https://pakistan.asia-news.com/ur/articles/cnmi_pf/features/2020/01/29/feature-02
معاشرہ

نئی ایپ کے پی میں بچوں کے تحفظ کی ڈیجیٹل کوشش کا آغاز

از ظاہر شاہ شیرازی

image

'میرا بچہ الرٹ' ایپ کا ایک اسکرین شاٹ۔ [ظاہر شاہ شیرازی]

پشاور -- حقوقِ اطفال کے محافظ اور سول سوسائٹی کے کارکن خیبرپختونخوا (کے پی) میں ایک نئی پہل کاری کا خیرمقدم کر رہے ہیںجس کا مقصد بچوں کا تحفظ کرنا ہے۔

گزشتہ نومبر میں کے پی حکومت نے 'میرا بچہ الرٹ' شروع کی تھی، جو کہ ایک ڈیجیٹل ایپلیکیشن ہے جو گمشدہ بچوں کو ڈھونڈنے اور بچوں کے ساتھ بدسلوکی کو روکنے مں مدد دے گی۔

بچوں اور خواتین کا شمار ان گروہوں میں ہوتا ہے جو پاکستان میں عسکریت پسندی سے سب سے زیادہ متاثر ہوئے تھے۔ جنگجو اکثر بچوں کو بطور بچے سپاہی یا خودکش بمبار استعمال کرنے کے لیے اغواء کرتے تھے۔

اگر ان کا بچہ گم ہو جائے تو ایپ والدین کو ایسی صورت میں فوری طور پر پولیس کو اطلاع دینے کے قابل بناتی ہے۔ یہ پاکستان سیٹیزن پورٹل کے ساتھ منسلک ہے، جو کہ ایک ملک گیر ایپ ہے جو سرکاری محکموں میں شکایات درج کروانے کے لیے استعمال ہوتی ہے، اور متعلقہ ضلعی افسران اور علاقائی پولیس افسران، نیز انسپکٹر جنرل اور چیف سیکریٹری کو انتباہ اور تحریری پیغامات جاری کرتی ہے۔

image

وزیرِ اعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نومبر میں 'میرا بچہ الرٹ' ایپ کا افتتاح کرتے ہوئے، جو کہ ایسی ایپ ہے جس کا مقصد بچوں کے خلاف جرائم کی بیخ کنی میں مدد دینا ہے۔ [ظاہر شاہ شیرازی]

ایپ ایدھی مراکز اور تحفظِ اطفال کے دیگر اداروں کو، نیز پولیس کال مراکز اور ہیلپ لائنز کو بھی متنبہ کرتی ہے۔

پشاور کی مقامی، انسانی حقوق کی کارکن اور حقوقِ اطفال پر خصوصی مہارت کی حامل، آسیہ پروین مغل نے کہا، "بدقسمتی سے، ماضی کے حکومتیں اس ملک کے بچوں کو جنسی بدسلوکی کا شکار بننے سے روکنے کے لیے ایک مؤثر نظام پیش کرنے میں ناکام رہیں"۔

مغل کا کہنا تھا، "مگر بچوں کے تحفظ کے لیے ڈیجیٹل طور پر بنایا گیا حفاظتی اقدام -- میرا بچہ الرٹ برائے [کے پی] حکومت -- ایک بڑی کامیابی ثابت ہو گا"۔

انہوں نے کہا، "بہت سے گمشدہ بچے کے پی میں دہشت گرد حملوں، گداگری اور بچوں کی غیر قانونی نقل و حمل کے لیے استعمال کیے جا چکے ہیں"۔

مغل نے کہا، "گزشتہ چند برسوں میں پاکستان کے اندر واقعات کی ایک بہت بڑی تعداد-- اطلاع کردہ اور اطلاع ناکردہ -- رہی ہے جہاں بچوں کو اغواء کیا گیا اور چائلڈ پورنوگرافی کے لیے انہیں متعدد بار بدفعلی کا نشانہ بنایا گیا"۔

انہوں نے مزید کہا کہ سول سوسائٹی اور ذرائع ابلاغ بچوں کے تحفظ کے طریقوں اور اپنے آپ کو کیسے بچانا ہے اس بارے میں والدین اور اساتذہ کی ذمہ داریوں کے متعلق شعور بیدار کر رہے ہیں۔

اسلام آباد کی مقامی حقوقِ اطفال کی ایک تنظیم 'ساحل' کی جانب سے دسمبر 2018 میں پیش کی گئی ایک رپورٹ کے مطابق، پاکستان میں بچوں کے ساتھ جنسی بدسلوکی کے واقعات سنہ 2017 میں روزانہ نو واقعات سے بڑھ کر سنہ 2018 کے پہلے چھ ماہ میں روزانہ 12 واقعات ہو گئے۔

گزشتہ دسمبر میں ایک رپورٹ میں این جی او کا کہنا تھا کہ سنہ 2019 کے پہلے چھ ماہ میں، سندھ کے اندر 458 واقعات، بلوچستان میں 32، کے پی میں 51 اور پنجاب میں 600 واقعات سے زائد کی اطلاع دی گئی تھی۔ گزشتہ چھ ماہ کے عرصے میں کوئی 729 لڑکیاں اور 575 لڑکے کسی نہ کسی طرح کی جنسی بدسلوکی کا شکار ہوئے۔

مغل نے دوسرے صوبوں کو ترغیب دی کہ وہ "بچوں کے تحفظ کے نظاموں کو مضبوط اور بااختیار بنانے کے لیے اسی نمونے کو اختیار" کریں۔

پشاور کے مقامی حقوقِ اطفاق کے ایک تجزیہ کار، عمران تکھر کے مطابق ایپ بلاشبہ گمشدہ بچوں اور بچوں کے ساتھ بدسلوکی کے واقعات کی شناخت کرنے میں مدد دے گی۔

انہوں نے آگاہی پیدا کرنے کی ضرورت پر زور دیا اور کے پی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ بچوں کی حفاظت کا ایک مضبوط تر نظام قائم کرنے کے لیے کے پی چائلڈ پروٹیکشن اینڈ ویلفیئر کمیشن کو فنڈ تفویض کرے۔

تکھر نے مزید کہا، "چائلڈ پروٹیکشن اینڈ ویلفیئر کمیشن کے پاس ان [بچوں] کے دوبارہ ملاپ اور بحالی کے لیے متعلقہ معلومات پر مشتمل کوائف ہونے چاہیئیں"۔

ان کا کہنا تھا، "یہ سڑکوں پر آوارہ پھرنے والے بچوں اور اغواء شدہ بچوں کو ان دہشت گردوں کے ہتھے چڑھنے سے روکنے کی طرف ایک بڑا قدم ہو گا جنہوں نے انہیں ۔۔ پاکستان، خصوصاً کے پی اور سابقہ فاٹا [وفاق کے زیرِ انتظام قبائلی علاقہ جات] میں عسکریت پسندی اور دہشت گردی کو بڑھانے کے لیے استعمال کیا ہے"۔

تحفظِ اطفال

دریں اثناء، کے پی حکومت بچوں کے تحفظ کے لیےمزید اقدامات کر رہیہے۔

18 جنوری کو ضلع نوشہرہ میں ایک آٹھ سالہ بچی کے قتل اور عصمت دری کے واقعہ کے بعد، وزیرِ اعلیٰ کے پی محمود خان نے اعلان کیا کہ بچوں کے ساتھ بدسلوکی اور نابالغوں کے خلاف دیگر جرائم کا قلع قمع کرنے کے لیے ایک ماہ کے اندر اندر سخت قوانین نافذ کیے جائیں گے۔

بچوں کے ساتھ بدسلوکی کے پہلے واقعات کے خلاف 1 جنوری کو ہونے والے ایک احتجاجی مظاہرے میں، کے پی اسمبلی میں تمام جماعتوں سے تعلق رکھنے والی خواتین ارکانِ اسمبلی نے بچوں کے ساتھ زیادتی اور بچوں کو نشانہ بنانے والے دیگر مجرموں کے لیے سزائے موت کا مطالبہ کیا۔

پشاور میں ایک سول سوسائٹی تنظیم، بلیو وینز کے چیف ایگزیکٹو آفیسر قمر نسیم نے کہا کہ میرا بچہ الرٹ ایپ یا ریاست کی جانب سے بچوں کے تحفظ کی خاطر اٹھایا گیا کوئی بھی قدم "خوش آئند ہے، مگر پہلے عوام میں شعور بیدار کرنے کی اشد ضرورت بھی ہے"۔

انہوں نے کہا کہ کوائف جمع کرنے کے عمل کی موزوں تخمینہ کاری ہونی چاہیئے، ان کا مزید کہنا تھا کہ حکام کو دہشت گردوں کی جانب سے بچوں کے استحصال اور بچوں کے ساتھ دیگر بدسلوکیوں پر مزید اعدادوشمار کی ضرورت ہے، کیونکہ بہت سے واقعات بغیر اطلاع کردہ رہ جاتے ہیں۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا

تبصرے 0
تبصرہ کی پالیسی * لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے 1500 حروف باقی ہیں (حد 1500 حروف)