https://pakistan.asia-news.com/ur/articles/cnmi_pf/features/2020/04/20/feature-01
دہشتگردی

گرفتار شدہ داعش-کے کا سربراہ افغانستان اور پاکستان میں ایک خونی سلسلہ چھوڑ گیا

ظاہر شاہ شیرازی

image

داعش- کے کا پکڑا جانے والا راہنما، اسلم فاروقی افغان فورسز کی طرف سے 4 اپریل کو گردش کردہ اس تصویر میں دیکھا جا سکتا ہے۔ [افغان قومی نظامت برائے سلامتی]

پشاور -- افغانستان میں دہشت گرد راہنما کی گرفتاری کے بعد، پاکستان اور افغانستان دونوں کے حکام اسے سزا دینے کے مشتاق ہیں۔

افغان فورسز نے 4 اپریل کو"دولتِ اسلامیہ" خراسان شاخ (داعش-کے) کے سربراہ اسلم فاروقی کو گرفتار کرنے کا اعلان کیا تھا ۔

فاروقی، جسے 19 دیگر جنگجوؤں کے ساتھ شمالی افغانستان میں 3 اپریل کو گرفتار کیا گیا تھا، افغانستان اور پاکستان میں کئی حملوں کی منصوبہ سازی کرنے کا ملزم ہے، جن میں 24 مارچ کو کابل کے سکھ گوردوارہ پر ہونے والا حملہ بھی شامل ہے، جس میں 25 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

پاکستان اور افغانستان دونوں ہی فاروقی کو سزا دینے کے مشتاق ہیں۔

image

داعش کے کا سابقہ راہنما، حافظ سید خان (سفید کپڑوں میں)، ٹی ٹی پی کے سابقہ سربراہ حکمت اللہ محسود (درمیان میں) کے ساتھ، 2009 میں اپر اورکزئی ڈسٹرکٹ میں لی گئی اس تصویر میں دیکھا جا سکتا ہے۔ انہیں بالترتیب 2016 میں افغانستان اور 2013 میں پاکستان میں ہلاک کر دیا گیا تھا۔ [ظاہر شاہ شیرازی]

پاکستان کے دفترِ خارجہ نے 9 اپریل کو افغانستان سے مطالبہ کیا کہ فاروقی کو اس کے حوالے کیا جائے تاکہ وہ اس پر پاکستان میں دہشت گردانہ حملوں سے تعلق کے سلسلے میں مقدمہ چلا سکے۔ پاکستان کا فاروقی پر ایک اور دعوی بھی ہے: وہ اورکزئی ایجنسی کا باشندہ ہے۔

ہیومن رائٹس واچ نے 6 اپریل کو ایک بیان میں افغانستان کی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ فاروقی کے خلاف، افغانستان کے عام شہریوں کے خلاف براہ راست حملوں میں اس کے مبینہ کردار پر، جنگی جرائم کے مناسب مقدمات دائر کرے۔

تنظیم کی ایسوسی ایٹ ایشیاء ڈائریکٹر، پیٹریشیاء گوسمین نے ایک بیان میں کہا کہ "فاروقی کی گرفتاری افغان حکام کے لیے اس بات کے اظہار کا موقع ہے کہ وہ جنگی جرائم اور دوسرے مظالم کے متاثرین کے لیے منصفانہ انصاف حاصل کرنے کے قابل ہیں۔ متاثرین کی شمولیت نہ صرف اس بات کو یقینی بنانے کے لیے ضروری ہے کہ انصاف نہ صرف کیا گیا ہے بلکہ اسے فاروقی کے جرائم سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے کیا جاتا ہوا دیکھ بھی سکیں"۔

گوسمین نے کہا کہ "افغانستان متاثرین کا قرض دار ہے کہ اسلم فاروقی اور سنگین جرائم کے دوسرے ملزمان کے خلاف قابلِ اعتماد اور منصفانہ مقدمہ چلایا جائے۔ افغانستان میں ایسے تشدد کا خاتمہ کرنے کے لیے انصاف کے حصول کی کوشش انتہائی ضروری ہے"۔

کمزوری کا شکار گروہ

داعش- کے، کے جنگجوؤں کی اکثریت کے بارے میں شبہ ہے کہ وہ اورکزئی کے قبائلی ضلع اور پاکستان کے دوسرے قبائلی علاقوں سے آئے ہیں۔ وہ حافظ سید خان، جو کہ تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور سپاہِ صحابہ پاکستان (ایس ایس پی) کے سابقہ رکن تھے، کی قیادت میں افغانستان بھاگ گئے تھے۔

گزشتہ جولائی میں اقوامِ متحدہ کی سیکورٹی کونسل کی طرف سے شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق، فاروقی جو کہ خان کا ایک قریبی مددگار تھا، اپریل 2019 میں اس وقت داعش-کے کا سربراہ بن گیا تھا جب داعش کی مرکزی قیادت نے ابو عمر خراسانی کی "بری کارکردگی" دکھانے پر تنزلی کی تھی۔

جولائی 2016 میں افغانستان کے ننگرہار صوبہ میں میزائل کے ایک حملے میں حافظ سید خان کی ہلاکت کے بعد، خراسانی نے خود ان کی جگہ سنبھال لی تھی۔

پشاور یونیورسٹی کے پیس اینڈ کانفلکٹ اسٹڈیز ڈپارٹمنٹ کے چیرمین ڈاکٹر سید حسین شہید سہروردی نے کہا کہ "یہ حقیقت ہے کہ ایسے عسکریت پسند گروہوں کو ختم کرنا مشکل ہوتا ہے کیونکہ جیسے ہی ایک مرتا ہے اس کی جگہ دوسرا اقتدار سنبھالنے آ جاتا ہے مگر یہ حقیقت ہے کہ فاروقی کی گرفتاری سے داعش-کے کی سرگرمیوں میں مزید کمی آئے گی"۔

انہوں نے کہا کہ "وہ سرحد کے آ رپار جانے کے قابل نہیں رہیں گے جیسا کہ وہ اس سے پہلے کرتے رہے ہیں اور حکام فاروقی سے قیمتی معلومات حاصل کر سکتے ہیں جس سے وہ انہیں مزید شکار کر سکتے ہیں"۔

سہروردی نے کہا کہ "وہ پاکستان اور قرب و جوار میں دوسروں کے بارے میں، سرمایے کے ذرائع، ہمدردوں اور دوسری معلومات دینے میں انتہائی اہم ثابت ہو سکتا ہے"۔

انہوں نے مزید کہا کہ اہم راہنماؤں کی ہلاکت کے بعد، گروہ کے لیے سرمایہ کے ذرائع کم ہوتے جا رہے ہیں۔

باہمی تعاون

اسلام آباد سے تعلق رکھنے والے سیکورٹی کے تجزیہ نگار برگیڈیر (ریٹائرڈ) سعد محمد نے کہا کہ فاروقی کی گرفتاری، پاک-افغان علاقے سے داعش کے، کے جنگجوؤں کو باہر نکالنے کے لیے حوصلہ افزاء ہے۔

محمد نے کہا کہ اعلی راہنماؤں کی گرفتاری یا خاتمہ، علامتی طور پر بہت اہم ہے اور فاروقی کی گرفتاری سے داعش- کے، کی حوصلہ شکنی ہو گی جبکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں افغان اور اتحادی افواج کے حوصلوں میں اضافہ ہو گا۔

انہوں نے اس بات کا اضافہ کرتے ہوئے کہ گروہ کی طرف سے اپنی طاقت دوبارہ اکٹھی کیے جانے سے پہلے تمام فریقین کو فوری طور پر کام کرنا چاہیے، کہا کہ ہو سکتا ہے کہ گروہ کمزور ہو گیا ہو مگر نچلے درجے کے راہنما زیادہ ہلاکت انگیز اور موثر ہونے کی کوشش کریں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ "اگر اتحادی اور افغان افوج داعش- کے سے ہمیشہ کے لیے چھٹکارہ حاصل کرنا چاہتی ہیں تو انہیں امن کے عمل کو کامیابی بنانا ہو گا"۔

آپ ٹیلی ویژن کے ایک صحافی ناصر داور نے کہا کہ داعش-کے کو پہلے ہی کافی مسائل کا سامنا تھا جن میں افغان اور اتحادی افواج کے ساتھ ساتھ طالبان کی طرف سے حملے بھی شامل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ گروہ عملی طور پر کافی عرصے سے غیر فعال رہا ہے مگر "ابھی بھی اکا دکا حملے کر سکتا ہے جیسا کہ انہوں نے کابل میں سکھ گوردوارے پر حملے کی صورت میں کیا"۔

داور نے اس بات کا اضافہ کرتے ہوئے کہ طالبان کے ساتھ ممکنہ امن معاہدے کے بعد، افغانستان میں ان کے لیے حالات اور زیادہ خراب ہو جائیں گے کہا کہ داعش-کے کے زیادہ تر جنگجو بھاگ رہے ہیں اور ان کے لیے پاکستان میں کوئی جگہ نہیں ہے۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا

تبصرے 0
تبصرہ کی پالیسی * لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے 1500 حروف باقی ہیں (حد 1500 حروف)