل]

کے پی کے وزیرِ اطلاعات شوکت یوسفزئی نے کہا، "کے پی کے نشہ آور مواد پر قابو پانے کے بل 2019 کے بہت سے مقاصد میں سے ایک مقصد معاشرے سے آئس کے وجود کا مکمل خاتمہ کرنا اور نوجوان نسل کو منشیات کے چنگل میں پھنسنے سے بچانا ہے۔"

انہوں نے کہا، "ہم صوبے کے ایک ایک کونے کو آئس سے پاک کرنا چاہتے ہیں، اس لیے اس کی نقل و حمل اور اسے پاس رکھنے میں ملوث افراد کے لیے سخت ترین سزاتجویز کی گئی ہے۔ متعلقہ حکام کے ساتھ مشاورت کے بعد، بل کے تحت درج ہونے والے مقدمات سے نمٹنے کے لیے خصوصی عدالتیں قائم کی جائیں گی۔"

پشاور میں منشیات کے امور پر ایک وکیل، فرحانہ مروت نے کہا، "نشہ آور اشیاء، خصوصاً آئس، کی غیر قانونی منتقلی، تیاری، پیداوار اور نقل و حمل میں ملوث افراد کے لیے سخت سزائیں، معاشرے کو اس لعنت سے پاک کرنے کے سنجیدہ حکومتی عزائم کا ثبوت ہیں۔"

انہوں نے کہا، "سخت ترین سزائیں اور سزائے موت جیسا کہ بل میں نشاندہی کی گئی ہے۔۔۔ انہیں نشے کے کسی بھی قسم، اس کو سنبھالنے اور پاس رکھنے سے باز رکھے گی۔"

"سزا میں عدم مساوات قانون کو تباہ کر دے گی اور اس کی اثرپذیری کو کم کر دے گی،" کا اضافہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا، "بل کی اثرپذیری کو مزید بڑھایا جا سکتا تھا اگر بغیر کسی تفریق کے ملک بھی میں اسی قانون کو متعارف کرواتے ہوئے عدم مساوات کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات کیے گئے ہوتے۔"

مروت نے کہا، مزید برآں حکام پر یہ یقینی بنانا لازم ہے کہ کوئی بھی، بشمول پولیس، اس قانون کو اپنے مخالفین کو منشیات سے متعلقہ مقدمات میں پھنسا کر نشانہ نہ بنا سکیں۔

انہوں نے کہا، "منشیات سے پاک معاشرے کے ہدفکو حاصل کرنے کے امکانات میں ان علاقوں کی سخت نگرانی کر کے، جہاں سے ممنوعہ اشیاء تیار کرنے کے لیے خام مال ملک میں سمگل کیا جا رہا ہے اور منشیات کی بڑے پیمانے پر نقل و حمل میں ملوث سمگلروں کو گرفتار کر کے اضافہ کیا جا سکتا ہے۔"

نوجوان نسل کو بچانا

گورنمنٹ ڈگری کالج پشاور کے ایک لیکچرار، فرحان جاوید نے کہا، "یہ ایک بہت سادہ سا مظہر ہے کہ ایک نوجوان جسے سماجی برائیوں سے دور رکھا جاتا ہے اور وہ اپنے مستقبل کے پہلوؤں پر زیادہ پُراعتماد ہے اس کا دھوکہ کھانا اور جھانسے میں آ جانا بہت مشکل ہے۔ اس کے برعکس، ایک نشئی جس کا مستقبل تاریک ہے اسے انتہاپسندوں کی جانب سے سنبھالنا اور بھرتی کرنا زیادہ آسان ہے۔"

انہوں نے کہا، "منشیات کا استعمال ایک فرد کی بُرے بھلے میں تمیز کرنے کی جبلی صلاحیت پر اثرانداز ہوتا ہے، اور اسے اپنی ضروریات کے لیے غلط کام انجام دینے کا بہت زیادہ عادی بنا دیتا ہے۔"

"ایک ایسی صورتحال میں انحرافی طرزِ عمل کے امکانات شرحاً بہت زیادہ بڑھ جاتے ہیں جب ایک فرد اس کام کو کرنے کے لیے تیار ہو جاتا ہے جسے عام حالات میں تصور کرنا بھی مشکل ہوتا ہے۔"

انہوں نے مزید کہا، "منشیات کا بل ایک شاندار قانون سازی ہے جو طلباء و طالبات میں نشے کی عادت کو روکنے میں یقیناً مؤثر ہو گی بوجہ۔۔۔ ان لوگوں کے لیے سزائے موت جو آئس کو پاس رکھنے اور اس کی نقل و حمل میں ملوث ہیں۔"

یوتھ اینٹی ٹیررازم آرگنائزیشن (وائے اے ٹی او) کے جنرل سیکریٹری سید عباس شاہ نے کہا، "ہماری نوجوان نسل کے ناپسندیدہ سرگرمیوں بشمول انتہاپسندی اور عسکریت پسندی، کی طرف جھکاؤ کے پیچھے وجوہات کو پہچاننا ان واقعات کے رونما ہونے پر مؤثر طریقے سے قابو پانے میں مددگار ہو سکتا ہے۔"

"چند مقدمات میں یہ واضح تھا کہ سماج دشمن عناصر نے دھوکے اور عارضی مالی فوائد کی پیشکش کے ذریعے نوجوانوں کو اپنی طرف راغب کر لیا۔۔۔ اپنی کمزوریوں اور دماغی ہیجان کی وجہ سے منشیات کے عادی لوگوں کو نشانہ بنانا اور اپنے جال میں پھنسا لیا بہت آسان ہوتا ہے۔"

انہوں نے کہا کہ منشیات کی غیر قانونی نقل و حمل دہشت گردی میں سرمایہ کاری سے بھی منسلک رہی ہے۔

شاہ نے کہا، "منشیات کے بل میں نشاندہی کردہ سزائیں، بشمول آئس پاس رکھنے پر سزائے موت، کا ناصرف بڑے پیمانے پر اس کی سمگلنگ پر منفی اثر پڑے گا بلکہ یہ نوجوان نسل کو بھی خود کو منشیات سے باز رکھنے پر مجبور کرے گا۔"

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا
5
نہیں
تبصرے 1
تبصرہ کی پالیسی
Captcha

محض قبضہ کے لیے لوگوں کو قتل کرنا غلط ہے۔ ان لوگوں کو لت لگ گئی ہے۔ یہ بیمار ہیں۔ ریاست لوگوں کو امداد کے ذریعے قتل نہیں کرتی۔۔۔ نشئیوں کو علاج کی ضرورت ہوتی ہے، نہ کہ ان کو قتل کر دیا جاتا ہے۔ یہ انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہے اور اسے روکا جانا چاہیئے!

جواب