https://pakistan.asia-news.com/ur/articles/cnmi_pf/features/2020/03/06/feature-03
سلامتی

امریکہ طالبان معاہدے سے علاقائی آسودہ حالی کی امّیدوں میں اضافہ، لیکن خدشات موجود

عدیل سعید

image

22 فروری، 2020 کو قبل ازاں امریکہ اور افغان افواج کے مابین طے شدہ ’تشدد میں کمی‘ پر خوشی منانے کے لیے پشاور کے نواح میں خراسان پناہ گزین کیمپ میں ایک افغان پناہ گزین مٹھائی تقسیم کر رہا ہے۔ [عبدالمجید]

پشاور – افغان طالبان اور امریکہ کے مابین ایک معاہدے نے پاکستان میں متعدد کو خطے میں امن کی امّید دلائی ہے، لیکن خدشات برقرار ہیں کیوں کہ طالبان نے اس تاریخی معاہدے کی خلاف ورزی میں سرکاری افغان افواج پر حملے جاری رکھے ہوئے ہیں۔

افغانستان میں تنازع کی تقریباً دو دہائیوں کے بعد، امریکہ اور طالبان کے مابین 29 فروری کو ایک معاہدے پر دستخط ہوئے۔

دوحہ، قطر میں دستخط ہونے والے اس معاہدےکے تحت، 14 ماہ کے اندر امریکی اور غیرملکی اتحادی افوج افغانستان سے تمام فوجی نکال لیں گی، بشرطیکہ افغان طالبان حکومتِ کابل کے ساتھ مزاکرات کا آغاز کریں اور یہ ضمانت دیں کہ افغانستان کبھی دوبارہ بیرونِ ملک حملوں کی منصوبہ بندی کے لیے القائدہ اور "دولتِ اسلامیہٴ عراق و شام" (داعش) جیسی جہادی تنظیموں کی جانب سے استعمال نہ ہو۔

پشاور سے تعلق رکھنے والے سیکیورٹی تجزیہ کار برگیڈیئر (ریٹائرڈ) محمود شاہ نے کہا، "یہ ایک نہایت اہم معاہدہ ہے جس کا افغانستان اور پاکستان کی سیکیورٹی صورتِ حال پر نہایت مثبت اثر ہو گا۔"

image

24 جولائی، 2011 کو لی گئی اس فائل فوٹو میں وادیٴ پنجشیر میں سیکیورٹی کنٹرول حوالے کرنے کی ایک تقریب کے دوران افغان اور امریکی پرچم لہرائے جا رہے ہیں اور ایک پولیس اہلکار نگرانی کر رہا ہے۔ [شاہ مرائی/اے ایف پی]

انہوں نے کہا کہ یہ معاہدہ اس خطے میں امن کا عندیہ ہے جو عسکریت پسندی اور دہشتگردی کی کئی دہائیاں طویل لہر سے لڑکھڑا رہا ہے، جس نے افغانستان اور پاکستان، ہر دو کے دسیوں لاکھوں باشندوں کو متاثر کیا ہے۔

شاہ نے کہا کہ افغانستان میں اس جنگ کے خاتمہ کا ترقی، معیشت، بنیادی ڈھانچے اور جنگ سے متاثرہ لوگوں کی بہتری پر مثبت اثر ہو گا۔

شاہ کے مطابق، اس امن معاہدہ اور افغانستان میں طالبان کے ساتھ حکومت کی ممکنہ تقسیم سے بجھتے ہوئے دہشتگردوں کو افغانستان کے لاقانونیت والے علاقوں میں پناہ لینے میں مدد ملے گی۔

جامعہ پشاور میں ایریا سٹڈی سنٹر کے سابق ڈائریکٹر، ڈاکٹر عظمت حیات خان نے کہا، "امریکہ طالبان مزاکرات اور اس کے نتیجہ میں ہونے والا امن معاہدہ نہایت خوش آئند واقعات ہیں جو پورے خطے کے لیے ایک اچھا شگون ہے۔"

انہوں نے مزید کہا کہ امن کی بحالی کے ساتھ، افغانستان میں ترقی اور پیش رفت ہو گی۔

تاہم چیلنج برقرار ہیں۔ دوحہ میں دستخط ہونے کے بعد، عسکریت پسندوں نے افغان افواج کے خلاف تشدد تیز کر دیا ہے، جس سے طالبان اور کابل کے مابین 10 مارچ کو شروع ہونے والے طے شدہ امن مزاکرات خطرے میں پڑ گئے ہیں۔

پیر سے طالبان نے ملک بھر میں درجنوں حملے کرتے ہوئے سیکیورٹی فورسز کے درجنوں اہلکاروں اور شہریوں کو قتل کیا ہے۔

جواباً امریکی فوج نے بدھ (4 مارچ) کو طالبان جنگجؤں کے خلاف ایک فضائی حملے کا آغاز کیا، اورطالبان کو تنبیہ کی کہ افغان حکومتی افوج کے خلاف تشدد میں مزید اضافے کا جواب مزید امریکی ردِّ عمل کی صورت میں دیا جائے گا۔

نیٹو نے بھی بدھ کو طالبان کو تنبیہ کی کہ مغربی افوج تب ہی افغانستان سے نکلیں گی جب طالبان خونریزی کو کم کرنے کے اپنے عہد کو پورا کریں گے۔

ایک نیا دور

پشاور کے ایک کاروباری اور پاکستان-افغانستان مشترکہ ایوانِ صنعت و تجارت (PAJCCI) کے سابق سینیئر وائس پریزیڈنٹ ضیاءالحق سرحدی نے کہا کہ یہ معاہدہ "افغانستان اور پاکستان کے عوام کے لیے ایک اچھی پیش رفت ہے، اور امن کے عمل کا جاری رہنا خطے میں ترقی اور آسودگی کے ایک نئے دور کا آغاز کرے گا۔"

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی کاروباری برادری اس معاہدے کا خیر مقدم کرتی ہے کیوں کہ امن خطے میں مزید کاروبار کی راہ ہموار کرے گا اور معیارِ زندگی کو بہتر بنائے گا۔

سرحدی نے اس امّید کا اظہار بھی کیا کہ امن کی بحالی سے براستہ افغانستان، پاکستان اور وسط ایشیائی ممالک کے مابین تاریخی تجاری راستہ بھی بحال ہو گا، جس سے نئی جہتیں اور مواقع کھلیں گے۔

انہوں نے کہا کہ کئی دہائیوں کی شورش اور اس کے نتیجہ میں لاقانونیت نے طویل العمیاد مندی پیدا کی ہے اور اس سے افغانستان اور پاکستان میں ہزاروں کارکنان اپنی نوکریوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔

ایک افغان پناہ گزین اسماعیل خان جو گزشتہ 40 برس سے پاکستان میں رہا ہے، نے اپنے آبائی وطن افغانستان میں امن کی بحالی سے متعلق امّید کا اظہار کیا۔

انہوں نے کہا، "افغان ہونے کے ناطے، ہم اپنے آبائی وطن واپس جانا چاہتے ہیں، لیکن سلامتی کی خطرناک صورتِ حال کی وجہ سے ہم اپنی خواہش پوری نہیں کر سکتے۔"

اسماعیل نے کہا "ہم اپنے بچوں کو بتاتے رہے ہیں کہ افغانستان کے صوبہ غزنی میں ہماری زمینیں اور ایک محل نما گھر ہے، لیکن سیکیورٹی خدشات کی وجہ سے ہم انہیں وہاں لے جانے سے قاصر ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اگر امن معاہدہ برقرار رہتا ہے، تو شاید وہ اپنے بچوں کو اپنے آبائی وطن واپس لے جا سکیں اور انہیں اپنے اجداد کا گھر اور املاک دکھا سکیں۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا

تبصرے 0
تبصرہ کی پالیسی * لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے 1500 حروف باقی ہیں (حد 1500 حروف)