سلامتی

طالبان کو القاعدہ سے بم سازی کی تربیت ملتی ہے: افغان حکام

عمر

image

26 فروری کو شائع ہونے والی اس تصویر میں طالبان جنگجو ایک نامعلوم مقام پر ایک عسکری مشق میں شریک ہیں۔ [طالبان]

ہرات – ملک کے مغربی صوبوں میں افغان عسکری حکام کا دعویٰ ہے کہ چند کلیدی ضلعوں میں طالبان کے ساتھ ساتھ القاعدہ عسکریت پسند بھی فعال ہیں، جہاں وہ طالبان جنگجوؤں کو بارودی سرنگیں تیار کرنا سکھا رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بادغیس کے ضلع بالا مرغاب، فریاب کے ضلع گھورمچھ، اور صوبہ ہرات کے اضلاع زرِ کوہ اور شنداند میں القاعدہ موجود ہے۔

افغان نیشنل آرمی (اے این اے) کی 207 ویں ظفر کور کے کمانڈر میجر جنرل عبدالرؤف ارغندیوال نے کہا کہ بالا مرغاب میں طالبان کے عہدوں پر القاعدہ کے تقریباً 25 عناصر فائز ہیں۔

انہوں نے کہا، "القاعدہ کے یہ عسکریت پسند طالبان کو مالیات فراہم کرنے، انہیں مسلح کرنے اور بم سازی کی تریبت دینے میں ایک فعال کردار ادا کر رہے ہیں۔"

image

قومی نظامتِ سلامتی (این ڈی ایس) کے ہرات صوبائی صدرمقام میں 2 فروری کو ایک طالبان ساختہ چپکنے والا بم دکھایا گیا ہے۔ [عمر/سلام ٹائمز]

انہوں نے کہا، "ہماری انٹیلی جنس رپورٹس کے مطابق، ہرات کے ضلع زرِ کوہ میں متعدد القاعدہ کارکنان موجود ہیں۔ مالی معاونت کے ساتھ ساتھ وہ طالبان کو بارودی سرنگیں بنانے اور دہشتگرد حملے کرنے کی تربیت بھی دیتے ہیں۔"

ارغندیوال نے کہا کہ القاعدہ کارکنان طالبان کے زیرِ سایہ و معاونت اس گروہ کے زیرِ انتظام علاقوں میں رہتے ہیں، اور مل کر افغان افواج کے خلاف لڑتے ہیں۔

17 فروری کو ایک خطاب میں سابق نائب صدر عبدالرشید دوستم نے کہا کہ القاعدہ بادغیس اور فریاب میں فعال ہے، جہاں اس کے طالبان کے ساتھ قریبی روابط ہیں۔

دوستم نے کہا کہ عثامہ بن لادن کا پوتا نصرالدین، سراج الدین حقانی کا بیٹا سیف الدین حقانی، اور تاخیر یلداشیو کی بیٹی بی بی مکرمہ ضلع گھورمچ، فریاب؛ اور ضلع بالا مرغاب، بادغیس میں کام کر رہے ہیں۔

القاعدہ کے ساتھ روابط برقرار

بادغیس کے حکام کا کہنا ہے کہ طالبان نے القاعدہ اور صوبے میں دیگر غیرملکی دہشگرد گروہوں سے اپنے روابط ختم نہیں کیے، انہوں نے حوالہ دیا کہ ان عناصر نے سیکیورٹی فورسز کو ہدف بنانے سمیت دہشتگرانہ کاروائیاں کرنے میں طالبان کے ساتھ شمولیت اختیار کی۔

بادغیس کے گورنر حسام الدین شمس نے کہا کہ غیرملکی عناصر کے چند اہلِ خانہ ضلع بالا مرغاب میں طالبان کے زیرِ قبضہ علاقوں میں رہتے ہیں۔ وہ صوبہ بادغیس میں سیکیورٹی فورسز پر ہونے والے حملوں میں سے اکثر میں شریک ہوتے ہیں اور طالبان کے ہمراہ لڑتے ہیں۔

انہوں نے کہا، "ان غیر ملکی عسکریت پسندوں میں القاعدہ کے ارکان اور دیگر ممالک کے شہری شامل ہیں۔"

انہوں نے مزید کہا، "طالبان کی جانب سے بنایا جانے والا یہ چھتری نما گروہ تمام دہشتگرد گروہوں کا میزبان ہے۔ ماضی میں طالبان القاعدہ کے ساتھ مستحکم روابط سے مستفید ہوئے، اور انہوں نے اب تک ان روابط کو پرزور طور پر برقرار رکھا ہوا ہے۔"

بادغیس کی صوبائی کاؤنسل کے رکن محمد نصیر نظری نے کہا کہ غیر ملکی عسکریت پسندوں کے پچاس خاندان بالامرغاب میں رہتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ طالبان نے اس ضلع میں شہریوں کو ان کے گھروں سے نکال باہر کیا اور یہ گھر غیرملکی عسکریت پسندوں کو دے دیے۔

نظری نے کہا، "القاعدہ ارکان کے علاوہ، دیگر جنگجو اپنے خاندانوں کے ہمراہ بالا مرغاب میں رہتے ہیں اور افغان افواج پر طالبان کے حملوں میں ان کے ساتھ شریک ہو جاتے ہیں۔”

گزشتہ برس تین فوجیوں کی ہلاکت کا باعث بننے والے ایک بم حملے کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے مزید کہا، "چند ماہ قبل بالا مرغاب میں [اے این اے] کی تیسری بٹالین پر پھٹنے والی کار بم کا ڈرائیور ان غیر ملکی عسکریت پسندوں میں سے ایک تھا جن کے خاندان اب اس ضلع میں مقیم ہیں۔"

بادغیس کی صوبائی کاؤنسل کے رکن عبداللہ افضالی نے کہا کہ القاعدہ سمیت بین الاقوامی دہشتگرد گروہ طالبان کی حمایت کے ساتھ کام کر کے عدم سلامتی اور عدم استحکام کا باعث بنتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا، "بالا مرغاب میں طالبان کے زیرِ انتظام علاقوں سے کام کرتے ہوئے یہ بین الاقوامی دہشتگرد ہی صوبہ بادغیس میں زیادہ تر سلامتی کے مسائل اور تشدد کے پیچھے ہیں۔ اس ضلع میں القاعدہ علی الاعلان طالبان کے ساتھ کام کرتا ہے۔"

انہوں نے تنبیہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر ان بین الاقوامی دہشتگرد گروہوں کی سرگرمیاں نہ روکی گئیں تو یہ افغانستان اور خطے کے لیے ایک شدید خطرے کا باعث ہوں گے۔

دوحہ معاہدے کی خلاف ورزی

اگرچہ فروری 2020 کے دوحہ معاہدے کے تحت طالبان نے امریکہ سے وعدہ کیا تھا کہ وہ القاعدہ اور دیگر دہشتگرد گروہوں کے ساتھ اپنے روابط منقطع کر دیں گے ، تاہم افغان حکام، اقوامِ متحدہ (یو این) اور امریکہ نے دعویٰ کیا ہے کہ طالبان نے اس معاہدہ کی شرائط کی خلاف ورزی کی ہے۔

اقوامِ متحدہ نے 3 فروری کی ایک رپورٹ میں کہا کہ طالبان نے القاعدہ کے ساتھ اپنے روابط برقرار رکھے ہوئے ہیں۔

اس میں کہا گیا کہ ننگرہار، بدخشاں، خوست، غزنی، ہلمند، کنڑ، کندوز، لوگر، نورستان، پاکتیا اور زابل سمیت 11 صوبوں میں القاعدہ کے 200 سے 500 کے درمیان فعال ارکان طالبان کی حمایت کے تحت کام کر رہے ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ یہ عسکریت پسند طالبان کے ہمراہ لڑتے ہیں اور انہیں بم سازی اور بارودی سرنگیں بنانا سکھاتے ہیں۔

قلعہٴ نوا میں سول سوسائٹی کے ایک فعالیت پسند جنید اللہ اشکانی نے کہا کہ طالبان نے دوحہ معاہدہ کے تحت امریکہ سے کیے گئے کسی عہد کو بھی پورا نہیں کیا۔

انہوں نے کہا، "طالبان اب بھی دہشتگرد گروہوں اور بین الاقوامی دہشتگرد تنظیموں کے ساتھ رابطہ میں ہیں۔ یہ غیر ملکی دہشتگرد ملک بھر میں روزافزوں تشدد اور طالبان کی جانب سے پیچیدہ حملوں کے پیچھے ہیں۔"

انہوں نے مزید کہا، "شہروں، ضلعی مراکز، اور شاہراہوں پر طالبان حملوں میں اضافہ دوحہ معاہدے کی واضح خلاف ورزی ہے۔"

اشکانی نے مزید کہا کہ نہ صرف یہ کہ طالبان نے اپنے حملوں میں کمی نہیں کی، بلکہ انہوں نے زیادہ تر شہروں میں تشدد اور ٹارگٹڈ حملوں میں اضافہ کر دیا ہے ۔

قلعہٴ نوا میں سول سوسائٹی کے ایک فعالیت پسند خیر محمد لطف نے کہا کہ طالبان کے القاعدہ کے ساتھ کسی بھی قسم کے روابط دیرپا امن کے لیے اس گروہ کے عہد کی ایک خلاف ورزی ہے۔

انہوں نے کہا، "طالبان سے ہمارا مطالبہ ہے کہ وہ اپنے عہد کو پورا کریں اور ملک میں امن و استحکام کے لیے راہ ہموار کرنے کی غرض سے بین الاقوامی دہشتگردوں کے ساتھ اپنے روابط منقطع کریں۔"

انہوں نے مزید کہا کہ جب تک طالبان اپنے وعدوں کو پورا نہیں کرتے، ان پر مزید اعتبار نہیں کیا جا سکتا۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا

تبصرے 0

تبصرہ کی پالیسی * لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے 1500 / 1500