سلامتی

بڑے پیمانے پر ہیروئن کی ضبطگی سے افغانستان، ایران میں سرحدی خدشات بے نقاب

پاکستان فارورڈ اور اے ایف پی

image

قندھار کے مضافات میں، 24 ستمبر کو، منشیات کی ایک منڈی میں مرد، ہیروئن اور حشش کی تھیلوں کے گرد اکٹھے ہو کر مول تول اور معیار کا جائزہ لے رہے ہیں۔ [بولنٹ کیلک/ اے ایف پی]

نئی دہلی، انڈیا -- کئی ممالک میں حال ہی میں پکڑی جانے والی منشیات کی بھاری مقدار نے طالبان اور ایرانی حکومت پر، نقصان دہ غیر قانونی منشیات کی تجارت کو روکنے کے لیے، ان کی نااہلیت -- یا بے دلی -- کو نمایاں کیا ہے۔

ہندوستان کے سب سے بڑے پورٹ آپریٹر نے پیر (11 اکتوبر) کو افغانستان، ایران اور پاکستان سے 15 نومبر سے تمام کارگو روکنے کا فیصلہ کیا ہے۔

اڈانی پورٹس جو کہ اڈانی گروپ کا حصہ نے کہا کہ یہ فیصلہ ان تمام ٹرمنلز پر لاگو ہو گا جو وہ چلاتے ہیں اور اس میں تھرڈ پارٹی ٹرمنلز بھی شامل ہیں۔

اس نے "تجارتی مشورے" کی کوئی وجہ نہیں بتائی، لیکن یہ پچھلے مہینے ریاست گجرات کی منڈرا بندرگاہ پر تقریبا تین ٹن ہیروئن ضبط کرنے کے بعد کیا گیا ہے۔

image

ننگرہار صوبہ کی درہِ نور ڈسٹرکٹ میں 10 مئی 2020 کو، ایک کسان پوست کے کھیت سے افیون کا رس نکال رہا ہے۔ [نور اللہ شیرزادہ /اے ایف پی]

image

ہندوستانی بارڈر سیکورٹی فورسز، منشیات کے ایک پاکستانی اسمگلر، جو تقریبا چھہ کلوگرام ہیروئن لے جا رہا تھا، کو گرفتار کرنے کے بعد، راجاتال سرحدی چوکی کے قریب، 3 اکتوبر کو پکڑی جانے والی ہیروئن کے پیکٹ دکھا رہی ہیں۔ [نریندر نانو/ اے ایف پی]

حکام نے منشیات دو کنٹینروں سے پکڑی تھیں اور ان کی مالیت کا اندازہ کم از کم 2.65 بلین ڈالر لگایا گیا ہے جو کہ ملک میں پکڑی جانے والی منشیات میں کی سب سے بڑی کھیپوں میں سے ایک ہے۔

ڈائریکٹوریٹ آف ریونیو انٹیلی جنس (ڈی آر آئی) کے مطابق، ان کا آغاز افغانستان سے ہوا تھا اور انہیں ایران کی ایک بندرگاہ سے گجرات بھیجا گیا تھا۔

ڈی آر آئی نے کہا کہ حکام نے دو ہندوستانی شہریوں کو گرفتار کیا اور مبینہ طور پر تفتیش سے پتہ چلا کہ افغان شہری بھی ملوث تھے۔ تاہم ابھی تک کسی اور شخص کو گرفتار نہیں کیا گیا ہے۔

ستمبر کے آغاز میں، ہندوستانی حکام نے 20 ملین ڈالر سے زیادہ قیمت کی ہیروئن پکڑی تھی اور چھہ ایرانی شہریوں کو گجرات کی بندرگاہ کے قریب گہرے پانیوں میں منشیات کے چھاپے میں گرفتار کیا تھا۔

منشیات سے طالبان کو سرمایے کی فراہمی

انڈیا، افغانستان اور ایران سے اسمگل کی جانے والی منشیات سے جنگ میں اکیلا نہیں ہے۔

آزربائیجان کے حکام نے ستمبر کے آخیر میں آدھے ٹن سے زیادہ ہیروئن قبضے میں لی تھی جو کہ ایک ایسے ملک کی تاریخ میں پکڑی جانے والی سب سے بڑی مقدار تھی جو یورپ کو منشیات اسمگل کیے جانے کا ایک اہم راستہ ہے۔

527.6 کلو ہیروئن ایران سے یورپی یونین کے رکن لٹویا جانے والی کار میں ملی۔

آزربائیجان نے اس سے پہلے ماضی میں بہت سے ایسے واقعات کی خبر دی تھی جن میں منشیات کے اسمگلر ایران سے آنے کی کوشش کرتے رہے ہیں اور سینکڑوں کلوگرام ہیروئن سالانہ طور پر پکڑی گئی ہے۔

افغانستان دنیا میں سب سے زیادہ ہیروئن پیدا کرنے والا ملک ہے اور یہ عالمی پیداوار کا 90-80 فیصد فراہم کرتا ہے۔

روس، ایران، پاکستان اور چین اسمگلنگ کے بڑے راستے ہیں اور افغان منشیات کی بڑی منڈیاں ہیں۔

حالیہ سالوں میں افغانستان میں ہیروئن کی پیداوار میں بہت زیادہ اضافہ ہوا ہے جس سے طالبان کو سرمایہ فراہم کرنے میں مدد ملی جو اگست میں دوبارہ اقتدار میں آ گئے۔

اقوامِ متحدہ (یو این) سیکورٹی کونسل کی جون میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق، اپنی شورش پسندی کے دوران، طالبان کا آمدنی کا بڑا ذریعہ مجرمانہ سرگرمیاں تھیں۔

اقوامِ متحدہ کے مطابق، ان سرگرمیوں میں "منشیات کی اسمگلنگ اور افیون پوست کی پیداوار، بھتہ خوری، اغوا برائے تاوان، معدنیات کا استحصال اور طالبان کے کنٹرول یا اثر و رسوخ والے علاقوں سے ٹیکس کی وصولی" شامل ہیں۔

"طالبان کی طرف سے سالانہ کمائے جانے والے پیسے کا تخمینہ 300 ملین ڈالر سے 1.6 بلین ڈالر کے درمیان لگایا گیا ہے"۔

ایرانی حکومت کے ساتھ تعلقات

حکام اور مبصرین کا کہنا ہے کہ ایرانی حکومت کی طرف سے منشیات کے مافیا کی مدد کرنے اور پاکستانی سرزمین سے ہیروئن اور دیگر غیر قانونی منشیات کو دنیا بھر میں منزلوں تک پہنچانے میں مدد کرنے کو تحریر میں لایا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس منصوبے کا مقصد روپیہ کمانا ہے تاکہ ایران کی گرتی ہوئی معیشت کو سہارا دیا جا سکے اور علاقے میں اس کی پراکسی جنگوں کے لیے سرمایہ فراہم کیا جا سکے۔

ایران کے علاقے میرجاویہ سے تعلق رکھنے والے ایک قبائلی رہنما، میر عرفان بارمزئی نے 2020 میں کہا کہ "ایران میں منشیات کی اسمگلنگ، زرمبادلہ حاصل کرنے کا ایک منافع بخش ذریعہ ہے، اور ایران کے کچھ حصوں میں مقامی حکام مبینہ طور پر منشیات کی پیداوار اور اسمگلنگ میں ملوث ان گروہوں کو مدد فراہم کر رہے ہیں"۔

انہوں نے کہا کہ "پاکستان اور افغانستان کے ساتھ ایران کی طویل اور غیر محفوظ مشرقی سرحد کو علاقے میں منشیات کی اسمگلنگ کا اہم راستہ کہا جاتا ہے۔ ایرانی حکام سرحدی علاقوں میں منشیات کی کئی فیکٹریوں کی نگرانی کر رہے ہیں۔"

2019 میں ایک رپورٹ منظرِ عام پر آئی جس میں کہا گیا کہ سپاہِ پاسدارانِ انقلابِ اسلامی (آئی آر جی سی) پاکستان میں منشیات کی اسمگلنگ کے لیے "بھاری مدد" فراہم کر رہی ہے۔

افیون کی منڈیوں میں تیزی

طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد، افغان معیشت تباہی کے دہانے پر کھڑی ہے، لیکن بلیک مارکیٹ میں منشیات انتہائی منافع بخش قیمتوں پر فروخت ہو رہی ہیں۔

جنوبی افغانستان میں افیون کے ایک دکاندار کا کہنا ہے کہ طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد سے ان کی مصنوعات کی قمیتوں میں انتہائی اضافہ ہوا ہے۔

امان اللہ، جنہوں نے ایک عرفیت استعمال کرنے کی درخواست کی ہے، نے ایک بڑے پلاسٹک کے تھیلے میں، جس میں بظاہر لگتا تھا کہ 4 کلو خاکی کیچڑ بھرا ہوا ہے، اپنا خنجر ڈالا اور ایک ڈھیلا نکال کر، تیل کے چولہے پر لٹکے ہوئے ایک چھوٹے سے کپ میں ڈال دیا۔

پوست کی گوند تیزی سے ابلنے اور مائع میں تبدیل ہونے لگی، جس سے وہ اور اس کا ساتھی محمد معصوم، کو خریداروں کو یہ دکھانے کے قابل ہو گئے کہ ان کی افیون خالص ہے۔

معصوم نے 24 ستمبر کو صوبہ قندھار کے حوض مداد کے بنجر میدانوں میں واقع بازار میں کہا کہ "یہ اسلام میں حرام ہے لیکن ہمارے پاس کوئی دوسرا چارہ نہیں ہے "۔

طالبان کی طرف سے 15 اگست کو کابل پر قبضہ کرنے کے بعد سے، افیون کی قیمت - جو یورپی مارکیٹ میں پھیلائے جانے سے پہلے افغانستان، پاکستان یا ایران میں ہیروئن میں تبدیل ہو جاتی ہے - کی قیمت تین گنا سے زیادہ ہو گئی ہے۔

معصوم نے کہا کہ اسمگلر اب اسے تقریبا ایک کلوگرام کا 100 ڈالر دے رہے ہیں۔ یورپ میں اس کی قیمت فی گرام 50 ڈالر سے زیادہ ہے۔

قیمتی سامان کو جلتی دھوپ سے بچانے کے لیے چار ڈنڈوں پر لٹکائے گئے کینوس کے نیچے بیٹھے ہوئے، اس نے کہا کہ طالبان کے قبضے سے پہلے کی قیمت، آج کی کمائی کا صرف ایک تہائی تھا۔

چند کلومیٹر کی دوری پر اپنے کھیت میں اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے، افیون کے ایک کاشتکار ذکریا، جس نے بھی انتقام سے بچنے کے لیے جعلی نام استعمال کیا نے اس بات کی تصدیق کی کہ قمیتوں میں بہت زیادہ اضافہ ہو گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس کی افیون زیادہ گاڑھی ہے -- اس لیے بہتر ہے -- معصوم اور عبداللہ سے -- کیونکہ پھولوں کو کاشتکاری کے موسم کے آغاز میں توڑا گیا تھا۔

اس نے کہا کہ اب اسے فی کلوگرام 146 ڈالر ملتے ہیں جو کہ طالبان کے قبضے سے پہلے 44 ڈالر فی کلوگرام تھے۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا

تبصرے 0

تبصرہ کی پالیسی * لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے 1500 / 1500