سلامتی

ایران کے شکستہ وعدوں نے افغانستان، پاکستان میں ہزاروں زندگیاں برباد کر دیں

پاکستان فارورڈ

image

مشہد، ایران میں امام رضا کے مقبرے کے قریب، 15 اکتوبر کو لوگ شام میں ہلاک ہونے والے فاطمیون کے ارکان کے پوسٹر دیکھتے ہوئے۔ [فائل]

سنہ 2011 میں شام کی خانہ جنگی کے بعد سے ایرانی حکومت نے جو بہت سے جرائم کیے ہیں اور مظالم ڈھائے ہیں، جنگ میں ایرانی اہداف کی پیش قدمی کے لیے افغان اور پاکستانی نوجوانوں کا استحصال شاید ان میں سے مکروہ ترین اور سب سے زیادہ ناقابلِ فہم ہے۔

ایران کی سپاہِ اسلامی پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) فاطمیون ڈویژن -- افغانوں پر مشتمل ملیشیا -- اور زینبیون بریگیڈ -- پاکستانیوں پر مشتمل ایک ملیشیاکو سرمایہ فراہم کرتی ہے، تربیت دیتی ہے اور مسلح کرتی ہے۔

گزشتہ برسوں میں، شام کی جنگ میں ہزاروں افغان اور پاکستانی جنگجو مبینہ طور پر ہلاک اور زخمی ہو چکے ہیں، زیادہ تر صدر بشارالاسد کی حکومت کی حمایت کرنے کی کارروائیوں کے دوران، جو کہ ایران کا قریبی اتحادی ہے۔

شام کی خانہ جنگی کے ابتدائی ایام سے، آئی آر جی سی کے منتظمین نے شامی جنگ کے میدانوں کے لیے توپوں کے چارے کے طور پر افغانوں اور پاکستانیوں کو بھرتی کرنے کے لیے نظریئے، مالی مراعات اور جبر کا ایک مرکب اپنایا ہے۔

image

فاطمیون ڈویژن کے ارکان 17 اکتوبر کو الیپو، شام میں ایک سوگواری کی تقریب میں شریک ہیں۔ [فائل]

آئی آر جی سی کے بھرتی کار وعدہ کرتے ہیں کہ نوجوان مقدس شیعہ مزارات کا دفاع کریں گے اور بھاری تنخواہیں اور ایرانی شہریت پائیں گے۔

حقیقت، تاہم، بہت مختلف ہے۔

حساس افراد کو پھانسنا

فروری میں، پاکستان کے دفاعی اہلکاروں نے کراچی میں کئی افراد کو گرفتار کیا تھا جن پر انہیں زینبیون بریگیڈاور پاکستان اور بیرونی ممالک میں فعال دیگر شیعہ عسکری گروہوں کے ساتھ وابستہ ہونے کا شبہ تھا۔

اطلاعات کے مطابق، بعد میں ہونے والی تحقیقات نے ان کی وابستگی کی تصدیق کر دی، اور کراچی، کوئٹہ، پشاور اور پاراچنار سمیت ملک کے دیگر کئی حصوں سے آئی آر جی سی کے بھرتی کاروں کی جانب سے حساس پاکستانی شیعہ نوجوانوں کی بھرتی کو نمایاں کیا۔

جبکہ آئی آر جی سی نے زینبیون بریگیڈ کے لیے پاکستان سے سینکڑوں شیعہ نوجوانوں کو بھرتی کیا ہوا ہو سکتا ہے ، اطلاعات نشاندہی کرتی ہیں کہ وقت کے ساتھ ساتھ، اس تنظیم نے اپنی توجہ ان پاکستانی شیعوں پر منتقل کر دی ہے جو زیارات یا روزگار کے سلسلے میں ایران جاتے ہیں.

یہ تبدیلی غالباً پاکستان کے دفاعی محکموں کی جانب سے ایران کے ساتھ منسلک شیعہ عسکری گروہوں کے خلاف سخت کارروائیوں کے سلسلے کی وجہ سے ہے، جنہیں حکومت قومی سلامتی کو لاحق خطرے کے طور پر دیکھتی ہے۔

محلِ وقوع سے قطع نظر، آئی آر جی سی کے بھرتی کار زیادہ تر حساس شیعہ نوجوانوں کو ہدف بناتے نظر آتے ہیں، جو اکثر غربت اور بیروزگاری سے نبردآزما ہوتے ہیں۔

بہت سی صورتوں میں، ان نوجوانوں کو اس وقت حراست میں لے لیا جاتا ہے جب وہ ایران کے دورے پر ہوتے ہیں اور خصوصی جیلوں میں ڈال دیا جاتا ہے جہاں ان کے جیلر ان کی برین واشنگ کرتے ہیں اور انہیں زینبیون بریگیڈ میں شامل ہونے پر مجبور کرتے ہیں۔

ایران میں افغان پناہ گزینوں کی بڑی تعداد نے آئی آر جی سی کے بھرتی کاروں کو خستہ حال اور اکثر مایوس نوجوانوں کی ایک آبادی تک آسان رسائی فراہم کر دی ہے۔

گزرے برسوں میں کئی اطلاعات سامنے آئی ہیں کہ آئی آر جی سی کے منتظمین نوجوان افغانوں -- بہت سی صورتوں میں بچوں -- کو مجبور کرتے ہیں کہ وہ یا تو فاطمیون ڈویژن میں شامل ہوں یا پھر اپنے خاندانوں کے ساتھ، ملک بدری کا سامنا کریں۔

زینبیون میں بھرتی ہونے والوں ہی کی طرح، ان نوجوانوں سے پرکشش تنخواہوں، ایرانی شہریت اور دیگر مراعات کے جھوٹے وعدے کیے جاتے ہیں۔

تہران کی جانب سے افغان پناہ گزینوں کے اس ننگے استحصال پر علاقائی اور بین الاقوامی مبصرین کی جانب سے وسیع طور پر تنقید کی گئی ہے، دیکھتے ہیں کہ اس حساس آبادی کے پاس اکثر اور کوئی چارہ نہیں ہوتا کہ وہ آئی آر جی سی کے منتظمین کے مطالبات پورے کریں۔

یہاں تک کہ افغان حکومت نے بھی ایرانی حکومت کے افغان پناہ گزینوں کا استحصال کرنے کا نوٹس لیا ہے اور فاطمیون ڈویژن کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

مزید برآں، افغان دفاعی حکام اور سول سوسائٹی کے کارکنوں نے بھرتی کرنے والے فاطمیون ارکان کی سرگرمیوں پر تشویش کا اظہار کیا ہے جو جنگ سے تباہ شدہ ملک میں سلامتی اور استحکام کو ایک نمایاں خطرے میں ڈالتے ہیں۔

اگست کے مہینے میں مشہد، ایران میں فاطمیون کے ارکان کے ایک اجتماع نے، تشویشوں میں اضافہ کر دیا کیونکہ اس کے شرکاء نے اشتعال انگیز بیانات دیئے جو نشاندہی کرتے ہیں کہ تنظیم جلد ہی اپنی سرگرمیاں افغانستان اور ہمسایہ ممالک تک وسیع کر دے گی۔

شکستہ وعدے

جبکہ اندازے مختلف ہیں اور تصدیق کرنا مشکل ہے، بیشتر مبصرین متفق ہیں کہ شام میں ہلاک اور زخمی ہونے والے فاطمیون اور زینبیون جنگجوؤں -- جن میں سے بہت سے نابالغ تھے -- کی تعداد ہزاروں میں ہے۔

کچھ اطلاعات بتاتی ہیں کہ ہلاک ہونے والے بہت سے جنگجوؤں کو شام اور ایران میں اجتماعی قبروں میں دفنا دیا گیا ہے، جس سے افغانستان اور پاکستان میں سوگوار خاندان اپنے بیٹوں کے انجام سے لاعلم ہیں۔

بدقسمتی سے، آئی آر جی سی کی جانب سے حساس افغانوں اور پاکستانیوں کا استحصال کہیں ختم ہوتا نظر نہیں آتا حتیٰ کہ شامی میدانِ جنگ میں ان کی ہلاکتوں کے بعد بھی۔

گزرے برسوں میں، تہران نے ہلاک ہونے والے جنگجوؤں کے بچوں کو بڑی بے شرمی کے ساتھ محتاط طریقے سے منظم کردہ تقریبات میں پریڈ کروائی ہے جس کا مقصد نوجوان شیعہ افراد کو فاطمیون، زینبیون اور آئی آر جی سی سے منسلک دیگر ملیشیاؤں میں بھرتی کی طرف راغب کرنا تھا۔

درحقیقت، ہلاک اور زخمی ہونے والے جنگجوؤں کے خاندانوں کو ایران کی جانب سے یا تو بہت کم امداد ملتی ہے یا بالکل بھی نہیں ملتی -- یہ ایک ایسی حقیقت ہے جو علاقائی مبصرین اور افغان اور پاکستانی جنگجوؤں کے اہلِ خانہ کے ساتھ ان گنت انٹرویوز میں سامنے آئی ہے۔

بیشتر صورتوں میں، ہلاک شدہ جنگجوؤں کے اہلِ خانہ کے ساتھ رہائش، مالی امداد اور ایرانی شہریت جیسے وعدے دھوئیں میں تحلیل ہو گئے، جس سے پیچھے ان گنت سوگوار بیوائیں اور یتیم بچے بے سہارا باقی رہ گئے۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا

تبصرہ
تبصرہ کی پالیسی * لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے 1500 / 1500

ایران در حقیقت عالم اسلام کا سب سے بڑا نظریاتی و جغرافیائی دشمن ہے

جواب