سلامتی

حالیہ امریکی دورے واشنگٹن اور اسلام آباد کے درمیان گرمجوش تعلقات کا مظہر

از زرک خان

یو ایس سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) کے سربراہ جنرل مائیکل 'ایرک' کُوریلا 23 جولائی کو راولپنڈی میں پاکستانی چیف آف آرمی اسٹاف جنرل سید عاصم منیر سے ملاقات کرتے ہوئے۔ [پاکستان کی مسلح افواج کی خبریں]

یو ایس سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) کے سربراہ جنرل مائیکل 'ایرک' کُوریلا 23 جولائی کو راولپنڈی میں پاکستانی چیف آف آرمی اسٹاف جنرل سید عاصم منیر سے ملاقات کرتے ہوئے۔ [پاکستان کی مسلح افواج کی خبریں]

اسلام آباد – واشنگٹن اور اسلام آباد کے درمیان گرمجوش تعلقات کی علامت کے طور پر امریکی حکام پاکستان کے دورے اور پاکستانی حکام سے رابطے بڑھا رہے ہیں.

امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے منگل (25 جولائی) کے روز وزیرِ خارجہ بلاول بھٹو زرداری کے ساتھ ایک فون کال میں پاکستان کی اقتصادی بحالی کے لیے امریکہ کی حمایت کا اعلان کیا اور "افغانستان سمیت علاقائی تحفظات کا اشتراک کیا"۔

بلنکن کی کال امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) کے سربراہ جنرل مائیکل "ایرک" کُوریلا کے اتوار سے منگل تک پاکستان کے دورے کے بعد ہوئی تھی۔

ایک پریس ریلیز میں سینٹکام کا کہنا تھا کہ کُوریلا نے اتوار کے روز راولپنڈی میں افواجِ پاکستان کے سربراہ جنرل سید عاصم منیر اور دیگر سینئر فوجی رہنماؤں کے ساتھ مختلف امور پر تبادلۂ خیال کیا۔

13 جولائی کو امریکی سفیر ڈونلڈ بلوم نے خیبر پختونخواہ کے پولیس افسران کے ساتھ ضلع نوشہرہ میں 17.2 ملین ڈالر کے مشترکہ پولیس ٹریننگ سینٹر کا افتتاح کیا۔ [اسلام آباد میں امریکی سفارت خانہ]

13 جولائی کو امریکی سفیر ڈونلڈ بلوم نے خیبر پختونخواہ کے پولیس افسران کے ساتھ ضلع نوشہرہ میں 17.2 ملین ڈالر کے مشترکہ پولیس ٹریننگ سینٹر کا افتتاح کیا۔ [اسلام آباد میں امریکی سفارت خانہ]

اس میں کہا گیا کہ حکام نے "پاکستانی مسلح افواج اور امریکی سینٹکام کے درمیان فوج کے فوج سے تعلقات کو مضبوط بنانے پر بات چیت کی، خاص طور پر انسدادِ دہشت گردی، فوجی صدمے سے لڑنے والے جانی نقصان کی دیکھ بھال، دفاعی تعاون، آفات سے نجات، اور انسانی امداد کے مواقع"۔

پیر کے روز، کُوریلا نے پاکستان کے قومی مرکز برائے انسدادِ دہشت گردی اور پاکستانی آرمی سنائپر سکول کا دورہ کیا اور وہاں کے اعلیٰ فوجی حکام کے ساتھ مختلف موضوعات پر تبادلۂ خیال کیا، جس میں "پاکستان اور امریکی سینٹکام کے مشترکہ انسدادِ دہشت گردی کی تربیت کے مواقع، اور پاکستانی فوج کے تربیتی انتظام کا عمل" شامل ہیں۔

دریں اثناء، امریکی قومی سلامتی کونسل کی سینئر ڈائریکٹر برائے جنوبی ایشیا ریئر ایڈمرل ایلین لاؤباکر نے 20 جولائی کو اسلام آباد میں بلاول کے ساتھ باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلۂ خیال کیا۔

وزیرِ خارجہ نے اس دن ایک ٹویٹ میں کہا کہ بلاول اور لاؤباکر نے "علاقائی امن و استحکام کے لیے پاکستان-امریکہ تعلقات کو مزید گہرا کرنے اور تجارت، معیشت اور توانائی میں تعاون کو بڑھانے کے عزم کا اعادہ کیا"۔

علاقائی استحکام کا فروغ

دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو تقویت دینے کے لیے ہونے والے معاہدوں نے دونوں ممالک کے درمیان گرمجوشی کے تعلقات کو مزید اجاگر کیا ہے۔

اسلام آباد میں امریکی سفارت خانے نے بتایا کہ پاکستان میں امریکی سفیر ڈونلڈ بلوم نے 13 جولائی کو ضلع نوشہرہ میں 17.2 ملین ڈالر کے مشترکہ پولیس تربیتی مرکز کا افتتاح کیا اور خیبر پختونخوا (کے پی) پولیس کو 3 ملین ڈالر کے زندگی بچانے والے آلات فراہم کرنے کے ایک اور معاہدے پر دستخط کیے۔

یہ مرکز، جسے سفارت خانے کے دفتر برائے بین الاقوامی نارکوٹکس اینڈ لا انفورسمنٹ افیئرز (آئی این ایل) نے گزشتہ 12 سالوں کے دوران تعمیر کیا تھا اور اسے مکمل طور پر امریکی حکومت نے فنڈ فراہم کیا تھا، ایک وقت میں 1,700 پولیس افسران کو تربیت دے سکتا ہے۔

سفارت خانے نے 75 عمارتوں کی تعمیر کے لیے فنڈ فراہم کیا، جن میں تعلیمی عمارتیں، ایک ہیلتھ یونٹ، مردوں اور خواتین کے ہاسٹل اور ایک کثیر المقاصد ہال شامل ہیں۔

سفارت خانے نے بتایا کہ ایک اور معاہدے کے تحت، سفارت خانہ اور آئی این ایل کے پی پولیس کو بکتر بند گاڑیاں، بلٹ پروف جیکٹیں اور ہیلمٹ فراہم کریں گے۔

پشاور کے مقامی بین الاقوامی تعلقات کے ایک محقق فیضان حسین نے کہا، "واشنگٹن کی حالیہ مصروفیات سے پتہ چلتا ہے کہ امریکہ ٹی ٹی پی [تحریک طالبان پاکستان] اور دیگر عسکریت پسند گروہوں کی وجہ سے پاکستان میں امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر تشویش ظاہر کر رہا ہے"۔

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ پاکستان نے سنہ 2014 میں امریکہ کی مالی اور تکنیکی مدد کی بدولت ٹی ٹی پی اور القاعدہ سے وابستہ دیگر گروہوں کے خلاف آپریشن ضربِ عضب میں اہم کامیابیاں حاصل کیں۔

انہوں نے کہا، "جنرل کُوریلا کا ایک سال سے بھی کم عرصے میں پاکستان کا تیسرا دورہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ امریکہ نے دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ میں پاکستان کی مدد کی ضرورت کو تسلیم کیا ہے"۔

اس کے علاوہ، جون میں،آئی این ایل نے کے پی حکومت کو دو گاڑیاں عطیہ کیں۔

سفارت خانے نے ایک بیان میں کہا کہ "وہ پوست کی کاشت میں کمی کے لیے انسدادِ منشیات کے عملی معائنے کرنے کے لیے خیبر پختونخواہ کی کوششوں کی حمایت کریں گے"۔

اس طرح کی مدد اہم ہے۔

پشاور میں ایک سینئر پولیس افسر نے کہا کہ کے پی پولیس ٹی ٹی پی اور دیگر عسکریت پسند گروہوں کا مقابلہ کرنے کے لیے پوری طرح پُرعزم ہے۔

افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا، تاہم، ان کی کوششوں میں وسائل کی کمی، خاص طور پر جان بچانے والے آلات کی کمی کی وجہ سے رکاوٹ ہے، جس نے قانون کے مؤثر نافذ میں رکاوٹ ڈالی ہے اور اس کے نتیجے میں افسران کی موت واقع ہوئی ہے۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا

تبصرے 0

تبصرہ کی پالیسی * لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے 1500 / 1500