https://pakistan.asia-news.com/ur/articles/cnmi_pf/features/2020/03/11/feature-01
مذہب

امن کی واپسی کے ساتھ ہی کے پی کی سنہری مسجد میں خواتین کی نمازِ جمعہ میں واپسی

از سید ناصر عباس

image

6 مارچ کو پشاور میں برقعہ میں ملبوس ایک خاتون سنہری مسجد کے قریب سے گزرتے ہوئے۔ [سید ناصر عباس]

پشاور -- دو دہائیوں سے زیادہ عرصے کی غیر حاضری کے بعد، پشاور میں خواتین اب امن و امان کی بہتر صورتحال کے سبب سنہری مسجد میں نمازِ جمعہ ادا کرنے کے قابل ہیں۔

سنہری مسجد شہر کی ان دو مساجد میں سے ایک تھی جہاں 1990 کی دہائی میں خواتین نمازِ جمعہ میں شریک ہو سکتی تھیں۔ سنہ 1996 میں قرب و جوار میں ہونے والے کئی دہشت گرد حملوں کے بعد اسے خواتین کے لیے بند کر دیا گیا تھا۔

دوسری مسجد ایک چھوٹے فرقے کی ہے اور اس میں کم نمازی آتے ہیں۔

اس تاریخی مسجد کی تعمیر کا کام، قیامِ پاکستان سے ایک سال قبل، سنہ 1946 میں شروع ہوا تھا۔ 18،000 مربع فٹ رقبے پر مشتمل، مسجد میں ایک وقت میں 6،000 سے زائد نمازی نماز ادا کر سکتے ہیں، بشمول خواتین کا ایک ہال جس کی گنجائش 2،000 افراد ہے۔

image

6 مارچ کو پشاور میں خواتین سنہری مسجد میں نمازِ جمعہ ادا کرتے ہوئے۔ [سید ناصر عباس]

ابحالیہ برسوں میں امن و امان کی صورتحال میں نمایاں بہتری آنے پر، مسجد کی انتظامیہ نے 28 فروری سے آغاز کرتے ہوئے نمازِ جمعہ میں خواتین کی شرکت کو دوبارہ شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

مسجد کے باہر آویزاں ایک بینر پر لکھا ہے "اب سنہری مسجد میں نمازِ جمعہ ادا کرنے کے لیے خواتین کا خیرمقدم ہے۔"

سنہری مسجد کے داعی، 94 سالہ حبیب الرحمان نے اس وقت کا حوالہ دیتے ہوئے، جب نئے افراد بشمول انتہا پسندوں کی طغیانی تھی، کہا، "تقریباً 25 برس پہلے، جب افغان مہاجرین بڑی تعداد میں ہجرت کر کے پشاور آ رہے تھے، ہم نے دہشت گردی کے کسی بھی واقعہ سے اجتناب کرنے کے لیے خواتین کو نمازِ جمعہ میں شریک ہونے کی اجازت نہ دینے کا فیصلہ کیا تھا۔"

حبیب الرحمان کا کہنا تھا، "خواتین کو نمازِ جمعہ میں شرکت کرنے کی اجازت نہ دینے کے ہمارے فیصلے کے بعد ہونے والی دہشت گردی کی کارروائیوں نے [فیصلے کو] درست ثابت کیا۔"

انہوں نے کہا، "جب ہمیں احساس ہوا کہ امن و امان کی صورتحال بہت زیادہ بہتر ہو گئی ہے، تو ہم نے خواتین کو مسجد میں آنے اور نمازِ جمعہ میں شرکت کرنے کی اجازت دے دی۔"

انہوں نے مزید کہا، "آہستہ آہستہ اور بتدریج خواتین کی تعداد میں اضافہ ہو گا۔"

حبیب الرحمان نے کہا، "ہمارا بنیادی مقصد جمعہ کے اجتماعات میں خواتین کی شرکت کو یقینی بنانا ہے تاکہ وہ اسلام کی حقیقی تعلیمات جان سکیں اور اپنی زندگیاں اسلامی تعلیمات کے مطابق گزار سکیں۔"

مسجد کے نائب امام، مولانا اسماعیل کے مطابق شہریوں کا اس فیصلے پر مثبت ردِ عمل آیا ہے۔

انہوں نے کہا، "میری زوجہ اور بھابھی نےخواتین پر مسجد کے دروازے دوبارہ کھولنے کے فیصلے کو۔۔۔ سراہا ہے۔"

اسماعیل نے کہا، "نمازِ جمعہ میں خواتین کی شرکت دیگر اسلامی ممالک اور حتیٰ کہ مغربی ریاستوں میں بھی عام ہے۔ اب اس زمانۂ جدید میں نمازوں کے لیے خواتین کی مسجد میں حاضری بہت ضروری ہے تاکہ وہ خود کو اسلامی تعلیمات سے باخبر رکھ سکیں۔"

مسجد کے تدریسی عملے کے انچارج، قاری محمد سعید نے کہا کہ وہ اور ان کے اہلِ خانہ اس فیصلے پر بہت خوش ہیں۔

انہوں نے مسجد میں اپنے 30 سالہ تدریسی سفر اور جب 1990 کی دہائی کے اوائل میں ان کی والدہ اور زوجہ نے پہلی بار نمازِ جمعہ میں شرکت کی تھی اس وقت کو یاد کیا۔

ان کا کہنا تھا، "وہ بہت خوش تھیں، اور میں نے اپنی زندگی میں انہیں اتنا مطمئن اور شادمان کبھی نہیں دیکھا تھا۔"

سعید نے کہا، "یہ پہلی بار تھا کہ میری والدہ اور زوجہ نے ریڈیو پر سننے یا ٹی وی پر دیکھنے کی بجائے ذاتی طور پر خطیبِ مسجد کا خطبہ سنا تھا۔ جب خواتین کو مسجد جانے سے روک دیا گیا تو انہیں مایوسی ہوئی تھی، مگر اب وہ بہت خوش ہیں۔"

امن کے بیچ ایک قدم

خواتین کی مسجد میں واپسی بہت سوں سے داد و تحسین لینے والی بات ہے۔

کے پی اسمبلی کی ایک رکن اور عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کی رہنماء، شگفتہ ملک نے کہا، "ہم نمازِ جمعہ کے لیے خواتین کو مسجد جانے کی اجازت دینے کے فیصلے کی حمایت، حوصلہ افزائی اور خیرمقدم کرتے ہیں۔"

انہوں نے کہا، "[خواتین کی] نمازِ جمعہ میں شرکت انہیں اپنے بچوں کی ایک بہتر راستے کی طرف رہنمائی کرنے کے قابل بنائے گی۔"

شگفتہ ملک کا کہنا تھا، "یہ نیا دور ہے۔ آج، خواتین ہر شعبے میں مردوں کے مقابل کام کر رہی ہیں۔ اس لیے خواتین کی نمازِ جمعہ میں شرکت ایک قابلِ تحسین عمل ہے۔"

کے پی اسمبلی کی ایک رکن اور پاکستان پیپلز پارٹی کی ایک رہنماء، نگہت اورکزئی نے بھی سنہری مسجد میں نمازِ جمعہ میں خواتین کی واپسی کا خیرمقدم کیا۔

اورکزئی نے کہا، "یہ ایک اچھا فیصلہ ہے، جو ظاہر کرتا ہے کہ اب امن و امان کی صورتحال گزشتہ برسوں سے بہتر ہے۔"

انہوں نے مزید کہا، "نمازِ جمعہ میں خواتین براہِ راست اسلامی تعلیمات حاصل کریں گی، جس کا انہیں فائدہ ہو گا اور اس طرح وہ اپنے بچوں کو باآسانی تعلیم دے سکیں گی۔"

پشاور کے مقامی صحافی ایم ریاض نے کہا کہ خواتین کو نمازِ جمعہ میں حصہ لینے کی اجازت دینا امن و امان کی صورتحال میں بہتری کی عکاسی کرتا ہے۔

انہوں نے کہا، "دوسری جانب، خواتین کو نمازِ جمعہ میں آنے کی اجازت دینے کا فیصلہ یہ بھی ظاہر کرتا ہے کہ مسلمان خواتین پر نمازوں کے لیے، تعلیم حاصل کرنے اور دیگر ضروری امور کے لیے اپنے گھروں سے باہر جانے پر کوئی پابندی نہیں ہے۔"

ریاض کا کہنا تھا، "ناصرف میرے خاندان کی خواتین افراد اس فیصلے کو سراہتی ہیں، بلکہ اور بہت سے خاندانوں نے بھی اس نئی پیش رفت کو سراہا ہے اور اپنی خواتین افراد کو نمازِ جمعہ میں شرکت کے لیے بھیجنے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔"

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا

تبصرے 0
تبصرہ کی پالیسی * لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے 1500 حروف باقی ہیں (حد 1500 حروف)