سفارتکاری

افغان امن عمل کو فروغ دینے کے لیے پاکستان کی کابل کے ساتھ مصروفیت میں اضافہ

از عالم زیب خان

افغان صدارتی محل کے شرکاء 7 جولائی کو صدر اشرف غنی کا آن لائن کانفرنس میں "امن کے لیے اتفاقِ رائے کو مضبوط کرنے" کے لیے کلیدی خطاب سنتے ہوئے۔ [افغان صدارتی محل]

افغان صدارتی محل کے شرکاء 7 جولائی کو صدر اشرف غنی کا آن لائن کانفرنس میں "امن کے لیے اتفاقِ رائے کو مضبوط کرنے" کے لیے کلیدی خطاب سنتے ہوئے۔ [افغان صدارتی محل]

اسلام آباد -- پاکستان افغانوں کے مابین مذاکرت کی حوصلہ افزائی کرنے میں مصروفِ عمل ہے جس کا خلاصہ فروری میں امریکہ اور طالبان کے درمیان دستخط کردہ امن معاہدے میں کیا گیا تھا۔

ایک بیان میں پاکستانی وزارتِ خارجہ کا کہنا تھا کہ پاکستانی حکام نے سوموار (6 جولائی) کو افغانستان کی جانب سے "امن کے لیے اتفاقِ رائے کو مضبوط کرنے" پر اہتمام کردہ آن لائن کانفرنس میں حصہ لیا تھا۔

کانفرنس ان تین کانفرنسوں میں سے پہلی ہے جن کا مقصد عالمی برادری کو متوقع امن مذاکرات کے متعلق مختصراً بتانا ہے۔

وزارت نے خطے اور اس سے آگے تک مجموعی امن اور استحکام کے لیے ایک پُرامن اور مستحکم افغانستان کی اہمیت پر زور دیا۔

پاکستان میں افغان سفیر عاطف مشعال 25 جون کو راولپنڈی میں پاکستانی چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ کے ساتھ ملاقات کرتے ہوئے۔ [عاطف مشعال/ٹوئیٹر]

پاکستان میں افغان سفیر عاطف مشعال 25 جون کو راولپنڈی میں پاکستانی چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ کے ساتھ ملاقات کرتے ہوئے۔ [عاطف مشعال/ٹوئیٹر]

اس کا کہنا تھا کہ امریکہ اور طالبان کے مابین امن معاہدے پر دستخطوں نے ایک تاریخی موقع فراہم کیا ہے جس سے افغانستان کی قیادت کو ایک مشمولہ اور جامع سیاسی تصفیئے کے حصول کے لیے لازماً فائدہ اٹھانا چاہیئے۔

کانفرنس میں پاکستان کی شرکت افغانستان کے ساتھ اس کی حالیہ ترین مصروفیت میں شمار ہوتی ہے جب افغان حکام اور طالبانمذاکرت میں مشغول ہونے کی تیاری کر رہے ہیں.

چیف آف آرمی اسٹاف (سی او اے ایس) جنرل قمر جاوید باجوہ اور انٹرسروسز انٹیلیجنس کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید نے،نئے نامزد کردہ نمائندۂ خصوصی برائے افغان امور محمد صادقکے ہمراہ، 9 جون کو کابل میں افغان صدر اشرف غنی اور افغان ہائی کونسل برائے قومی اتفاقِ رائے کے چیئرمین، عبداللہ عبداللہ کے ساتھ ملاقات کی تھی۔

عرب نیوز نے خبر دی تھی کہ صادق نے 17 جون کو دوحہ میں طالبان رہنماؤں کے ساتھ تبادلۂ خیال کا اہتمام کیا تھا، جس میں طالبان کے نائب امیر مُلا عبدالغنی برادر بھی شامل تھے۔

افغانستان نے اپنی طرف سے، 6 جولائی کو پاکستان کے لیے اپنے نئے نمائندۂ خصوصی کا اعلان کیا تھا۔

ایک سینیئر افغان سفارتکار، محمد عمر داؤدزئی نے ٹوئیٹر پر اعلان کیا، "میں بہت خوشی کے ساتھ اعلان کروں گا کہ صدر غنی نے مجھے #پاکستان کے لیے اپنے نمائندۂ خصوصی کے طور پر نامزد کیا ہے۔ میں اس اعتماد کے لیے صدر غنی کا شکرگزار ہوں۔"

پاکستان میں افغانستان کے سفیر عاطف مشعال نے 25 جون کو باجوہ اور پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو کے ساتھ بالترتیب راولپنڈی اور اسلام آباد میں ملاقات بھی کی تھی۔

ٹوئیٹر پر ان کا کہنا تھا کہ مشعال نے دونوں حکام کے ساتھ افغان امن عمل میں پیشرفت اور پاک-افغان تعلقات پر تبادلۂ خیال کیا۔

گزشتہ برس تشکیل دیئے گئے تعاون کے عملی ڈھانچے، افغانستان-پاکستان ایکشن پلان فار پیس اینڈ سالیڈیریٹی (اے پی اے پی پی ایس) کا حوالہ دیتے ہوئے، مشعال نے ٹوئیٹر پر کہا، "آج میں نے پاکستان کے سی او اے ایس جنرل قمر جاوید باجوہ کے ساتھ ملاقات کی اور ان کے حالیہ دورۂ کابل سے اٹھنے والے امور کی پیروی، اے پی اے پی پی ایس کے آئندہ اجلاس، دو طرفہ تعلقات کو مضبوط کرنے اور خطے کی موجودہ صورتحال پر تبادلۂ خیال کیا۔"

برف کا پگھلنا

اسلام آباد کے مقامی سینٹر فار ریسرچ اینڈ سیکیورٹی سٹڈیز (سی آر ایس ایس) کے انتظامی ڈائریکٹر، امتیاز گل نے کہا کہ پاکستان افغان امن عمل میں ایک ذمہ دارانہ کردار ادا کر رہا ہے۔

انہوں نے کہا، "دریں اثناء، امریکی حکام بھی جانتے ہیں کہ افغانستان میں امن کو یقینی بنانا صرف پاکستان ہی کی ذمہ داری نہیں ہے، کیونکہ اس میں کئی حصے دار ہیں اور بنیادی ذمہ داری افغانستان پر عائد ہوتی ہے۔"

ان کا کہنا تھا کہ شروع میں افغانستان امریکہ اور طالبان کے درمیان امن معاہدے پر تحفظات کی وجہ سے قدم آگے بڑھانے میں جھجھک رہا تھا، ان کا مزید کہنا تھا کہ مذاکراتتقریباً تمام تنازعات میں آخری حل ہیں.

افغان مبصرین کا کہنا تھا کہ پاکستان کے ساتھ افغانستان کے تعلقات میں حالیہ پیش رفت بارآور ہو سکتی ہے۔

ریڈیو فری یورپ/ریڈیو لبرٹی کی افغان شاخ، ریڈیو آزادی کے ایک رپورٹر، نسیم شفق نے کہا، "پاکستان کے متعلق افغانستان کے خیالات تبدیل ہوئے ہیں۔۔۔ مگر دوبارہ کچھ پریشانیاں ہیں۔"

ان کا کہنا تھا کہ افغان حکومت اور افغان عوام دونوں ہی "کا خیال ہے کہ اب پاکستان امن عمل میں ایک ناگزیر کردار ادا کرے گا جیسا کہ دونوں طرف سے حالیہ پیش رفتوں اور پیروی کے لیے دوروں سے واضح ہو گیا ہے۔"

انہوں نے کہا، "افغانستان کے عوام کا ابھی بھی ماننا ہے کہ پاکستان میں ابھی بھی یہ صلاحیت ہے کہ وہ افغان طالبان کو جنگ کرنے سے روک سکتا ہے اور انہیں میز پر لا سکتا ہے۔"

شفق کا کہنا تھا کہ حالیہ صدارتی انتخابات سے قبل، غنی نے دیرپا امن کے لیے کام کرنے کا وعدہ کیا تھا اور وہ اپنے وعدے سے باخبر ہیں۔"

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا

تبصرے 4

تبصرہ کی پالیسی * لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے 1500 / 1500

نہایت معلوماتی اور شاندار تحریر۔

جواب

عمدہ، افغانستان میں امن تمام خطے میں استحکام لائے گا۔

جواب

نہایت اعلیٰ لکھی گئی کہانی۔ ڈیورنڈ لائن کے دونوں اطراف کامیاب بین الافغان بات چیت کے شدت سے منتظر ہیں۔ # عمرداؤدزئی کی تعیناتی بھی نہایت بارآور ہے۔

جواب

اعلیٰ تحریر۔ امّید ہے کہ خطے میں امن بحال ہو گا

جواب