https://pakistan.asia-news.com/ur/articles/cnmi_pf/features/2020/05/25/feature-01
معیشت

طالبان کی نہ ختم ہونے والی جنگ نے کیسے افغانستان کی معاشی صلاحیت کو اپاہج کر دیا

از سلیمان

image

گزشتہ سال 10 جون کو لی جانے والی اس تصویر میں، ایک افغان بچہ، مزار شریف کے مضافات میں، پلاسٹک کو ریسائیکل کرنے والے ایک کارخانے میں کام کر رہا ہے۔ [فرشاد عیسیان/ اے ایف پی]

کابل -- ماہرینِ معاشیات اور دیگر مشاہدین کا کہنا ہے کہ جاری عدم تحفظ اور طالبان کی طرف سے پیدا کیے جانے والے خطرات نے افغانستان کی معیشت کو اپاہج کر دیا ہے جس کے باعث بے روزگاری آسمان کو چھونے لگی ہے۔

افغانستان چیمبر آف کامرس اینڈ انوسٹمنٹ کے رکن خان جان آلوکوزے نے کہا کہ بین الاقوامی برادری کی طرف سے فراہم کیے جانے والے اربوں ڈالروں نے افغانستان میں معیشت، تجارت اور سرمایہ کاری کا ایک سب سے بڑا موقع فراہم کیا تھا مگر طالبان کی نہ ختم ہونے والی جنگ نے اس تاریخی موقع کو خطرے میں ڈال دیا جس کے باعث افغانستان کی معیشت متوقع طور پر ترقی نہیں کر سکی۔

آلوکوزے نے کہا کہ "طالبان کی سالوں سے جاری جنگ نے معیشت، تجارت اور سرمایہ کاری پر منفی اثر ڈالا ہے۔ معاشی ترقی اور سرمایہ کاری کو ایک محفوظ اور مستحکم ماحول درکار ہوتا ہے مگر طالبان اور دیگر حکومت مخالف گروہوں کی طرف سے پیدا کیے جانے والے عدم تحفظ اور مسائل نے معاشی ترقی اور اس کے ساتھ ہی ملکی و بین الاقوامی سرمایہ کاری کو سست کر دیا ہے"۔

انہوں نے کہا کہ "ہمارے ہمسایوں کے پاس ایک وقت پر کوئی قابلِ قدر ترقی نہیں تھی مگر اب وہ خودمختار ہو چکے ہیں۔ عدم تحفظ اور جنگوں نے ہمارے ملک کو معاشی طور پر ترقی کرنے سے روکے رکھا ہے"۔

"بین الاقوامی برادری نے ہمیں وافر سرمایہ اور وسائل فراہم کیے مگر طالبان اور ان کی جنگ کے باعث، افغانستان ان وسائل کو ترقی اور پیش رفت کے لیے استعمال نہیں کر سکا"۔

آلوکوزے نے اس بات کا اضافہ کرتے ہوئے کہ افغانستان نے اس کی بجائے سالانہ تقریبا 15 بلین ڈالر کا سامان (1.1 ٹریلین ڈالر افغانی) ہمسایہ ممالک سے درآمد کیا۔

بے روزگاری میں اضافہ

آلوکوزے نے کہا کہ "طالبان اور عدم تحفظ نے سرمایہ کاروں کی جسمانی اور نفسیاتی حفاظت کو خطرے میں ڈالا اور اس مسئلے نے سرمایہ کاروں کو سرمایہ کاری کرنے سے روکا جس کا نتیجہ ملک میں بے روزگاری اور غربت میں اضافے کی صورت میں نکلا"۔

انہوں نے کہا کہ "جنگ معیشت، سرمایہ کاری اور ملازمتوں کے لیے بہت بڑا خطرہ رہا ہے"۔

انہوں نے مزید کہا کہ "عدم تحفظ کے باعث، کارخانے اور دیگر معاشی بنیادی ڈھانچہ تباہ ہو گیا ہے۔ ہر سال ہزاروں ٹرک ہائی ویز پر رک جاتے ہیں جس سے ہماری تاجروں کی طرف سے بھیجا جانے والا سامان اور کھانے کی اشیاء راستے میں خراب ہو جاتی ہیں اور ہمارے ملک اور سرمایہ کاروں کو لاکھوں ڈالر کا نقصان اٹھانا پڑتا ہے"۔

یونیورسٹی کے لیکچرار اور کابل کے اقتصادی تجزیہ کار ضیاء دانش نے کہا کہ طالبان نے جو جنگ افغان شہریوں پر مسلط کی ہے دو طریقوں سے معیشت اور سرمایہ کاری پر اثرانداز ہوتی ہے۔

دانش نے کہا کہ "طالبان کی جنگ کے براہ راست اثرات یہ ہیں کہ قومی بجٹ کا زیادہ تر حصہ اور غیر ملکی امداد جنگ پر خرچ ہوتی ہے۔ اگر کوئی جنگ اور عدم تحفظ نہ ہوتا تو یہ رقم اور امداد معیشت، سرمایہ کاری، بنیادی ڈھانچے، تعلیم اور دیگر کلیدی حصوں کی ترقی اور بڑھوتی کے لیے خرچ کی جاتی"۔

انہوں نے مزید کہا کہ "عدم تحفظ نے بالواسطہ طور پر ملکی سرمایہ کاروں، بیرونی ممالک اور بین الاقوامی اداروں کی افغانستان میں سرمایہ کاری کرنے پر حوصلہ شکنی کی ہے"۔

دانش نے کہا کہ مسلسل جنگ اور ملک میں سرمایہ کاری کی کمی کے باعث بے روزگاری کی شرح میں اضافہ ہوا جس کے باعث جنگ طول پکڑ گئی اور افغان شہری بے گھر ہوئے۔

کابل سے تعلق رکھنے والے سیاسی امور کے تجزیہ کار خلیل الرحمان سرواری نے کہا کہ "جنگ جسے طالبان تقریبا بیس سالوں تک ختم نہیں کر سکے نے لاکھوں نوجوانوں کو ان کی ملازمتوں سے محروم کیا اور انہیں غیر قانونی ہجرت پر مجبور کیا"۔

سرواری نے کہا کہ "سالانہ، ہم طالبان کی وجہ سے جنگ پر 6 بلین ڈالر (457.7 بلین افغانی) خرچ کرتے ہیں۔ اگر کوئی جنگ نہ ہوتی تو یہ رقم معیشت کی بہتری اور خوشحالی اور اس کے ساتھ ہی بے روزگاری کو کم کرنے کے لیے خرچ ہوتی"۔

دریں اثناء، طالبان کی طرف سے عوامی بنیادی ڈھانچے کی مسلسل تباہی -- عمومی طور پر افغان فورسز کو پیچھا کرنے سے روکنے کا ہتھکنڈا -- ملک کی معیشت کے لیے بڑی مشکلات کا باعث بنا ہے اور افغان شہریوں میں بے روزگاری کی شرح میں بہت زیادہ اضافہ ہوا ہے۔

انہوں نے کہا کہ "بدقسمتی سے، طالبان نے افغان حکومت اور اس کے بین الاقوامی شراکت داروں کی طرف سے حاصل کی جانے والی زیادہ تر ترقی کو برباد کر دیا ہے۔ اس سے معیشت اپاہج ہو گئی اور غربت اور جمود پیدا ہو گیا۔

سیاسی اور اقتصادی استحکام

وزارتِ معیشت کے ایک ترجمان یونس سالک نے کہا کہ "اقتصادی ترقی کو درپیش سیکورٹی کے مسائل کے باوجود -- افغانستان نے شمسی سال 1397 (مارچ 2017- مارچ 2018) کے دوران 2.7 فیصد ترقی حاصل کی جس کا سہرا حکومت کے موثر منصوبوں کے سر جاتا ہے"۔

صدر کے اقتصادی ترقی، تجارت اور غربت میں کمی کے بارے میں خصوصی نمائندہ کے دفتر کے ایک سیںئر مشیر ظریف امین یار نے کہا کہ اگر کوئی جنگ نہ ہوتی تو افغان حکومت اپنے دفاعی بجٹ کے زیادہ تر حصے کے بے روزگاری کی شرح کم کرنے کے لیے استعمال کرتی۔

امین یار نے کہا کہ "طالبان کی جنگ کا تمام اقتصادی شعبوں پر انتہائی منفی اثر ہوا ہے"۔

انہوں نے کہا کہ "اس جنگ نے قومی بجٹ کے ڈھانچے اور استعمال کو منفی طور پر متاثر کیا ہے۔ مثال کے طور پر، جب آپ قومی بجٹ کا جائزہ لیتے ہیں تو آپ دیکھ سکتے ہیں کہ بڑی رقم جنگ کے لیے مختص کی گئی ہے۔ اگر کوئی جنگ نہ ہوتی تو حکومت یہ رقم ملک کی تعمیرِ نو کے لیے معاشی ترقی پر استعمال کرتی"۔

انہوں نے مزید کہا کہ "جنگ کے باعث، دوسرے ملک افغانستان میں بڑے پیمانے پر اقتصادی منصوبے نافذ کرنے سے پرہیز کرتے رہے ہیں"۔

انہوں نے کہا کہ حکومت نے "بڑے منصوبے نافذ کیے ہیں جیسے کہ قومی یکجہتی پروگرام، شہریوں کا چارٹر، ڈیموں کی تعمیر، بندرگاہوں کو کھولنا، زمینی اور فضائی راستے قائم کرنا، بجلی پیدا کرنا، سڑکوں کی تعمیر، کانوں کو چلانا اور تاریخی جگہوں کی بحالی، جن کے باعث اسے اقتصادی ترقی حاصل کرنے اور غربت اور بے روزگاری کا خاتمہ کرنے میں مدد ملی ہے"۔

امین یار نے مزید کہا کہ "حکومت کا خواب اقتصادی استحکام کے ذریعے سیاسی استحکام حاصل کرنا ہے۔ حکومت نے قوانین میں ترامیم کی ہیں تاکہ نجی شعبے کو ترقی دینے میں مدد فراہم کی جائے اور اس نے نجی شعبے کو کام کرنے کے لیے موزوں ماحول فراہم کیا ہے"۔

دیہی بحالی و ترقی کی وزارت کے سابقہ وزیر جار اللہ منصوری نے کہا کہ اگرچہ طالبان جنگ کو جاری رکھے ہوئے ہیں اور افغانستان میں معاشی مسائل اور شورش پیدا کر رہے ہیں، افغان حکومت کی کئی سالوں سے جاری کوششوں نے ان مسائل کو حل کرنے میں مدد فراہم کی ہے"۔

منصوری نے کہا کہ "سیکورٹی کے تمام مسائل کے باوجود، خوش قسمتی سے حکومت کو کچھ کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں۔ حکومت نے موثر اقتصادی پالیسیاں بنائی ہیں جنہوں نے افغانستان کو دنیا کے سامنے اپنی اہمیت اور اقتصادی صلاحیت کو اجاگر کرنے میں مدد کی ہے"۔

انہوں نے کہا کہ "قبل ازیں، ہم نقل و حمل کی ایک راہداری کو استعمال کرتے تھے مگر حکومت کے اقتصادی منصوبوں نے متعدد راہداریوں کو کھولنے میں مدد فراہم کی ہے"۔

انہوں نے مزید کہا کہ "افغانستان نے عالمی تجارتی تنظیم میں 2016 میں رکنیت حاصل کی اور وہ اس تنظیم کے تعاون سے اپنے کچھ تجارتی مسائل کو حل کرنے میں کامیاب رہا۔ اس نے بہت سے سڑکوں اور ریلوے کے معاہدوں پر بھی دستخط کیے جو کہ افغان معیشت کے لیے انتہائی اہم ہیں"۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا

تبصرے 1
تبصرہ کی پالیسی * لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے 1500 حروف باقی ہیں (حد 1500 حروف)

طالبان اپنی شدید ترین خواہش پوری کرنے کے قریب ہیں: امریکی افواج افغانستان چھوڑ رہی ہیں۔ وہ ایسا کرنے کے لیے اپنے شدت پسند نظریہ سے کم ہی دستبردار ہوئے ہیں۔ افغانستان – ایک شہتوت کے درخت کے سائے میں، طالبان کے پرچموں سے بھرے سنجیدہ نظروں کے قریب، مشرقی افغانستان میں ایک چوٹی کے شورشی عسکری رہنما نے اعتراف کیا کہ اس گروہ نے گزشتہ دہائیوں میں امریکی حملوں اور حکومتی کاروائیوں سے تباہ کن نقصانات اٹھائے ہیں۔ لیکن ان نقصانات سے موقع پر کم ہی تبدیلی آئی ہے: طالبان اپنے ہلاک شدگان اور زخمیوں کو بدلتے رہے اور وحشیانہ تشدد کرتے رہے۔
صوبہ لغمان میں طالبان کے عسکریت کمیشن کے سربراہ مولوی محمد قیس نے کہا، "ہم اس جنگ کو عبادت سمجھتے ہیں، لہٰذا اگر ایک بھائی قتل ہوتا ہے، تو دوسرا بھائی خدا کی رضا کو مایوس نہیں کرے گا – وہ اپنے بھائی کی پیروی کرے گا۔"
انہوں نے 19 برس کی رگڑ دینے والی جنگ میں ایک عالمی طاقت کو ناکوں چنے چبوائے۔ اور تین ممالک میں طالبان حکام اور جنگجؤں اور افغان اور مغربی حکام کے ساتھ درجنوں انٹرویوز میں نئی اور پرانی حکمت ہائے عملی کا انضمام اور ان نسلوں کا جنہوں نے ان کی مدد کی۔

جواب