https://pakistan.asia-news.com/ur/articles/cnmi_pf/features/2020/08/03/feature-01
سلامتی

داعش نے ایک مرتبہ پھر افغانستان میں قتل و غارت سے عید منائی

عمر

image

ہرات شہر میں بم حملے میں زخمی ہونے کے کئی گھنٹے بعد، 31 جولائی کو ہرات ریجنل ہسپتال میں ایک زخمی شخص دیکھا جا سکتا ہے۔ [عمر]

ہرات – رواں برس "دولتِ اسلامیہ" (داعش) کی جانب سے خونریزی کے ساتھ عید منائے جانے پر ایک مرتبہ پھر اس گروہ کی اصل فطرت سامنے آ گئی۔

رواں برس اتوار (2 اگست) کو جلال آباد کے ایک جیل خانہ میں 30 افراد کی موت کا باعث بننے والی 20 گھنٹے طویل گولیوں کی لڑائی اور خود کش بم حملوں پر مشتمل داعش دہشتگرد حملوں کے ساتھ عید الاضحیٰ کا آغاز اور اختتام منایا گیا، اور اسلامی تہوار کے آغاز پر ہرات شہر میں دو مختلف دہشتگرد حملوں میں کم از کم چار شہری جاںبحق اور 17 زخمی ہو گئے۔

داعش نے بدھ (29 جولائی) کو ہرات شہر میں ایک شعیہ اکثریتی علاقہ میں ایک بس بم حملے کی ذمہ داری قبول کی۔ ایک دہشتگرد نے گاڑی کے ساتھ ایک مقناطیسی بم لگا دیا تھا۔

ہرات کے صوبائی پولیس سربراہ کرنل عبیداللہ نورزئی نے سلام ٹائمز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ دہشتگرد سیکیورٹی فورسز سے لڑائی کی استعداد کھو چکے ہیں لہٰذا وہ مزید شہریوں کو قتل کرنے پر تکیہ کر رہے ہیں۔

image

3 اگست 2020 کو جلال آباد میں جاری داعش کے ایک چھاپے کے دوران ایک جیل خانہ کے باہر افغان سپاہی پہنچ رہے ہیں۔ [نوراللہ شیرزادہ/اے ایف پی]

image

2018 میں کابل میں عیدگاہ مسجد کے قریب سیکیورٹی فورسز اور داعش عسکریت پسندوں کے درمیان جھڑپوں کے دوران ایک افغان ملٹری ہیلی کاپٹر سے فضائی حملے کے بعد دھول اور دھواں اٹھ رہا ہے۔ [وکیل کوہسار/اے ایف پی]

گزشتہ نومبر داعش خراسان شاخ (داعش - کے) کے نام سے معروف داعش کی مقامی شاخ نے اس وقتشکست تسلیم کر لی جب اس کے سینکڑوں جنگجؤوں نے صوبہ ننگرہار میں افغان فورسز کے سامنے ہتھیار ڈال دیے، اور اس گروہ کے رہنمااسلم فاروقی کوافغان فورسز نے اپریل میں پکڑ لیا۔

پسپائی کے باوجود یہ گروہ دہشتگردی کی کاروائیاں کرنے کے قابل رہا ہے، جن میں سے سب سے نمایاں کابل میں سکھ گرودوارہ میں قتلِ عام ہے، جہاں لوگ صبح کی عبادت کر رہے تھے۔

نورزئی نے کہا، "بس میں کوئی سرکاری ملازمین نہیں تھے؛ وہ تمام شہری تھے، جن میں عورتیں اور بچے بھی شامل تھے۔ دہشتگردوں کی افغانستان میں کوئی کامیابی نہیں، اور وہ اپنی موجودگی دکھانے کے لیے معصوم لوگوں کو قتل کرتے ہیں۔"

31 جولائی کو، ایک جداگانہ حملے میں ہرات شہر میں عیدالاضحیٰ سے قبل خریداروں کے ہجوم میں ایک بم پھٹنےپر کم از کم 14 شہری زخمی ہو گئے۔

فرہاد نے کہا، "عید الاضحیٰ کے پہلے روز کی صبح جب شہری مویشی خرید رہے تھے تو ان کے درمیان ایک بم پھٹا، جس سے 14 افراد زخمی ہو گئے۔"

یہ مکالہ لکھے جانے تک کسی گروہ نے ذمہ داری قبول نہیں کی، تاہم تمام علامات داعش کی جانب اشارہ کرتی ہیں، اور دیگر عسکریت پسند گروہوں نے ملوث ہونے کی تردید کی ہے۔

ہرات کے ایک باشندے محمد رضا امینی نے آئی ایس آئی ایس کے لیے ایک دوسرا نام استعمال کرتے ہوئے کہا، "ہمارے ایک رشتہ دار نے مسافر بس حملے میں اپنی جان کھو دی اور ہم اس عید کے دوران نہایت غمزدہ ہیں۔ ماضی میں ہمارے علاقہ میں مساجد اور مسافر گاڑیوں سمیت متعدد دہشتگرد حملے ہوئے، جن تمام کی ذمہ داری داعش نے قبول کی۔"

امینی نے کہا، "داعش ایک دہشتگرد گروہ ہے، جس کا مقصد مسلمانوں کے مابین تفرقہ ڈالنا ہے۔ اس گروہ کے لیے ہمارا پیغام ہے کہ وہ ہمارے ملک میں کبھی اپنا مقصد حاصل نہیں کر سکے گا۔"

عید پر ہونے والے دہشتگرد حملوں کی تاریخ

افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ عید کے موقع پر افغانوں کو ہدف بنانا داعش کی تاریخ ہے۔

سب سے نمایاں 2018 میں داعش کی جانب سے کابل میں مارٹر بم حملہ تھا جب طالبان کو تین ماہ کی ایک مشروط جنگ بندی کی پیش کش کرنے کے چند روز بعد عید الاضحیٰ کا پہلا روز مناتے ہوئے صدر اشرف غنی ایک خطاب کر رہے تھے۔

کم از کم چھ شہری جاںبحق ہوئے۔

براہِ راست ٹیلی ویژن پر خطاب کے دوران پسمنظر میں متعدد دھماکے سنے جانے کے بعد صدر نے توقف کیا اور کہا، "یہ قوم ان راکٹ حملوں کے سامنے نہیں جھکے گی۔"

افغان افواج خوش قسمت تھیں کہ رواں برس انہوں نے ایک سات رکنی داعش سیل کو پکڑ لیا، جو جلال آباد میں عیدالاضحیٰ کی تقریبات پر بم حملے کرنے کی منصوبہ بندی کر رہا تھا۔

دو ماہ قبل، عید الفطر کے موقع پر داعش نے صوبہ ننگرہار میں خودکش حملہ کرتے ہوئے کم از کم 25 افراد کو جاںبحق اور 54 کو زخمی کر دیا۔

داعش نے افغانستان میں عید پر قتل و غارت کو کبھی محدود نہیں کیا۔ اس گروہ کے اٹھنے سے اب تک اس نے دنیا بھر میں اسلامی تہواروں پر بے شمار قتلِ عام کیا ہے۔

2015 میں ایک بطورِ خاص خون آشام سانحہ میں، داعش کے خود کش حملہ آور نے عید الفطر مناتے ہوئے عراقیوں کے درمیان ایک کار بم چلا دیا، جس سے درجنوں بچوں سمیت کم از کم 90 عراقی جاںبحق ہو گئے۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا

تبصرے 0
تبصرہ کی پالیسی * لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے 1500 حروف باقی ہیں (حد 1500 حروف)