https://pakistan.asia-news.com/ur/articles/cnmi_pf/features/2019/09/20/feature-01
| سلامتی

افغان طالبان رہنماء بڑھتے ہوئے اندرونی اختلافات پر کھل کر بات کر رہے ہیں

از عبدالغنی کاکڑ

image

عسکری تنظیم کی جانب سے اپریل میں پوسٹ کی گئی تصویر میں افغان طالبان کا ایک رکن۔ حالیہ مہینوں میں مخالف دھڑوں کے درمیان سنگین اختلافات ابھر کر سامنے آئے ہیں۔ [فائل]

کوئٹہ -- افغان طالبان رہنماؤں، جنہوں نے کھل کر بات کرنے کا فیصلہ کیا ہے، کے مطابقافغان طالبان کے اندر بڑھتے ہوئے اختلافات اور بے چینیاںزیادہ واضح نظر آ رہی ہیں کیونکہ تنظیم کی قیادت اور اس کی سیاسی سمت پر بڑھتے ہوئے جھگڑےپہلے ہی سے منتشر تنظیم میں خلاء کومزید چوڑا کر رہے ہیں۔

طالبان کے اندر اندرونی تناؤجولائی 2015 میں طالبان کے بانی قائد ملا محمد عمر کی وفات کے اعلان، جو کہ اصل وفات کے دو سال بعد کیا گیا تھا، کے فوری بعد ابھرنے لگے تھے۔

ہائی کونسل آف اسلامک امارات، ملا محمد رسول کی قیادت میں طالبان کا ایک دھڑا، طالبان کے مرکزی گروپ -- کوئٹہ شوریٰ -- سے الگ ہو گیا تھا اور اپنے ایک آزاد جماعت ہونے کا اعلان کیا تھا، تاکہ موجودہ امیر ملا ہیبت اللہ اخوندزادہ کے پیش رو، ملا اختر محمد منصور (2016 میں ہلاک شدہ) کی جانشینی پر احتجاج کیا جائے۔

image

افغان طالبان کے ارکان اگست میں عید کے دوران ملاقات کے لیے جمع ہیں۔ طالبان رہنماؤں اور نچلے درجے کے ارکان کے مابین بے چینی میں حالیہ مہینوں میں اضافہ ہوتا رہا ہے۔ [فائل]

image

طالبان کی اعلیٰ قیادت کو 26 جولائی کو انڈونیشیاء کی سیر پر جانے کے لیے قطر سے روانگی کے وقت دکھایا گیا ہے۔ [فائل]

یہ علیحدگی تنظیم کے ارکان کے درمیان بڑھتے ہوئے فساد اور بے اطمینانی کا مرکزی نقطہ رہی ہے۔

وسیع ہوتے ہوئے اندرونی جھگڑے

حالیہ مہینوں میں افغان-پاکستان سرحد کے دونوں اطراف طالبان کے مابین لڑائیوں میں اضافہ ہوا ہے۔

16 اگست کو،ہائی کونسل کے ارکان نے کوئٹہ کے قریب کچلاک میں ایک مسجد پر حملہ کیا تھاجس میں اخوندزادہ کے بھائی حافظ احمداللہ سمیت، چار افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

17 اگست کو ایک علیحدہ قتل میں، عسکریت پسندوں نے کچلاک کے قلعہ قاسم میں ایک اور اہم طالبان رہنماء اور اخوندزادہ کے اتحادی، ملا محمد اعظم اخوند کو ہلاک کر دیا تھا۔

ذرائع نے مزید بتایا کہ عسکریت پسندوں نے 18 اگست کو بلوچستان کے ضلع چاغی کے علاقے گردی جنگل میں طالبان کے ایک مدرسے پر بھی حملہ کیا تھا، جس میں طالبان کمانڈر ملا میرا جان ہلاک اور دیگر تین زخمی ہوئے تھے۔

افغانستان میں، 6 اگست کو ہیبت اللہ اور رسول کے حامیوں کے درمیان صوبہ ہرات میں ہونے والی جھڑپوں میں 34 جنگجو ہلاک اور دیگر 13 زخمی ہو گئے تھے۔

مقامی حکام کے مطابق، تین برس سے زائد عرصے سے ہرات میں شروع ہونے والی اندرونی لڑائی میں دونوں اطراف سے 600 سے زائد طالبان ارکان یا تو مارے جا چکے ہیں یا زخمی ہو گئے ہیں۔

افغان فوج کے بڑھتے ہوئے دباؤ کا سامنا کرتے ہوئے اور یہ احساس ہونے پر کہ طالبان کی لڑائی "جہاد نہیں" ہے، سینکڑوں طالبان جنگجو مقامی حکام کے سامنے ہتھیار بھی ڈال چکے ہیں۔

طالبان رہنماؤں کو اپنے حامیوں کی جانب سے سخت مخالفت کا سامنا ہے کیونکہان کے خفیہ کاروباروں اور خود کو امیر بنانے کے منصوبوں کے متعلق اطلاعات سامنے آ رہی ہیں جبکہ تنظیم کے نچلے عہدوں کر ارکان کو غربت، بیماری اور موت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

حتیٰ کہ اس صورتحال نے بے اطمینان طالبان جنگجوؤں، جو ہتھیار ڈالنے کو تیار نہیں ہیں، "دولتِ اسلامیہ عراق و شام" (داعش)،ایک تنظیم جو زیادہ سے زیادہ طالبان ارکان کو ہلاک کر رہی ہے اور افغانستان اور پاکستان بھر میں گروپ کے علاقے پر قبضہ کر رہی ہےمیں شامل ہونے پر مجبور کر دیا ہے۔

طالبان رہنماء کھل کر بات کر رہے ہیں

نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر قندھار کے مقامی ایک سینیئر طالبان رہنماء نے پاکستان فارورڈ کو بتایا، "طالبان کے سابق امیر ملا محمد عمر کے خاندان کی قیادت میں افغان طالبان کے ایک دھڑے کے موجودہ قیادت کے ساتھ سنگین اختلافات ہیں۔"

انہوں نے کہا، "طالبان کا یہ حریف دھڑا طالبان تحریک کی قیادت کرنے کے لیے ملا ہیبت اللہ اخوندزادہ کی نامزدگی کا بھی مخالف ہے۔"

اس طالبان رہنماء کے مطابق، بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ ہیبت اللہ کی زیرِ قیادت دھڑے پر بیرونی طاقتوں کا اثر و رسوخ ہے جنہوں نے "پوری تحریک کو ہائی جیک" کر لیا ہے۔

انہوں نے کہا، "ہیبت اللہ کے دھڑے کے کچھ موجودہ طالبان رہنماء تحریکِ طالبان کو بیرونی خواہشات کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔"

"ہماری اسلامی تحریک کے یہ اندرونی عناصر ان بیرونی عناصر کے بیانیئے کو فروغ دے رہے ہیںجو طالبان کو اپنے تزویراتی ڈیزائن کے لیے استعمال کرنا چاہتے ہیں۔

انہوں نے کہا، "طالبان کا وہ دھڑا جس کے پاکستان،ایراناور روس کے ساتھ قریبی روابط ہیں، ہمارے منشور کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔"

طالبان رہنماء کا کہنا تھا، "حالیہ امن مذاکرات میں وہ اپنے غیر ملکی حامیوں کے ایجنڈے کو آگے بڑھانا چاہتے ہیں، مگر ہم کبھی بھی ایسا نہیں ہونے دیں گے۔ ہم اپنی تحریک میں ان عناصر کو نشانہ بنا رہے ہیں جو افغان قوم کو بیوقوف بنا رہے ہیں۔"

اب نوشکی، بلوچستان میں مقیم، ایک سابق طالبان رہنماء، مولوی نجم الدین نے تصدیق کی کہ طالبان کو اندرونی جھگڑوں کا سامنا ہے۔

انہوں نے کہا، "کچھ اہم طالبان رہنما بھی مرکزی شوریٰ کے فیصلوں کی مخالفت کر رہے ہیں، جن کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ وہ تحریک کے لیے تزویراتی فیصلے کرنے میں جانبدار ہیں۔"

انہوں نے کہا کہ طالبان کے قطر دفتر کے سیاسی امور کے رہنماء، سید طیب آغا کا استعفیٰ بھی ان اندرونی اختلافات کا ایک نتیجہ تھا۔

نجم الدین نے کہا، "ملا اختر منصور کی وفات کے بعد سے، ملا محمد رسول کی قیادت میں افغان طالبان کے متحارب دھڑے ایک متوازی شوریٰ چلاتے رہے ہیں۔"

قیادت کے جھگڑوں اور حریف طالبان ارکان کے قتلوں کے سبب پیدا ہونے والے شگافوں نے کچھ افغان طالبان ارکان کو داعش کے جنگجوؤں کے ساتھ قوتیں مجتمع کرنے پر مجبور کر دیا جب وہ افغانستان میں اپنے پیر جمانے کی کوشش کر رہے تھے۔

نجم الدین نے کہا، "کئی اہم طالبان حریف رہنماء اب داعش کا حصہ ہیں، اور کنڑ اور افغانستان کے دیگر صوبوں میں طالبان کے سامنے بہت مزاحمت کر رہے ہیں۔"

افغانستان کا غیر یقینی مستقبل

اسلام آباد کے مقامی علاقائی امور کے ایک سینیئر تجزیہ کار رشید احمد نے کہا کہ طالبان کی قیادت پر بنیادی اختلافات کے علاوہ، تقسیم کرنے والا ایک اور بڑا عامل تنظیم کی کارروائیاں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ اختلافات گروپ کو کمزور کر رہے ہیں بلکہ افغانستان کے ترقی کرنے کو بھی مشکل بنا رہے ہیں۔

احمد نے کہا، "افغانستان ایک غیر یقینی سیاسی اور دفاعی صورتحال کا سامنا کر رہا ہے؛ لہٰذا، علاقائی قوتوں کو افغان سرزمین پر اپنے اہداف حاصل کرنے میں رکاوٹیں پیش آ رہی ہیں۔"

انہوں نے کہا، "تحریکِ طالبان میں اندرونی اختلافات طالبان کے تزویراتی مفادات کو بھاری نقصان پہنچا رہے ہیں، اور اس کی اعلیٰ قیادت کو بڑھتے ہوئے اختلافات پر سخت تشویش ہے۔"

انہوں نے کہا، "گزشتہ چند برسوں میں، ہم نے افغان طالبان کی اندرونی پالیسی میں ایک بہت بڑی تبدیلی دیکھی ہے، اور یہ واضح ہے کہ طالبان کے اندر ہی کچھ دھڑے امن مذاکرات پر مختلف نکتۂ نظر رکھتے ہیں۔"

انہوں نے مزید کہا، "ایک مستحکم اور پُرامن افغانستان علاقائی امن میں ایک اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔"

اسلام آباد کے مقامی ایک سینیئر دفاعی تجزیہ کار، طلعت شبیر نے کہا، "افغانستان میں امن مذاکرات میں تعطل طالبان کے اندرونی جھگڑوں کی وجہ سے آیا ہے، اور علاقائی قوتیں افغانستان پر اثرانداز ہونے کے لیے طالبان کے ساتھ مل کر کام جاری رکھے ہوئے ہیں۔"

شبیر نے کہا، "افغان طالبان [دھڑوں] کے درمیان بڑھتی ہوئی لڑائی بہت زیادہ خون خرابے پر منتج ہوئی ہے، اور گزشتہ چند برسوں میں، بہت سے اہم طالبان رہنماء رقابت میں اپنی جانیں گنوا چکے ہیں۔"

انہوں نے کہا، "علاقائی ممالک افغانستان میں اپنے مفادات کو محفوظ بنانے کے لیے طالبان کو ایک ذریعے کے طور پر دیکھتے ہیں؛ لہٰذا، وہ طالبان میں گروہوں کی حمایت کر رہے ہیں۔"

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا
19
نہیں
تبصرے 10
تبصرہ کی پالیسی
Captcha

تقریباً ہر مضمون ہی جھوٹ پر اور منافقت پر مبنی ہے

جواب

یہ افغان حکومت ہے، جو پاکستان کے ساتھ ایک غیر اعلانیہ جنگ میں ملوث ہے، اور افغانستان کے صدر نے اسے واضح کر دیا ہے۔ اگر پاکستان تورکم پر کچھ برا کرتا ہے، اگر وہ سرحد کے ساتھ ایسا کرتا ہے، تو افغان حکومت میں بھی ایسا کرنے کی صلاحیت ہے، یہ جنگ ہے۔ ہر کوئی وہ سب کرتا ہے جس کی وہ صلاحیت رکھتا ہے۔ کل کم از کم یہ کہا جا سکتا ہے کہ جنگ کے دوران پاکستان نے کیا کیا ہے اور افغان نظام نے اپنے بین الاقوامی پشت پناہوں اور مقامی شورش کی وجہ سے کھل کر کام نہیں کیا، لیکن نقطہ یہ ہے کہ طالبان خود کو اس علاقہ کے ستر فیصد کا حکمران خیال کرتے ہیں۔ سرحدی افواج پر روزانہ کی بنیادوں پر طالبان حملے کرتے ہیں، پاکستان پر کون سا حقیقی حملہ کیا گیا؟ یہ کیسی امارتِ اسلامی ہے کہ جو اپنے علاقہٴ عملداری سے متعلق اعتراض نہیں کر سکتی؟ کیا اسلام اسقدر کمزور ہے؟ وہ کہتے ہیں کہ ہم نے چالیس ممالک کو شکست دی ہے، تو یہ ملّائیت ہے۔ تو پھر تم پاکستان کے اسقدر وفادار کتے کیوں ہو؟
حضرت ولی افغان

جواب

اس مکالہ کی نہایت پذیرائی کرتے ہیں۔ میرا خیال ہے کہ دنیا کو طالبان کے خلاف ایک مشترکہ نقطہٴ نظر تشکیل دینا چاہیئے، جو کہ خود کو افغانستان کے قصاب ثابت کر رہے ہیں۔ یہ لوگ اسلام کے حقیقی چہرے کو مسخ کر رہے ہیں۔ اگر طالبان درحقیقت افغانستان کے لیے فکرمند ہیں تو انہیں افغانستان کے مستقبل سے متعلق روس اور دیگر یورپی ممالک سے بات کرنے کے بجائے اندرونی تنازعات پر افغان حکومت سے بات کرنی چاہیئے۔ افغان اپنے ملک میں امن و رواداری کے خواہاں ہیں اور یہ طالبان کے ہوتے ہوئے ممکن نہیں۔ ایک افغان ہونے کے ناطے میرا خیال ہے کہ یہ مکالہ طالبان کے وحشت ناک چہرہ کو بجا طور پر بے نقاب کرتا ہے۔

ننگرہار سے حمداللہ مفِب

جواب

جب جنگ کا ایک فریق محاذ پر شکست خوردہ ہوتا ہے
اور دست بدست لڑائی کی صلاحیت کھو دیتا ہے
تو وہ دوبارہ جنگ مسلط کرنے لگتے ہیں!
اضلاع اور شہروں پر سامنے سے حملے کرتے ہیں!
اپنی موجودگی ثابت کرنے کے لیےشہروں میں دھماکے اور خودکش دھماکے کرتے ہوئے عوام میں خوف پھیلاتے ہیں!
ریاستی تنصیبات مین شہری آبادیوں کو نشانہ بناتے ہیں!
دیہی علاقوں کو ڈھال کے طور پر استعمال کرتے ہیں!
ایجنسیوں کو نشانہ بناتے ہیں جن کی کوئی سرحد نہیں ہوتی!
عام سڑکوں پر عدالتیں لگا کر شہریوں پر مقدمے چلاتے ہیں
اور۔۔۔
کندوز، بغلان، فاراح۔۔۔

جواب

یہ حقیقت اب کسی سے مخفی نہیں رہی کہ طالبان میں گروپ بندی ہے اور ان گروپوں کی بنیادی وجہ ذاتی مفادات اور بھاری سرمایہ حاصل کرنا ہے مختلف خطوں سے چندہ کی شکل میں بھاری رقوم کا حصول اور سرحدی علاقوں سے سمگلنگ کے اموال پر محصولات لینا اختلافات کی بڑی وجہ ہے کیونکہ جو کچھ جس کے ہاتھ آیا وہ اسی کا ہوا اب طالبان کمانڈرز کے درمیان ان پوسٹوں پر تعیناتی کی تگ و دو شروع ہے جس میں آمدن زیادہ ہو۔ اختلافات اور گروپ بندی کی ایک وجہ قومی اور لسانی تعصب بھی ہے اکثر اچھی پوسٹوں پر ان لوگوں کی تعیناتی ہوتی ہے جو اخندزادہ کے زیادہ قریب ہوں ۔ اور اگر انکے بودوباش اور طور طریقوں پر غور کیا جائے تو یہ اندازہ بآسانی اخذ کیا جاسکتا ہے کہ ان کے مقتدر رہنما امن کے خواہاں نہیں ہیں کیونکہ ان لوگوں نے پاکستانی کچھ شہروں میں جو آباد کاری کی ہے یا دوسرے ممالک میں انکے بزنس ہیں ان کو دیکھ کر یہ گمان ہی نہیں ہوتا کہ یہ کسی جنگ زدہ ملک کے رہنما ہیں یا انہیں اپنے ملک اور عوام کی وجہ سے کوئی پریشانی ہے کیونکہ آئے روز یہ خبریں سننے کو ملتی ہیں کہ فلاں رہنما نے اتنے لاکھ میں تیسری شادی رچائی پلان کمانڈر نے اتنے کروڑ میں بنگلہ خریدا ، وغیرہ وغیرہ

جواب

افغانستان میں چند لوگ خیال کرتے تھے کہ داخلی تنازعات پر ان کی خاموشی امن لے آئے گی۔ میرا خیال ہے کہ امن کی کاوشوں میں ان کی مؤثر شمولیت کے بغیر ایسا ہونے والا نہیں۔ صدر اشرف غنی اور دیگر تمام رہنماؤں کو اپنی سرزمین کے ساتھ اخلاص کو یقینی بنانا ہوگا۔ صادق افغان کی جانب سے

جواب

طالبان دشمنانِ اسلام ہیں، آئیں ان سب کو مار گرائیں!

جواب

معلوم ہوتا ہے کہ مستقبل میں داعش افغانستان پر قبضہ حاصل کر لے گی، کیوں کہ داخلی تنازعات طالبان کی قوت اور اثر کو توڑ رہے ہیں۔ اختر زمان زابل

جواب

اس رپورٹ سے تصدیق ہوتی ہے کہ افغانوں نے افغانستان میں اپنے ذاتی مفاد کے لیے کام کرنا شروع کر دیا ہے۔ طالبان ایک اسلامی نظریاتی جنگ کا دعویٰ کرتے ہیں، اگر یہ درست ہے تو وہ معصوم افغانوں کو کیوں قتل کر رہے ہیں؟؟ طالبان کے حملوں میں ہر جگہ مرکزی متاثرین شہری ہوتے ہیں لہٰذا یہ ہمارے افغانوں کے لیے درست وقت ہے کہ وہ متحد ہو جائیں اور ہماری سرزمین سے طالبان کے وجود کا مقابلہ کریں۔ آئیں غازی امان اللہ خان، ڈاکٹر نجیب اللہ خان اور اپنی قوم کے دیگر عظیم رہنماؤں کے نقطہٴ نظر کے ساتھ زندگی بسر کریں۔

جواب

درست، طالبان کو ان کلیدیوں کو باہر کے لوگوں کے لیے کام کرنے کی اجازت نہیں دینی چاہیئے۔ میں اس نقطہٴ نظر کی توثیق کرتا ہوں کہ افغانستان میں مسلح تنازع ہمارے افغان مقصد کو نقصان پہنچا رہا ہے۔ حقیقت پر مبنی تجزیہ کے لیے پاکستان فارورڈ کا شکریہ۔ افغانستان زندہ باد

اسد افغان

جواب