https://pakistan.asia-news.com/ur/articles/cnmi_pf/features/2020/04/29/feature-02
دہشتگردی

حکومت کی رمضان میں کالعدم تنظیموں کو عطیات دینے کے خلاف سخت کارروائی

از ضیاء الرحمان

image

کراچی میں ایک فلاحی ادارہ 23 اپریل کو کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے کیے گئے لاک ڈاؤن سے متاثرہ افراد کے لیے کھانے پینے کی اشیاء سے لدے 23 ٹرک روانہ کرتے ہوئے۔ [ضیاء الرحمان]

اسلام آباد -- پاکستانی حکام یہ یقینی بنانے کے لیے اقدامات کر رہے ہیں کہ رمضان المبارک کے دوران عطیات کالعدم عسکری تنظیموں کی بجائے مستحق اور حقیقی فلاحی تنظیموں کو ملیں۔

انسدادِ دہشت گردی کی کوششوں کے جزو کے طور پر عطیات کی نگرانی کرنے کے لیے پاکستان کی وزارتِ داخلہ کی ہدایات کے مطابق، 23 اپریل کو حکومتِ پنجاب نے اعلان کیا کہ یہ 79 کالعدم تنظیموں کو زکوٰۃ اور فطرانہ -- عطیات جو کہ خصوصاً رمضان میں دیئے جاتے ہیں -- جمع کرنے سے روکے گی۔

رمضان کا باضابطہ آغاز 25 اپریل کو ہوا تھا۔

صوبہ سندھ اور خیبرپختونخوا نے بھی رمضان میں عطیات کے متعلق ایسے ہی نوٹیفیکیشن جاری کیے ہیں۔

image

کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو محدود کرنے کے لیے پولیس نے 19 اپریل کو کراچی میں لاک ڈاؤن کا اطلاق کیا تھا۔ [ضیاء الرحمان]

قومی سطح کے انسدادِ دہشت گردی کے سرکاری ادارے، نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم اتھارٹی (نیکٹا) نے،کالعدم عسکری تنظیموں کی ایک فہرست مرتب کی ہےجس کا مقصد مشتبہ دہشت گردوں کے ساتھ کاروبار کرنے یا ان کے ساتھ لین دین کرنے سے اجتناب کرنے میں مالیاتی اداروں اور افراد کی مدد کرنا ہے۔

فہرست میں شامل ممتاز کالعدم تنظیموں میں "دولتِ اسلامیہ عراق و شام" (داعش)، تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)، القاعدہ، لشکرِ طیبہ (ایل ای ٹی)، لشکرِ جھنگوی (ایل ای جے)، سپاہِ محمد پاکستان (ایس ایم پی) اور سپاہِ صحابہ پاکستان (ایس ایس پی) شامل ہیں۔

پابندی لگنے کے بعد، عسکریت پسندوں کی جانب سے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو چکمہ دینے کے لیے بنائے گئے فلاحی ادارے بھی فہرست کا حصہ ہیں۔ ان میں فلاحِ انسانیت فاؤنڈیشن (ایف آئی ایف)، معمار ٹرسٹ، الاختر ٹرسٹ، الرشید ٹرسٹ، الحرمین فاؤنڈیشن۔ اور رابطہ ٹرسٹ شامل ہیں۔

نیکٹا کے ایک اہلکار، جنہوں نے نام ظاہر نہ کرنے کی درخواست کی تھی کیونکہ وہ ذرائع ابلاغ سے بات کرنے کے مجاز نہیں ہیں، کے مطابق جون 2019 میں، سچل سرمست ویلفیئر ٹرسٹ اور الجزاء پیشنٹ ویلفیئر سوسائٹی -- دونوں ہی کراچی کی مقامی ہیں -- کو اس فہرست میں شامل کیا گیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ کالعدم تنظیموں اور ان کے ساتھ منسلک فلاحی اداروں کی فہرست کی تجدید کرنا ملک کیمنی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کو سرمائے کی فراہمی کی بیخ کنی کرنےکی کوششوں کا حصہ ہے۔

فراخدلی کا ناجائز فائدہ اٹھانا

عسکریت پسندوں کے ساتھ منسلک خیراتی اداروں نے ماضی میں اسلامی مواقع کا ناجائز فائدہ اٹھانے اور زکوٰۃ اور فطرانے کی شکل میں جمع کردہ پیسوں کو غرباء کی مدد کرنے کی بجائے دہشت گردی میں پیسہ لگانے اور ہتھیار خریدنے کے لیے استعمال میں لانے کی کوششیں کی ہیں۔

اسلام آباد کے مقامی تھنک ٹینک، پاکستان مرکز برائے خدمتِ خلق کی جانب سے 2016 میں جاری ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق، سنہ 2014 میں، پاکستانیوں نے تقریباً 240 بلین روپے (1.5 بلین ڈالر) خیرات کیے تھے۔

کراچی کے مقامی ایک ترقیاتی ماہر جو علاقے میں فلاحی مہمات چلاتے ہیں، ابوبکر یوسفزئی نے کہا کہ حکومت کی جعلی خیراتی اداروں پر پابندی لگانے کی کوشش بارآور ہو رہی ہے۔

یوسفزئی نے کہا، "عسکریت پسندوں کی ملک بھر میں عطیات جمع کرنے کی مہمات بری طرح متاثر ہوئی ہیں کیونکہ حکومت نے عسکری تنظیموں کے عطیات جمع کرنے پر پابندی عائد کر دی ہے۔"

انہیں تشویش ہے کہ کالعدم تنظیمیںکورونا وائرس کی عالمی وباءکو اپنی تخریبی سرگرمیوں کے لیے پیسے جمع کرنے کے نئے طریقے کے طور پر استعمال کر سکتی ہیں۔

منان حسین، ایک فلاحی کارکن جو کراچی کے کیماڑی کے علاقے میں مفت کھانا تقسیم کرتے ہیں، نے کہا، "حکومت کی مسلسل پابندی کی وجہ سے، کئی کالعدم خیراتی ادارے، خصوصاً ایف آئی ایف، [کورونا وائرس] لاک ڈاؤن سے متاثرہ افراد کے لیے حالیہ امدادی سرگرمیوں میں سامنے نہیں آئے۔"

انہوں نے کہا جبکہ حکومت دہشت گرد گروہوں کو پیسے جمع کرنے سے روکنے کے لیے اقدامات کر رہی ہے، "عوام کا چوکس رہنا بھی اہمیت کا حامل ہے۔"

ان کا کہنا تھا، "قانون نافذ کرنے والے ادارے گزشتہ کئی برسوں سے شہر بھر میں بینر آویزاں کر رہے ہیں جس میں عوام کو رمضان کے دوران مالی عطیات دیتے وقت محتاط رہنے کو کہا گیا ہے۔"

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا

تبصرے 0
تبصرہ کی پالیسی * لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے 1500 حروف باقی ہیں (حد 1500 حروف)