رمضان

رمضان کے دوران حکومت سماجی فاصلہ رکھنے کا اطلاق کرنے کے لیے تیار

از جاوید خان

image

19 اپریل 2020 کو راولپنڈی میں مرد سماجی فاصلہ برقرار رکھتے ہوئے ایک مسجد میں نماز ادا کر رہے ہیں۔ [فاروق نعیم / اے ایف پی]

پشاور -- حکام کا کہنا ہے کہ اگرچہ ملک میں نمازیوں کو مساجد میں جمع ہونے کی اجازت دینے کے لیے کورونا وائرس کے انسداد کے لیے کیے گئے لاک ڈاؤن میں نرمی کر دی گئی ہے پھر بھی پاکستانی پولیس آنے والے رمضان المبارک کے دوران سماجی فاصلے کے اقدامات کا اطلاق کرے گی۔

خیبرپختونخوا (کے پی) کے سینیئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس ایس پی) آپریشنز ظہور بابر آفریدی نے کہا کہ جمعہ (24 اپریل) سے شروع ہونے والے رمضان المبارک میں، "افطار سے قبل اور نمازوں کے اوقات کے دوران گشت میں اضافہ کیا جائے گا۔" انہوں نے کہا کہ کورونا وائرس کے پھیلاؤ کی روک تھام کے لیے نمازوں کے دوران سماجی فاصلے کو یقینی بنانے کے لیے حکام نے علمائے دین کے ساتھ ملاقاتیں کی ہیں۔

حکومت کے مطابق، بدھ (22 اپریل) تک پاکستان میں کورونا وائرس کے 9،749 مصدقہ کیسز ہیں اور 209 اموات ہوئی ہیں۔

کورونا وائرس کے پھیلاؤ کی روک تھام کی کوششوں کے جزو کے طور پر حکام نے پاکستان کے مختلف حصوں میں خریداری کے بڑے مراکز، ریستورانوں اور عوامی مقامات کو بند کر دیا ہے۔

image

پولیس افسران 20 اپریل کو پشاور میں اپنے فرائض انجام دیتے ہوئے۔ پولیس نے رمضان سے قبل پشاور اور باقی ماندہ ملک میں حفاظتی انتظامات بہتر بنائے ہیں۔ [جاوید خان]

image

18 اپریل کو لاک ڈاؤن کے دوران پشاور کے گھنٹہ گھر بازار میں خریداری کرنے والوں کا ہجوم۔ [جاوید خان]

ملک کے چوٹی کے علماء کے ساتھ ایک حالیہ اجلاس کے دوران صدر عارف علوی نے کہا کہ اگر وہ احتیاطی تدابیر اپنائیں تو حکومت تراویح اور دیگر نمازوں کی مساجد میں ادائیگی کی اجازت دے گی۔

علوی کا کہنا تھا، "مساجد میں جراثیم کشی کی جائے گی، جبکہ کورونا کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے نمازیوں کے درمیان چھ فٹ کا فاصلہ ہو گا،" ان کا مزید کہنا تھا کہ نمازیوں کو مصافحہ کرنے اور نمازوں سے پہلے اور بعد میں بڑی تعداد میں جمع ہونے سے گریز کرنا چاہیئے۔

انہوں نے علمائے دین سے کہا کہ وہ نمازیوں اور باقی عوام کو بڑے اجتماعات کی بیماری پھیلانے کی صلاحیت کے متعلق تعلیم دیں۔.

پشاور کے ایک مکین، جمیل الرحمان حکام کو رمضان سے قبل احتیاطی تدابیر اختیار کرتے دیکھ سکتے ہیں۔

رحمان نے کہا، "ہم نے مساجد کو کلورین ملے پانی سے دھویا ہے، اور ہمارے امام صاحبان نے نمازیوں سے کہا ہے کہ وہ رمضان اور دیگر ایام میں ایک محفوظ فاصلہ رکھتے ہوئے نماز ادا کریں۔"

ان کا مزید کہنا تھا کہ کھانسی یا بخار کی علامات والے نمازیوں کو گھروں پر رہنے کا کہا گیا ہے۔

رحمان نے کہا، "عبادت گزاروں سے کہا گیا ہے کہ وہ بڑی تعداد میں جمع نہ ہوں اور وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے سماجی فاصلے کو یقینی بنائیں۔"

سخت حفاظتی اقدامات

14 اپریل کو علاقائی پولیس افسران کے ساتھ ایک ویڈیو کانفرنس میں، انسپکٹر جنرل آف پولیس (آئی جی پی) کے پی ثناء اللہ عباسی نے قانون نافذ کرنے والے افسران کو رمضان سے پہلے حفاظتی اقدامات سخت کرنے کی ہدایت کی۔

انہوں نےلاک ڈاؤن کے دوران سماجی فاصلے کا اطلاق کرنےنیز رمضان المبارک کے دوران امن و امان کو یقینی بنانے پر زور دیا۔

عباسی نے کہا، "رمضان اور دیگر ایام کے دوران ان کے فرائض کی انجام دہی کے لیے، تمام پولیس اہلکاروں کے کورونا وائرس سے محفوظ رہنے کے لیے خصوصی حفاظتی لباس اور آلات تیار کیے گئے ہیں۔"

پولیس نے سندھ، بلوچستان اور پنجاب میں بھی حفاظتی اقدامات کو بہتر بنایا ہے۔

وزیرِ زراعت سندھ اسماعیل راہو نے 17 اپریل کو کہا تھا، "سندھ حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ کورونا وائرس کی صورتحال کی وجہ سے رمضان بازار نہیں لگائے جائیں گے،" ان کا مزید کہنا تھا کہ پھل اور سبزیاں مقامی دکانوں پر دستیاب ہوں گے اور خریدار آن لائن آرڈر دے سکتے ہیں۔

پنجاب، بلوچستان اور کے پی بھی رمضان بازار لگانے کی اجازت نہیں دے رہے ہیں۔

مزید برآں، تمام صوبوں کے شہروں اور اسلام آباد میں افسران کی بڑی ٹولیاں مساجد سمیت تمام عوامی مقامات کے داخلی اور خارجی راستوں، نیز ان کے حساس مقامات پر پہرہ دیں گے۔

کے پی کے ایس ایس پی، آفریدی نے کہا، "ہم نے شہر کے مختلف حصوں میں 44 پڑتالی مقامات قائم کیے ہیں، جبکہ فرنٹیئر کانسٹیبلری اور فوج کے ساتھ مل کر گشت کرنے والی پارٹیاں تشکیل دے دی گئی ہیں۔"

ان کا کہنا تھا کہ اضافی پولیس کی تعیناتی رمضان کے دوران امن و امان کو یقینی بنانے میں مدد کرے گی۔

ہنگامی نقد امداد

پشاور میں پولیس نے لاک ڈاؤن کو یقینی بنانے کے لیے پہلے ہی شہر کے مختلف حصوں میں 3،000 سے زائد اہلکار تعینات کر دیئے ہیں۔

مزید برآں، حکومتِ پاکستان رمضان سے قبل لاک ڈاؤن سے متاثر ہونے والے خاندانوں میں کُل 144 بلین روپے (881 ملین ڈالر) تقسیم کر رہی ہے۔

پروگرام کی ڈائریکٹر، ثانیہ نشتر نے کہا، "احساس ایمرجنسی کیش پروگرام کی رقوم کی ادائیگیاں 19 اپریل سے جاری ہیں، جس میں 12 ملین ضرورت مند خاندانوں میں 12،000 روپے [73 ڈالر] فی خاندان کی امداد دی جا رہی ہے۔"

ثانیہ نے کہا، "پہل کاری کے تحت 19 اپریل سے تقریباً 4 ملین خاندانوں میں تقریباً 53 بلین روپے [320 ملین ڈالر] تقسیم کیے جا چکے ہیں،" انہوں نے مزید کہا کہ نقد رقم کی تقسیم جاری ہے اور یہ کہ ہدف شرکاء کی اکثریت غالباً رمضان سے پہلے امداد وصول کر لے گی۔

وہ خاندان جو ملازمتوں سے محروم ہونے کے بعد یا لاک ڈاؤن کی وجہ سے اپنے کاروبار بند ہونے کے بعد رمضان کے لیے انتظامات کرنے کے متعلق فکر مند تھے انہوں نے مالی معاونت کے لیے اظہارِ تشکر کیا ہے۔

کوہاٹ کی مکین، شاہدہ بیگم نے کہا، "ہم رمضان کے لیے خوراک اور دیگر ضروریات پوری کر سکتے ہیں اور ہم نے یہ حکومت کی جانب سے ملنے والے 12،000 روپے سے کیا ہے۔"

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا

تبصرہ
تبصرہ کی پالیسی * لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے 1500 / 1500

اگر آپ واقعی معاشرتی فاصلہ نافذ کرنا چاہتے ہیں تو مساجد کو تالے لگائیں، ورنہ یہ سب ایک منافقانہ اور بے کار ڈرامہ بازی ہو گی.

جواب