https://pakistan.asia-news.com/ur/articles/cnmi_pf/features/2019/12/04/feature-01
صحت |

دہشت گردی کے مارے پاکستانیوں نے معذور افراد کا عالمی دن منایا

از اشفاق یوسفزئی

image

4 دسمبر کو پشاور میں حبیب فزیوتھیراپی کمپلیکس میں ایک معذور لڑکی مفت امدادی آلہ وصول کرتے ہوئے۔ [اشفاق یوسفزئی]

پشاور -- منگل (3 دسمبر) کے روز معذور افراد کا عالمی دن منانے کے موقع پر پاکستان میں معذور افراد عسکریت پسندی کے خاتمے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

23 سالہ شفیق احمد کو سنہ 2013 میں اس وقت ایک راکٹ لگا تھا جب وہ شمالی وزیرستان میں اپنے گھر میں تھے۔

انہوں نے کہا، "مجھے اس واقعہ کے 10 روز بعد پشاور کے ایک ہسپتال منتقل کیا گیا، جہاں ڈاکٹروں نے میری ٹانگ کاٹ دی، اور میں چلنے کے لیے امدادی آلات استعمال کرتے ہوئے بڑا ہوا۔"

image

خار، باجوڑ میں معذور افراد کے عالمی دن (3 دسمبر) پر معذور افراد پاکستان ہلالِ احمر سوسائٹی کے زیرِ اہتمام وہیل چیئر دوڑ میں حصہ لیتے ہوئے۔ [حنیف اللہ]

احمد طالبان جنگجوؤں کو کوستا ہے جنہوں نے اسے معذور بنا دیا۔

تاہم، اس کا کہنا تھا کہ فساد کو روکنے اور پاکستانیوں کے لیے ایک محفوظ مستقبل کو یقینی بنانے کی کنجی امن ہے۔

اس کا کہنا تھا، "فساد کے بغیر، ترقی ممکن ہے۔ اب عوام کے پاس ترقی کرنے کے مساوی مواقع ہیں۔"

حیات آباد میڈیکل کمپلیکس پر شعبہ فزیوتھیراپی کے سربراہ، ڈاکٹر محبوب رحمان نے کہا کہ وہ لوگ جو معذور ہیں وہ فساد کی مذمت کرنے میں حق بجانب ہیں جس نے انہیں لاچار کر دیا ہے۔

ان کا کہنا تھا، "عالمی ادارۂ صحت [ڈبلیو ایچ او] کا کہنا ہے کہ معذور افراد دنیا میں پسماندہ ترین لوگوں میں شمار ہوتے ہیں۔ معذور افراد کی صحت زیادہ خراب ہوتی ہے، ان کی تعلیمی کامیابیاں کم ہوتی ہیں، ان کی معاشی شرکت کم ہوتی ہے اور ان میں غربت کی شرح غیر معذور افراد سے زیادہ ہوتی ہے۔"

ڈبلیو ایچ او کا حوالہ دیتے ہوئے، رحمان نے کہا، "معذوری کو اب انسانی حقوق کا مسئلہ تصور کیا جاتا ہے۔"

ان کا کہنا تھا کہ قبائلی اضلاع میں بم دھماکوں اور خودکش حملوں کے متاثرین کو صحت کے بے شمار مسائل ہیں، خصوصاً معذوریاں، اورانہیں اہلِ خانہ اور معاشرے کی معاونت درکار ہے۔

خیبرپختونخوا (کے پی) محکمہ سماجی بہبود کے ایک اہلکار، ایاز خان کے مطابق، قبائلی علاقہ جات اور مالاکنڈ ڈویژن میں فساد کی وجہ سے یتیموں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ سنہ 2007 اور 2009 کے درمیان عسکریت پسندی میں مالاکنڈ میں 6،000 سے زائد شہری معذور ہو گئے تھے۔

انہوں نے کہا، "عسکریت پسند خوف پھیلانے کے لیے دہشت گردی کی کارروائیوں کے ذریعے عام شہریوں کو ہلاک اور زخمی کرنے کے لیے بدنام ہیں۔"

انہوں نے کہا کہ فوج کی جانب سے بہت سے دہشت گردوں کو ہلاک کرنے یا علاقے سے بھگا دینے کے بعد سے صورتحال بہت زیادہ بہتر ہو گئی ہے۔

کے پی وزیرِ صحت ہشام انعام اللہ خان نے کہا کہ معذوروں کو معاونت فراہم کرنے اور انہیں چلنے پھرنے کے قابل بنانے اور مزید پیچیدگیوں سے محفوظ رہنے کے قابل بنانے کے لیے حکومت نے ہر ضلع میں فزیوتھیراپی مراکز قائم کیے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ گروہوں اور فزیوتھیراپی کی معاونت معذور لوگوں کی مدد کرنے کے لیے ضروری ہے تاکہ وہ معاشرے کے مفید شہری بن جائیں۔

'کوئی رحم نہیں'

خیبر ٹیچنگ ہسپتال پشاور میں ایک آرتھوپیڈک سرجن، ڈاکٹر جواد علی کے مطابق، عسکریت پسندوں کی وجہ سے ہونے والی بہت سی معذوریاں سنگین ہیں اور متاثرین کو چلنے پھرنے سے روک سکتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ مرد، خواتین اور بچوں سبھی کو چوٹیں لگی ہیں خواہ وہ گھر سے باہر تھے یا اپنے گھر میں۔

34 سالہ ظفیراللہ، سنہ 2008 میں ضلع سوات میں اپنی مکینک کی دکان میں کام کر رہا تھا جب ایک آوارہ گولی اس کی دائیں ٹانگ میں آ کر لگی۔ اب وہ بیساکھیوں کے ساتھ چلتا ہے۔

اس کا کہنا تھا، "میری ٹانگ کے کئی بار آپریشن ہوئے مگر شدید انفیکشن کی وجہ سے آخرکار اسے کاٹنا پڑا۔ اس کے بعد سے، میں بیروزگار ہو گیا ہوں مدد کے لیے دوسروں کی طرف دیکھتا ہوں۔"

اس نے کہا کہ فوج سے اس کی بس اتنی سی درخواست ہے کہ ملک کو پُرامن بنانے کے لیےعسکریت پسندوں کے خلاف ہر جگہ بھرپور کارروائیاں کی جانی چاہیئیں۔

اس کا کہنا تھا، "طالبان کسی رحم کے مستحق نہیں ہیں۔"

40 سالہ سپوگمے گل، کو سنہ 2009 میں اس وقت بائیں ٹانگ پر زخم ہوا تھا جب ایک راکٹ ضلع مہمند میں اس کے گھر میں آ کر گرا تھا۔

اس کے بعد سے، اسے وہیل چیئر استعمال کرنی پڑتی ہے۔

اس نے کہا کہ اس کے ذمے دار عسکریت پسند ہیں، اس کا مزید کہنا تھا کہ اس کے چار بچوں کو اس کی معذوری کی وجہ سے مشکلات اٹھانی پڑی ہیں۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا
0
تبصرے 0
تبصرہ کی پالیسی