سلامتی

افغانستان میں طالبان کا تشدد افراتفری، المیئوں پر تیل چھڑک رہا ہے

از عمر

طالبان کے بڑھتے ہوئے تشدد نے افغانستان کے مغربی علاقے میں ہزاروں خاندانوں کو اپنے گھروں کو چھوڑ جانے پر مجبور کر دیا ہے۔ مقامی حکام کے مطابق، گزشتہ تین ماہ کے عرصے میں طالبان کے حملوں سے ہرات کے بہت سے اضلاع میں لگ بھگ 3،000 خاندان بے گھر ہو چکے ہیں۔ [عمر/سلام ٹائمز]

ہرات -- طالبان کے بڑھتے ہوئے تشدد نے افغانستان کے مغربی علاقے میں ہزاروں خاندانوں کو اپنے گھر چھوڑ جانے پر مجبور کر دیا ہے۔

22 جون کو، ہرات کے شعبہ مہاجرین و مراجعت کے ڈائریکٹر، مبین قادری نے کہا کہ گزشتہ تین ماہ کے عرصے میں طالبان کے حملوں سے ہرات کے بہت سے اضلاع میں لگ بھگ 3،000 خاندان بے گھر ہو چکے ہیں۔

قادری کے مطابق، مزید 2،000 خاندان نزدیکی اضلاع، زیادہ تر شنداند، پشتون زرغون اور اوبے کے اضلاع سے ہرات شہر کو بھاگ گئے ہیں۔

انہوں نے کہا، "وہ شدید لڑائیوں اور طالبان کی جاری جنگ کی وجہ سے ہر شئے پیچھے چھوڑ کر، اپنے گھروں کو خیرباد کہہ چکے ہیں۔"

image

وہ بچے جن کے خاندان طالبان کے تشدد کی وجہ سے بے گھر ہو چکے ہیں انہیں 15 جون کو صوبہ ہرات کے ضلع انجیل کے شیدائی علاقے میں ایک کیمپ میں دیکھا جا سکتا ہے۔ [عمر/سلام ٹائمز]

image

15 جون کو ایک بزرگ شخص کو بادغیس کے صوبائی دارالحکومت، قلعۂ نو کے قریب دیکھا گیا ہے، جب وہ طالبان کی لڑائی کی وجہ سے قادس ضلع میں اپنا گھر چھوڑنے پر مجبور ہو گیا تھا۔ [شامیل مشعال/سلام ٹائمز]

قادری کا کہنا تھا کہ حکومت اور انسانی ہمدردی کی بنیاد پر کام کرنے والی تنظیموں نے ملک کے اندر ہی بے گھر ہونے والے والے افراد (آئی ڈی پیز) کو فوری امدادی پیکیج، بشمول کھانے پینے کی اشیاء اور بنیادی امداد پہنچائے ہیں اور امداد فراہم کرنا جاری رکھیں گے۔

21 جون کو غور کے شعبہ مہاجرین و مراجعت کے ڈائریکٹر، عبدالرؤف غفوری نے کہا کہ دریں اثناء، صوبہ غور میں طالبان کی لڑائی میں شدت بھی مکینوں کے بھاگنے کا سبب بنی ہے، 500 سے زائد خاندان مختلف اضلاع میں بے گھر ہوئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بے گھر ہونے والے 500 خاندانوں میں سے، 300 کو ابھی تک نقدی اور غذائی امداد مل چکی ہے۔

غفوری کا کہنا تھا، "باقی ماندہ کو امداد تقسیم کرنا ہمارا ہدف ہے،" ان کا مزید کہنا تھا کہ طالبان کی جاری لڑائی ہر روز درجنوں خاندانوں کو اپنے گھر چھوڑ جانے پر مجبور کر رہی ہے۔

20 جون کو بادغیس کے شعبہ مہاجرین و مراجعت کے ایک اہلکار، محمد گل مہربان نے کہا کہ اسی طرح، بادغیس میں، 821 کی تعداد تک خاندان قادم موقور اور اب کماری اضلاع کو بھاگ چکے ہیں اور گزشتہ ماہ میں قلعۂ نو شہر میں عارضی پناہ لے چکے ہیں۔

انہوں نے کہا، "ہم نے نئے آمدہ آئی ڈی پیز کا سروے شروع کر دیا ہے۔"

جبر اور تشدد

بے گھر ہونے والے خاندانوں کے افراد کا کہنا ہے کہ طالبان نے جان سے مارنے کی دھمکیاں دے کر ان کے نوجوان بیٹوں کو اپنی لڑائی میں شامل ہونے پر مجبور کیا ہے۔

صوبہ بادغیس کے ضلع قادس کے ایک مکین سید نے کہا کہ وہ طالبان کے جبر اور تشدد کے نتیجے میں قلعۂ نو شہر میں پناہ لینے پر مجبور ہو گیا۔

اس نے کہا، "طالبان نے ہمارے بچوں کو مارا پیٹا اور ہم سے بھتہ وصول کیا،" ان کا مزید کہنا تھا کہ انہیں اپنا تمام مال و متاع پیچھے چھوڑ کر بھاگنا پڑا۔

60 سالہ تازہ گل، ضلع قادس کی مکین نے کہا کہ طالبان نے ان کے چھوٹے بیٹے کو گولی مار کر ہلاک کر دیا جس نے ان کی صفوں میں شامل ہونے سے انکار کیا تھا۔

ان کا کہنا تھا، "طالبان نے ہمارے گھروں کو جلا دیا، اور ہمیں سب کچھ پیچھے چھوڑنے اور فرار ہو جانے پر مجبور کر دیا گیا۔"

اب کماری کے 55 سالہ ایک مکین، امرالدین نے کہا کہ طالبان نے ان کے خاندان کے افراد کو ہلاک کر دیا اور حتیٰ کہ بچ جانے والوں کو ان کی مناسب تدفین تک بھی نہ کرنے دی۔

ان کا کہنا تھا، "کیا معلوم کہ کون سے جانور یا جنگلی پرندے ہمارے خاندان کے مرحوم افراد کی باقیات کو کھا گئے ہوں۔"

امرالدین نے کہا، "بس بہت ہو گیا۔ ہمارا جنگ میں شامل تمام فریقین سے مطالبہ ہے کہ وہ امن قائم کریں اور مزید شہریوں کی ناگزیر بے گھری سے اجتناب کریں۔"

شنداند کے ایک مکین، حسین نے کہا کہ طالبان نے ہرات میں اس کے ضلع میں ایک شاہراہ کو تباہ کر دیا اور مقامی افراد کو بے گھر کر دیا۔

انہوں نے کہا، "جاری شدید جھڑپوں نے عام شہریوں کو اپنے گھر چھوڑ کر فرار ہونے اور ہرات شہر میں محفوظ دیہات میں پناہ لینے پر مجبور کر دیا ہے۔ ہم نے ہر لمحہ --- مارٹر گولوں کو گرتے ہوئے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے۔"

گھروں پر قبضہ کرنا، یرغمال بنانا

بادغیس کے گورنر ہشام الدین شمس نے کہا کہ طالبان فوج پر حملے کرنے کے لیے یا جوابی حملوں سے بچنے کے لیے عام شہریوں کے گھروں کو بطور چھاؤنیاں استعمال کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ فوج طالبان کے جنگ کرتے وقت بھی عام شہریوں کے گھروں پر غفلت سے حملے کرنے سے گریز کرنے پر خصوصی توجہ دیتی ہے۔

شمس کا کہنا تھا کہ طالبان جنگ کے کسی قانون یا اصول کو نہیں مانتے اور عام شہریوں، خصوصاً خواتین اور بچوں، کو انسانی ڈھالوں کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ جب طالبان گھروں میں داخل ہوتے ہیں، وہ نادار خاندانوں کو انہیں کھانا کھلانے پر مجبور کرتے ہیں۔

غور کی صوبائی کونسل کی ایک رکن، انیسہ غیور نے کہا کہ افغان عوام طالبان کی جانب سے بڑھتے ہوئے تشدد اور جبر سے اکتا گئے ہیں۔

غیور نے کہا کہ طالبان تواتر کے ساتھ عام شہریوں کے گروں کو بطور چھاؤنی استعمال کرتے ہیں اور فوج کے جوابی حملوں سے بچنے کے لیے گھرانے کے افراد کو یرغمال بنا لیتے ہیں اور نتیجتاً، لڑائی کے دوران گھروں کو شدید نقصان پہنچا ہے۔

انہوں نے کہا، "طالبان نے اسلامی اور انسانی اقدار کی خلاف ورزی کی ہے اور اپنے اہداف حاصل کرنے کے لیے بہت سے بے گناہ افغانوں کی جانیں قربان کر دی ہیں۔"

بادغیس میں سول سوسائٹی کے ایک کارکن، حامداللہ نائب نے کہا کہ طالبان نے کبھی بھی عام شہریوں، بشمول خواتین اور بچوں، کی جانوں کی پرواہ نہیں کی۔

نائب نے کہا کہ انہوں نے ان خاندانوں کے افراد کو قتل اور ان کے گھروں کو نذرِ آتش کر دیا ہے جنہوں نے ان کے مطالبات ماننے سے انکار کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ طالبان ایک دہشت گرد گروہ ہیں اور ان کا انسانی اقدار یا انسانی حقوق کے اصولوں کے ساتھ کوئی واسطہ نہیں ہے۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا

تبصرے 0

تبصرہ کی پالیسی * لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے 1500 / 1500