https://pakistan.asia-news.com/ur/articles/cnmi_pf/features/2019/10/07/feature-02
| سلامتی

پاکستان میں طالبان کی اندرونی لڑائی منشیات کی غیر قانونی تجارت سے جڑی لگتی ہے

عبدل غنی کاکٹر

image

سیکورٹی کے اہلکار 16 اگست کو کوئٹہ ڈسٹرکٹ کے قصبے کچلاک میں، ایک مسجد میں بم دھماکے کی جگہ کو دیکھ رہے ہیں۔ [بنارس خان/ اے ایف پی]

کوئٹہ -- پاکستان میں، افغان طالبان کے راہنماؤں کے قتل کے حالیہ سلسلے کو، گروہ کی منشیات کی اسمگلنگ اور بھتہ خوری کی سرگرمیوں سے منسلک قرار دیا جا رہا ہے۔

طالبان کے ایک ذیلی گروہ، امارت اسلامیہ کی اعلی کونسل کے ارکان، نے 16 اگست کو کوئٹہ کے قریب کچلاک میں ایک مسجد پر حملہ کیا اور چار افراد کو ہلاک کر دیاجن میں طالبان کے سپریم کمانڈر ہیبت اللہ اخونذادہ کا بھائی بھی شامل تھا۔

قتل کی ایک الگ واردات میں، 17 اگست کو عسکریت پسندوں نے ملا اعظم اخوند کو، کچلاک کے قریب قلی قاسم میں، ہلاک کر دیا جو کہ طالبان کے ایک اور اہم راہنما اور اخونذادہ کے قریبی ساتھی تھے۔

image

پشاور کے کارخانو بازار میں، 2019 کو منشیات کے ایک عادی شخص کو ریلوے کی پٹری کے قریب ہیروئن استعمال کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ [محمد شکیل]

image

طالبان کے اعلی راہنما 26 جولائی کو انڈونیشیا کے دورے سے لطف اندوز ہونے کے لیے کوئٹہ سے روانہ ہو رہے ہیں۔ افغان طالبان کے راہنما پاکستان کی وفاقی تحقیقاتی ایجنسی کی طرف سے جاری ایک نقصان دہ تفتیش کو جھوٹا قرار دینے کے لیے تڑپ رہے ہیں جس میں شبہ ظاہر کیا گیا ہے کہ پاکستان میں بہت سے کاروبار اور سرمایہ کاری گروہ کے راہنماؤں کی ہے۔ [فائل]

عسکریت پسندوں نے 18 اگست کو بلوچستان کی چاغی ڈسٹرکٹ میں گردی-جنگلی کے علاقے میں طالبان کے مدرسہ پر بھی حملہ کیا اور طالبان کے کمانڈر ملا میرا جان کو ہلاک اور دیگر تین افراد کو زخمی کر دیا۔

پہلے پہل، ان ہلاکتوں کو افغان طالبان کے اندر، گروہ کی قیادت اور اس کی سیاسی سمت کے بارے میں بڑھتی ہوئی تقسیم اور عدم اطمینانی سے جڑا ہوا سمجھا جا رہا تھا۔

مگر بہت سے مشاہدین کا کہنا ہے کہ یہ تشدد، گروہ کی غیر قانونی منشیات کی تجارتی سرگرمیوں کا بھی حصہ ہے اور طالبان کے بہت سے گروہ اس منافع بخش کاروبار کو کنٹرول کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

ہلاکتوں کا منشیات کے گروہ سے تعلق

راولپنڈی سے تعلق رکھنے والے انٹیلیجنس کے ایک سینئر اہلکار نے کہا کہ "کچلاک اور بلوچستان کے دوسرے حصوں میں طالبان کے راہنماؤں کی حالیہ ہلاکتیں ہو سکتا ہے کہ منشیات کے کاروبار سے جڑی ہوں کیونکہ ہلاک ہونے والے طالبان کے راہنماؤں کی شناخت، طالبان کے نیٹ ورک کے لیے سرمایہ فراہم کرنے والے سلسلے کی اہم شخصیات کے طور پر کی گئی ہے "۔

افغان اور بین الاقوامی حکام کا کہنا ہے کہطالبان طویل عرصے سے افغانستان میں منشیات کا سب سے بڑا گروہ رہے ہیں۔

اہلکار نے اپنا نام نہ بتانے کی شرط پر کہا کہ طالبان افغانستان میں پوست کی کاشت اور منشیات کے کاروبار سے سالانہ 600 ملین ڈالر (94 بلین روپے) کماتے ہیں۔ افغانستان میں کاشت کی جانے والی منشیات، زیادہ تر پاکستان اور ایرن کے غیر قانونی راستوں سے ہوتی ہوئی بین الاقوامی منڈی میں پہنچتی ہیں۔

کچھ افغان اہلکار، افغانستان سے آنے والی منشیات کی قیمت 70 بلین ڈالر تک بتاتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ "ہلمند صوبہ افغانستان میں پوست کی کاشت کا گڑھ ہے اور منشیات سے کمائی جانے والی رقم طالبان کی مرکزی شوری کو براہ راست فراہم کی جاتی ہے"۔

انہوں نے مزید کہا کہ "ان طالبان کی شناخت کے لیے اعلی سطح پر تفتیش جاری ہے جو بلوچستان اور پاکستان کے دیگر حصوں میں چھپ کر اپنی تحریک چلا رہے ہیں"۔

ایک سینئر افغان اہلکار نجیب زردان، جنہوں نے اس سے پہلے کوئٹہ میں افغان کونسلیٹ میں خدمات انجام دی ہیں، کہا کہ پوست کی کاشت "افغانستان میں طالبان کے لیے آمدن کا بڑا ذریعہ ہیں ۔۔۔ اس وقت طالبان اپنے ہتھیار اور ساز و سامان کا بڑا حصہ اس رقم سے خرید رہے ہیں جو انہوں نے پوست سے کمائی ہے"۔

انہوں نے کہا کہ "طالبان کے زیرِ کنٹرول علاقوں میں اگائی جانے والی زیادہ تر پوست کو ان کی آمدنی کا بڑا حصہ خیال کیا جاتا ہے"۔

انہوں نے مزید کہا کہ "افغان طالبان منشیات کے ان اسمگلروں پر بھی ٹیکس لگا رہے ہیں جو ہیروئن اور دوسری منشیات کو افغانستان سے دوسرے ممالک میں اسمگل کر رہے ہیں۔ منشیات کی اس غیر قانونی معیشت میں طالبان کا سالانہ حصہ کئی بلین افغانی پر مبنی ہے"۔

کوئٹہ سے تعلق رکھنے والے انسدادِ دہشت گردی کے سینئر اہلکار، جنہوں نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی خواہش کی ہے، کہا کہ منشیات کی رقم پر تنازعات "حالیہ حملوں کی ایک وجہ ہو سکتے ہیں جو مخالفین نے، بلوچستان کے مختلف حصوں میں طالبان کے راہنماؤں کے خلاف کیے تھے"۔

انہوں نے کہا کہ "افغان مہاجرین جو اس وقت بلوچستان کے مختلف حصوں میں رہ رہے ہیں،افغان طالبان کے لیے آڑ مہیا کر رہے ہیں۔۔۔ کیونکہ طالبان ان کے رشتہ داروں کا افغانستان میں آسانی سے پتہ لگا سکتے اور انہیں نشانہ بنا سکتے ہیں۔ ہماری تفتیش کے مطابق، ہماری زمین پر نشانہ بنائے جانے والے افغان شہریوں میں سے اکثریت کو ان مخالفین کی طرف سے نشانہ بنایا گیا ہے جن کے طالبان اور دیگر افغان جنگوؤں کے ساتھ مالی جھگڑے ہو رہے تھے"۔

انہوں نے بتایا کہ "یہ ایک ناقابلِ تردید حقیقت ہے ۔۔۔ بلوچستان میں جن طالبان راہنماؤں کو ان کے مخالفین نے ہلاک کیا ہے وہ عام افغان مہاجرین کے بھیس میں ایک بہت پرتعیش زندگی گزار رہے تھے"۔

خفیہ پرتعیش زندگی

افغان طالبان کے راہنما پاکستان کی وفاقی تحقیقاتی ایجنسی کی طرف سے جاریایک نقصان دہ تفتیش کو ناقابلِ اعتبار قرار دینے کے لیے بے تاب ہیں جس کے مطابق، پاکستان میں بہت سے کاروبار اور سرمایہ کاری گروہ کے راہنماؤں سے تعلق رکھتے ہیں۔

کئی سالوں تک، طالبان کے راہنماؤں نے اپنے آپ کو اپنے مقصد کے عاجز خدمت گاروں کے طور پر پیش کیا ہے اور وہ احتیاط سے اپنے کاروباری لین دین کو پردوں کے پیچھے چھپاتے رہے ہیں۔

تاہم، گزرتے وقت کے ساتھ ان کے گروہ کی بڑھتی ہوئی مجرمانہ فطرت -- اب افغانستان کے سب سے بڑے منشیات کی اسمگلنگ کے گروہ ہونے اور بھتہ خوری کی اسکیموں وغیرہ نے-- اس کے راہنماؤں کو بہت زیادہ امیر کر دیا ہے جبکہ دہشت گردانہ حملوں کے شکار افراد اور گروہ کے نچلے درجے کے ارکان ابھی بھی انتہائی غربت میں زندگی گزار رہے ہیں۔

افغانستان کے علاقے سپن، بولدک سے تعلق رکھنے والے افغان تاجر محمد نافع نے کہا کہ منشیات کی تجارت کے علاوہ، طالبان افغان تاجروں سے بھتہ اکٹھا کر کے لاکھوں ڈالر کماتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ افغانستان کے شورش زدہ علاقوں میں بہت ہی کم افغان تاجر اپنی سیکورٹی کے قائم رکھ سکتے ہیں۔

نافع نے کہا کہ "طالبان کا زیادہ تر ایسے علاقوں پر سخت کنٹرول ہے جہاں سے قومی ہائی وے گزرتی ہے۔ پاکستان اور افغانستان کے درمیان تجارت میں مصروف زیادہ تر تاجر بھی، افغانستان میں طالبان کو بھاری ٹیکس ادا کر رہے ہیں"۔

انہوں نے کہا کہ افغان تاجروں کی بڑی تعداد بلوچستان میں رہتی ہے جہاں افغان طالبان کے ارکان انہیں ڈھونڈ نکالتے ہیں اور ان سے ٹیکس لیتے ہیں"۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا
6
نہیں
تبصرے 0
تبصرہ کی پالیسی
Captcha