https://pakistan.asia-news.com/ur/articles/cnmi_pf/features/2019/10/04/feature-02
سفارتکاری |

پاکستان میں افغان مہاجرین طالبان کی امداد کے 'مضحکہ خیز' دعوے کا تمسخر اڑا رہے ہیں

از اشفاق یوسفزئی

image

19 جون کو لاہور میں پولیو ویکسین پلانے کی ایک مہم کے دوران ایک پاکستانی محکمۂ صحت کا اہلکار افغان مہاجرین بچوں کو پولیو کے قطرے پلاتے ہوئے۔ [عارف علی/اے ایف پی]

پشاور -- پاکستان میں مقیم افغان مہاجرین یہ دعویٰ کرنے پر افغان طالبان کا تمسخر اڑا رہے ہیں کہ انہوں نے اپنی جانب سے پاکستانی حکام کے ساتھ صحت اور تعلیم کی سہولیات کو بہتر بنانے کے لیے معاہدے کیے ہیں۔

پاکستانی حکام نے سینیئر افغان طالبان کے ایک گروپ کا پُرتپاک خیرمقدم3 اکتوبر کو اسلام آباد میں کیا تھا۔

وزارت کی جانب سے جاری کردہ فوٹیج میں دکھایا گیا کہ پاکستانی وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی اور خفیہ ادارے کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید نے معانقوں اور مسکراہٹوں کے ساتھ طالبان کے شریک بانی ملا عبدالغنی برادر کا استقبال کیا، جنہوں نے آٹھ سال پاکستانی جیلوں میں گزارے تھے۔

image

پشاور میں ایک افغان مہاجر سبزی فروش ہے۔ بہت سے افغان مہاجرین کا کہنا ہے کہ طالبان کے حالیہ بیانات ایک 'مذاق' ہیں۔ [اشفاق یوسفزئی]

image

طالبان کی جانب سے پوسٹ کی گئی ایک تصویر میں اس کے گروہی وفد کو 3 اکتوبر کو اسلام آباد میں اعلیٰ سطحی پاکستانی حکام کے ساتھ ملاقات کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ [فائل]

افغان طالبان کے سیاسی دفتر کے ترجمان سہیل شاہین نے پشتو میں ٹویٹ کیا، "آج، اسلامی امارت کے وفد نے اسلام آباد میں وزیرِ خارجہ اور دیگر اعلیٰ حکام کے ساتھ تفصیلی ملاقاتیں کیں۔ دونوں ممالک نے دوطرفہ تعلقات، سیاسی اور امن کے امور پر بات چیت کی۔"

پاکستان میں موجود افغانوں کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا، "مزید برآں، اسلامی امارت کے وفد نے صحت، تعلیم، افغان تاجروں کو ویزوں کے اجراء اور سہولیات دینے کے لیے بھی کہا ہے۔ جواب میں شاہ محمود قریشی نے مکمل تعاون کی یقین دہانی کروائی۔"

ٹویٹ پر افغان مہاجرین کی جانب سے سخت تنقید کی گئی، جن کا کہنا تھا کہ طالبان جنگجوؤں کو سچ بولنا چاہیئے اور کھوکھلے اور سیاسی بیانات دینے سے گریز کرنا چاہیئے۔

پشاور میں بورڈ بازار کے قریب میرواعظ ہائی سکول کے 10ویں جماعت کے طالب علم، نور واحد نے کہا، "طالبان کے ترجمان سہیل شاہین کی جانب سے ایک ٹویٹ دیکھ کر بہت حیرانی ہوئی جس میں انہوں نے کہا کہ انہوں نے پاکستانی وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی سے یہاں رہنے والے افغان مہاجرین کے لیے صحت اور تعلیم کی بہتر سہولیات فراہم کرنے کے لیے کہا ہے۔"

انہوں نے کہا کہ طالبان جنگجو پاکستان اور افغانستان دونوں ممالک میں تعلیم دشمن سرگرمیوں کے لیے بدنام ہیں، انہوں نے مزید کہا کہ یہ خیال کہ افغان طالبان کے وفد نے پاکستانی حکام کے ساتھ افغان مہاجرین کے لیے تعلیمی سہولیات کو بہتر بنانے کے متعلق بات چیت کی "مضحکہ خیز" ہے۔

پشاور میں اسلامیہ کالج یونیورسٹی میں ایک افغان طالب علم، 17 سالہ محمد جاوید نے کہا، "ہم طالبان جنگجوؤں کا اصل چہرہ پہچانتے ہیں، جو افغانستان میں بم اور خودکش حملوں میں بے گناہ لوگوں کو ہلاک اور زخمی کر رہے ہیں۔ وہ سکولوں اور صحت کی سہولیات کو نقصان پہنچا رہے ہیں، لہٰذا ہم ایسے بیانات کو سنجیدگی سے کیسے لے سکتے ہیں؟"

انہوں نے کہا کہ لوگ افغانستان میں دہشت گردی میں مشغول اداکاروں کی کوئی عزت نہیں کرتے، جنہوں نے ہزاروں لوگوں کو پاکستان اور دیگر ممالک میں ہجرت کرنے اور بے بسی کی حالت میں رہنے پر مجبور کر دیا۔

جاوید نے کہا، "پاکستان کی جانب سے طالبان کی درخواست کیسے قبول کی جا سکتی ہے جب وہ افغان حکومت کا حصہ ہی نہیں ہیں؟ صرف ایک منتخب حکومت یہ دعویٰ کر سکتی ہے۔"

خیبر میڈیکل کالج میں داخل ایک افغان، نور ولی نے کہا کہ طالبان جنگجوؤں نے ان گنت صحت مراکز کو تباہ کیا ہے، جس سے لوگ صحت کی خدمات سے محروم ہو گئے ہیں۔

شاہین کے ٹویٹ کے متعلق انہوں نے کہا کہ ایسے نعرے افغانوں کی آنکھوں میں دھول نہیں جھونک سکتے۔

انہوں نے کہا، "طالبان جنگجوؤں نے ایسے بیانات کے ذریعے اپنے ہم وطنوں کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کی ہے لیکن کوئی ان پر یقین نہیں کرے گا۔ افغانوں کی ایک اکثریت جانتی ہے کہ کیسے طالبان جنگجوؤں نے ہسپتالوں اور سکولوں کو تباہ کیا ہے۔"

ترقی سے عداوت

پشاور کے مقامی دفاعی اور سیاسی تجزیہ کار خادم حسین نے عسکریت پسندوں کی ترقی کے ساتھ دشمنی کی محض ایک مثال کے طور پرطالبان کی پولیو ویکسین کے خلاف مہمکی طرف اشارہ کیا۔

انہوں نے کہا، "طالبان افغانستان میں پولیو ویکسین کے خلاف مہم چلاتے رہے ہیں، جس نے بچوں کو معذوریوں میں مبتلا کیا ہے۔ انہوں نے تعلیم پر بھی پابندی لگائی ہے اور لوگ اپنے بچوں کو سکولوں میں بھیجنے سے قاصر ہیں۔"

انہوں نے کہا کہ بہت کم امکان ہے کہ ایسے سیاسی بیانات افغان عوام کے دلوں میں طالبان کے لیے نرم گوشہ پیدا کر سکیں۔

انہوں نے کہا کہ نیز پاکستان کی جانب سے افغان مہاجرین کو فراہم کی جانے والی صحت، تعلیم اور تجارت کی موجودہ سہولیات کابل میں قانونی حکومت کی کوششوں کی وجہ سے ہے۔ اس میں طالبان کا کوئی کردار نہیں ہے۔

پشاور میں کام کر رہے ایک افغان ڈاکٹر، احمد ظہیری نے کہا کہ صحت اور تعلیم کبھی بھی طالبان عسکریت پسندوں کی ترجیحات نہیں رہی ہیں کیونکہ وہ صرف دہشت گردی کے کاموں کے ذریعے لوگوں کو خوفزدہ کرنا چاہتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جب صحت کی سہولیات کی بات آتی ہے تو سب سے زیادہ تکلیف خواتین نے اٹھائی ہے۔

ظہیری نے کہا، "طالبان کے خواتین صحت اہلکاروں پر پابندی لگانے کے نتیجے میں ہماری خواتین معمولی بیماریوں کا علاج کروانے کے لیے پاکستان آ رہی ہیں۔"

پشاور میں ایک افغان استاد، رئیس شاہ نے کہا کہ طالبان کو اپنے کاموں کا بے جا کریڈٹ نہیں لینا چاہیئے، کیونکہ لوگ جانتے ہیں کہ عسکریت پسندوں نے لوگوں کے لیے کچھ بھی اچھا نہیں کیا ہے۔

انہوں نے کہا، "طالبان کو چاہئے کہ دہشت گردی روکیں اور خواتین اور بچوں کا احترام کریں۔ جھوٹے بیانات دینے کی بجائے، انہیں چاہیئے کہ وہ افغانستان کے لوگوں کے ساتھ جو کچھ کرتے رہے ہیں اس پر اللہ تعالیٰ سے معافی کے طلبگار ہوں۔"

پشاور کے علاقے تہکال میں ایک 44 سالہ افغان سبزی فروش، گل جان نے کہا کہ طالبان کے دعوے جھوٹے ہیں۔

انہوں نے کہا، "سہیل شاہین کا بیان ان لوگوں کے ساتھ ایک مذاق ہے جو جانتے ہیں کہ طالبان ان کے ملک میں دہشت گردی کا مرکز رہے ہیں۔"

گل جان نے کہا، "اگر طالبان وطن میں پرتشدد کارروائیاں ترک کر ہیں، ہم اپنے وطن واپس چلے جائیں گے، جہاں ہم کام کریں گے اور ہمارے بچے تعلیم حاصل کریں گے۔"

انہوں نے کہا، "ہمیں امید ہے کہ طالبان عسکریت پسند ۔۔۔ ایک پُرامن افغانستان کی راہ ہموار کرنے کے لیے دہشت گردی کی مذمت کریں گے۔"

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا
21
نہیں
تبصرے 1
تبصرہ کی پالیسی
Captcha

یہ سب جھوٹ ہے.اج بهی کئ افغان مہاجرین صرف اس لیے تعلیم سے محروم هے کیونکہ یونیورسٹی ان کو پاسپورٹ اور ویزے کے بغیر داخلہ نہیں دیتی...اور میں بھی ان میں سے ایک هوں.

جواب