سلامتی

ایران کے غلط اندازوں کی وجہ سے تناؤ بڑھنے پر امریکی فوج چوکس

از پاکستان فارورڈ

image

16 دسمبر کو قطر میں العدید ایئر بیس پر امریکی فضائیہ کے اہلکار پرواز سے قبل، معائنوں کے دوران چل پھر کر، معائنہ کرتے ہوئے۔ [سینٹکام]

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اس انتباہ کے بعد کہ وہ عراق میں امریکی شہریوں پر کسی بھی جان لیوا حملے کے لیے "ایران کو ذمہ دار ٹھہرائیں" گے، عسکری ذرائع کا کہنا ہے کہ ایرانی غلط اندازے کے تباہ کن نتائج نکل سکتے تھے۔

ٹرمپ اور امریکی فوج نے ایران پر الزام لگایا ہے کہ اتوار (20 دسمبر) کے روز بغداد میں امریکی سفارت خانے پر ہونے والے راکٹ حملے کے پیچھے اس کا ہاتھ تھا جس نے صرف مالی نقصان کیا مگر کوئی ہلاکت نہیں ہوئی۔

عراق میں امریکی اور بین الاقوامی مفادات پر سابقہ حملوں کے ایک سلسلے میں ایرانی پشت پناہی کی حامل ملیشیاؤں کو موردِ الزام ٹھہرایا جاتا رہا ہے۔

انتباہ اس وقت سامنے آیا ہے جب بغداد میں ایک امریکی فضائی حملے میں ایران کے چوٹی کے جنرل قاسم سلیمانی کی ہلاکت کی پہلی برسی سے قبل تناؤ میں اضافہ ہو گیا ہے، اور امریکہ نے اپنی فوج کو خطے میں جنگی حالت میں تیار رہنے کو کہہ دیا ہے۔

image

تین ایرانی راکٹ جو بغداد میں امریکی سفارت خانے کی جانب چلنے میں ناکام ہو گئے تھے عمارت کے قریب پائے گئے۔ [فائل]

image

امریکی اور سعودی بحری اور فضائی افواج، جہازوں کی آمدورفت کی آزادی اور تجارت کی بلاتعطل روانی کو یقینی بناتے ہوئے، سمندری حدود میں لاحق خطرات کا مقابلہ کرنے کے مقصد سے مستقل جاری مشقوں کے جزو کے طور پر 17 دسمبر کو گلف میں ایک مشترکہ کارروائی میں حصہ لیتے ہوئے۔ [سینٹکام]

دو دہائیوں سے زائد عرصے سے سلیمانی ایران کی سپاہِ اسلامی پاسدارانِ انقلاب کی قدس فورس (آئی آر جی سی-کیو ایف) کے سربراہ تھے جس نے عراق، شام، لبنان، بحرین، یمن اور افغانستان میں پراکسی ملیشیاؤں کو ہتهیار، مالی اعانت اور تربیت فراہم کی ہے۔

اس کی ہلاکت سے مشرقِ وسطیٰ اور اس سے آگے تک عسکریت پسندی اور ناچاقی کے بیج بونے کی تہران کی دہائیوں طویل مہم میں ایک فیصلہ کن موڑ آیا ہے۔

اس کی ہلاکت کے بعد سے، ایرانی حکومت نے امریکہ کے خلاف کھلے عام دھمکیاں دینے کا ایک سلسلہ جاری کیا ہے۔

تہران کے لیے سخت تنبیہ

اتوار کے حملے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے، بدھ کے روز ٹوئٹر پر ٹرمپ نے کہا، "اتوار کے روز بغداد میں ہمارے سفارت خانے پر کئی راکٹ داغے گئے۔"

ان کا مزید کہنا تھا، "پتہ ہے وہ کہاں سے آئے تھے: ایران سے۔"

انہوں نے مزید کہا، "اب ہم عراق میں امریکیوں پر مزید حملوں کی باتیں سن رہے ہیں،" اس کے بعد انہوں نے پیشکش کی، "ایران کے لیے ایک دوستانہ مشورہ ہے: اگر ایک امریکی بھی مارا جاتا ہے، تو میں ایران کو ذمہ دار ٹھہراؤں گا۔ ایک بار پھر سوچ لیں۔"

امریکی وزیرِ خارجہ مائیک پومپیو پہلے ہی ایران پر انگلی اٹھا چکے ہیں، جبکہ امریکی سینٹرل کمان (سینٹکام) نے کہا کہ راکٹ حملہ "لگ بھگ یقینی طور پر ایرانی پشت پناہی کے حامل سرکش ملیشیا گروہ کی جانب سے کیا گیا تھا۔"

ایک بیان میں سینٹکام کا کہنا تھا جبکہ اس "کی وجہ سے کوئی امریکی زخمی یا ہلاک نہیں ہوا، حملے نے امریکی سفارت خانے کی عمارت میں دیگر عمارتوں کو نقصان پہنچایا، اور یہ واضح ہے کہ یہ صرف مالی نقصان کرنے کے لیے ہی نہیں تھا۔"

بیان میں مزید کہا گیا، "امریکہ کسی بھی امریکی کی موت کے لیے ایران کو ذمہ دار ٹھہرائے گا جو ایرانی پشت پناہی کے حامل سرکش ملیشیا گروہوں کی کارروائی کے نتیجے میں ہو گی۔"

اس میں کہا گیا، "یہ گروہ ایرانی پشت پناہی کے حامل ہیں کیونکہ ایران انہیں سازوسامان بھی فراہم کرتا ہے اور ہدایات بھی۔ وہ سرکش گروہ ہیں کیونکہ وہ عراقی خودمختاری سے براہِ راست غداری کر کے دراصل ایرانی مفادات اور ہدایات پر عمل کر رہے ہیں۔"

بڑھتی ہوئی اشتعال انگیزیاں

اتوار کے روز بغداد میں امریکی سفارت کانے کے قریب راکٹوں کی بوچھاڑ ہوئی۔

اے ایف پی نے بتایا کہ شاہدین نے کم از کم پانچ دھماکے سنے، پھر گولیوں کی طوفانی تڑتڑاہٹ سنی اور سرخ شعلوں کے سلسلے دیکھے، انہوں نے نشاندہی کی کہ امریکی سفارت خانے کا سی - آر اے ایم راکٹ دفاعی نظام فعال ہو چکا تھا۔

عراقی افواج نے کہا کہ راکٹوں سے مادی نقصان ہوا ہے، مگر کوئی ہلاکت نہیں ہوئی۔

عراق میں امریکی مفادات پر سابقہ حملوں کی ذمہ داری ان گروہوں کی جانب سے قبول کی جاتی رہی ہے جنہیں امریکی اور عراقی دونوں حکام عراق میں جانے پہچانے ایرانی حامی مسلح دھڑوں کے لیے سموک سکرین کے طور پر بیان کرتے ہیں، جن میں کاتیب حزب اللہ بھی شامل ہے۔

مگر ایک غیرمعمولی اقدام میں، کئی دھڑوں، بشمول کاتیب حزب اللہ، نے اتوار کے روز ہونے والے حملے کی مذمت کی۔

ملیشیا نے کہا، "اس وقت برائی (امریکہ) کے سفارت خانے پر بمباری کو سمجھ سے باہر تصور کیا جاتا ہے،" جبکہ انہوں نے امریکی سفارت خانے کی جانب سے سی - آر اے ایم نظام استعمال کیے جانے کی بھی مذمت کی۔

ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں، مشہور عالمِ دین اور سابق ملیشیا رہنما مقتدیٰ الصدر نے کہا کہ "ریاست سے باہر کسی کو بھی ہتھیار استعمال کرنے کا حق نہیں ہے۔"

حالیہ مہینوں میں امریکی سفارت خانے اور دیگر غیر ملکی فوجی اور سفارتی مقامات کو درجنوں راکٹوں اور سڑک کنارے نصب بم حملوں کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔

امریکی اور عراقی حکام نے تعصب پسند گروہوں، بشمول کاتیب حزب اللہ پر الزام لگایا ہے۔

اکتوبر میں، ان گروہوں نے ایک لامحدود جنگ بندی پر اتفاق کیا تھا، مگر اتوار کا حملہ تیسری بڑی خلاف ورزی ہے۔

پہلی، 17 نومبر کو، ہونے والی خلاف ورزی میں راکٹوں کی ایک بوچھاڑ امریکی سفارت خانے اور عراقی دارالحکومت کے مختلف حصوں میں ہوئی، جس سے ایک جوان خاتون جاں بحق اور پانچ عام شہری زخمی ہوئے تھے۔

10 دسمبر کو، "دولتِ اسلامیہ" (داعش) کے خلاف لڑنے میں عراقی افواج کی مدد کرنے والے بین الاقوامی اتحاد کے لیے امدادی سامان لے جانے والے دو قافلوں کو سڑک کنارے نصب شدہ بموں سے نشانہ بنایا گیا۔

عسکری اثاثے

طاقت کے ایک نئے اظہار میں ایک امریکی ایٹمی آبدوز سوموار کے روز آبنائے ہرمز میں سے گزری تھی۔ یو ایس ایس جارجیا آٹھ برسوں میں آبنائے سے گزرنے والی پہلی امریکی ایٹمی آبدوز تھی -- جو سطح سمندر پر سے گزری، تاکہ زیادہ سے زیادہ نظروں میں آئے اور امریکی عہد کا پیغام دے۔

مشرقِ وسطیٰ میں امریکی فوج کے سربراہ، جنرل فرینگ میکینزی، نے اتوار کے روز صحافیوں کو بتایا کہ اگر ایران نے ان پر حملہ کیا تو واشنگٹن "ردِعمل دینے کے لیے تیار" ہے۔

ستمبر میں، امریکی طیارہ بردار جہاز، یو ایس ایس نیمٹز، آبنائے میں سے گزرا تھا، جو ایک اہم سمندری راستہ ہے جو عالمگیر توانائی کی رسدوں کے گزرنے کے لیے ضروری ہے۔ یہ گزشتہ نومبر سے خلیج کے پانیوں میں گشت کر رہا ہے۔

اس مہینے کے شروع میں، امریکی فضائیہ کے بی-52 ایچ سٹریٹوفورٹریسیز کے ایک جوڑے نے خلیجِ عرب میں، دیگر امریکی فضائیہ اور علاقائی شراکت کاروں کے جہازوں کے ہمراہ، فوری اطلاع پر، بغیر رکے ایک مشن انجام دیا تھا۔

9 دسمبر کو طاقت اور یکجہتی کا اظہار 21 نومبر کو خطے میں ایک ملتے جلتے طویل رینج کے مشن کے بعد تھا جس کے بارے میں امریکی عسکری اہلکاروں نے کہا کہ اس کا مقصد جارحیت کو ختم کرنا اور امریکی شراکت داروں اور اتحادیوں کو تسلی دینا تھا۔

9ویں فضائی کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل گریگ گیلیٹ نے اس وقت کہا تھا کہ فضائیہ کے دونوں مشنوں کا مقصد "امریکی فضائیہ کی مضبوط اور متنوع صلاحیتوں کا اجاگر کرنا تھا جو کہ فوری طور پر دستیاب بنائی جا سکتی ہیں۔"

انہوں نے کہا، "پہل کاریوں کو روکنے، محدود کرنے اور ان سے کام نکالنے کے لیے افواج کو میدان جنگ کے اندر، باہر اور اس کے اردگرد تیزی کے ساتھ منتقل کرنے کی صلاحیت ممکنہ جارحیت کو ختم کرنے کے لیے اہم ہے۔"

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا

تبصرے 0
تبصرہ کی پالیسی * لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے 1500 / 1500