https://pakistan.asia-news.com/ur/articles/cnmi_pf/features/2019/09/11/feature-04
| دہشتگردی

امریکہ کی جانب سے دہشت گرد گروہوں اور ان کے مالی سرپرستوں کو نشانہ بنانے کے لیے اختیارات میں توسیع

پاکستان فارورڈ

image

18 اگست کو جبرالٹر کے ساحل کے پاس آدریان داریا 1 آئل ٹینکر، جسے ماضی میں گریس 1 کہا جاتا تھا، پر ایرانی پرچم لہرا رہا ہے۔ ٹینکر کو 6 ستمبر کو شام کے ساحل کے پاس دیکھا گیا تھا جو کہ بظاہر بین الاقوامی پابندیوں کی خلاف ورزی ہے۔ [جونی بوگیجا/اے ایف پی]

واشنگٹن، ڈی سی -- امریکہ نے اپنے حکام اور اداروں کے اختیارات وسیع کر دیئے ہیں تاکہ وہ دہشت گرد گروہوں کے قائدین کو اور ایسے افراد اور اداروں کو ہدف بنائیں جو دنیا بھر میں ان کی معاونت کرتے ہیں۔

منگل (10 ستمبر) کو جاری ہونے والے امریکی محکمۂ خزانہ کے بیان کے مطابق، ایک نیا دستخط شدہ انتظامی حکم "امریکی حکومت کو دہشت گرد گروہوں کے قائدین یا اہلکاروں نیز ایسے افراد جو دہشت گردی کی تربیت میں حصہ لیتے ہیں کو زیادہ مؤثر طریقے سے ہدف بنانے کے قابل بناتا ہے۔"

بیان میں کہا گیا کہ یہ "غیر ملکی مالیاتی اداروں کے خلاف ثانوی پابندیاں بھی عائد کرتا ہے جنہوں نے نامزد کردہ دہشت گردوں کی فہرست پر موجود "کسی بھی فرد کی جانب سے دانستہ طور پر کوئی بڑا مالی لین دین کیا ہو یا اس میں سہولیت کاری کی ہو۔"

image

6 ستمبر کی ایک سیٹیلائٹ تصویر میں ایرانی تیل کے ٹینکر آدریان داریا 1 کو شام کی بندرگاہ تارتس کے قریب دیکھا گیا ہے۔ [ڈیجیٹل گلوب]

image

ایران کے اسلامی پاسدارانِ انقلاب کے ارکان ایرانی جنگجوؤں کی اجتماعی تدفین میں شریک ہیں جو شام کی خانہ جنگی میں لڑتے ہوئے مارے گئے تھے۔ [ایرانی وزارتِ دفاع]

بیان میں مزید کہا گیا ہے، "یہ نیا اختیار ان تمام غیر ملکی مالیاتی اداروں کو نتائج بھگتنے سے خبردار کرتا ہے جو دہشت گردوں اور ان کے مالی پشت پناہوں کو ان کی مذموم سرگرمیوں میں سہولت دینے کے لیے بین الاقوامی مالیاتی نظام پر انحصار کرنے کے قابل بنا رہے ہیں۔"

اختیارات میں توسیع کے علاوہ، امریکی محکمۂ خزانہ نے دہشت گرد گروہوں کے ساتھ منسلک 15 قائدین، افراد، اور اداروں، بشمول فلسطینی تنظیم حماس، "دولتِ اسلامیہ عراق و شام" (داعش)، القاعدہ اور ایران کے اسلامی پاسدارانِ انقلاب دستوںقُدس فورس (آئی آر جی سی-کیو ایف) کے ساتھ منسلک اداروں کو دہشت گرد قرار دیا۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ کارروائیاں، بمع وہ کارروائیاں جو امریکی محکمۂ خارجہ کی جانب سے کی گئی ہیں، کُل ملا کر گزشتہ 15 برسوں میں دہشت گرد تنظیموں اور ان کے حامیوں کے خلاف کی جانے والی کارروائیوں سے زیادہ ہیں۔

ایرانی تیل کی نقل و حمل کے نیٹ ورک کو ہدف بنایا گیا

نئے اختیارات اس وقت سامنے آئے ہیں جب امریکہ تیل کی نقل و حمل کے بڑے نیٹ ورک، جو آئی آر جی سی-کیو ایف کی ہدایات پر چلتا ہے اور اس کی مالی معاونت کرتا ہے، کے خلاف پابندیاں عائد کرتے ہوئے ایرانی حکومت پر شکنجہ کس رہا ہے۔

4 ستمبر کو ایک اور بیان میں امریکی محکمۂ خزانہ نے کہا کہ آئی آر جی سی-کیو ایف نے گزشتہ برس ایرانی مفادات، بشمول دہشت گرد گروہوں اور غیر قانونی اداکاروں کی معاونت، کے لیے تیل کی اس نقل و حمل کے ذریعے "سینکڑوں ملین ڈالر یا اس سے بھی زیادہ" مالیت کا تیل منتقل کیا ہے۔

اپریل میں امریکہ نے آئی آر جی سی کو تنظیم کی جانب سے دنیا بھر میں جارحانہ کارروائیوں کے کئی عشروں کے بعد ایک دہشت گرد تنظیم قرار دیا تھا۔

امریکی وزیرِ خزانہ سٹیون منچن نے کہا، "ایران خطے اور دنیا کو غیر مستحکم کرنے کے لیے اشتعال انگیز کارروائیاں کرنا جاری رکھے ہوئے ہے۔ تیل کے اس وسیع ہوتے ہوئے نیٹ ورک کے خلاف محکمۂ خزانہ کی کارروائی بالکل واضح کرتی ہے کہ جو ایرانی تیل خرید رہے ہیں وہ ایران کے عسکری اور دہشت گرد بازو، آئی آر جی سی-قدس فورس کی براہِ راست معاونت کر رہے ہیں۔"

4 ستمبر کے بیان کے مطابق، آئی آر جی سی کے اعلیٰ سطحی حکام بہت عرصے سے ایرانی تیل کی برآمد کی نگرانی کرتے رہے ہیں، جس میں اکثر اس کے ماخذ کو پوشیدہ رکھا جاتا ہے اور اسے شامی حکومت یا مشرقِ وسطیٰ اور اس سے آگے پراکسیز کو بھیجا جاتا ہے۔

آئی آر جی سی-کیو ایف کے کمانڈر قاسم سلیمانی آئی آر جی سی-کیو ایف کے ساتھی اہلکار رستم قسمی کی نگرانی کرتے ہیں جو ایرانی خام تیل، تکثیف شدہ اور گیس تیل کی فروخت کے لیے ایسے افراد کے ایک گروہ، نقل و حمل اور تیل کی کمپنیوں، نیز بحری جہازوں کا نظم و نسق سنبھالتے ہیں۔

نیٹ ورک چلانے کے لیے قاسمی آئی آر جی سی-کیو ایف کے قابلِ اعتماد حکام اور معاونین پر انحصار کرتے ہیں۔ ان کے بیٹے، مرتضیٰ قاسمی، نے نیٹ ورک کے تیل کے معاہدوں کو حتمی شکل دینے میں مدد کی ہے۔

علی قیصر، ایک لبنانی نژاد اور آئی آر جی سی-کیو ایف کا معاون، بھی اس آئی آر جی سی-کیو ایف کے منظم نیٹ ورک کے لیے بطور کلیدی فرد کردار ادا کرتا ہے۔ نیٹ ورک کے مالی امور کے لیے اس کی ذمہ داریوں میں مال کے لیے قیمتِ فروخت پر سودے بازی کرنا اور بحری جہاز سے متتعلقہ ادائیگیوں کو نمٹانا ہے۔

ایرانی جہاز بین الاقوامی پابندیوں کی خلاف ورزی کا مرتکب

گزشتہ ہفتے جاری کردہ سیٹیلائٹ سے حاصل کردہ تصاویر جن میں ایک تیل کے ٹینکر کو تارتس، شام کے قریب دکھایا گیا ہے -- یہ دنوں ممالک پر عائد پابندیوں کی خلاف ورزی ہے -- اس وقت کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے جس میں امریکہ نے انسدادِ دہشت گردی کی پابندیوں میں توسیع کی ہے۔

تیز رفتار تیل بردار بحری جہاز کا قصہ 4 جولائی کو شروع ہوا تھا، جب جبرالٹر کی سیکیورٹی فورسز نے برطانوی شاہی افواج کی مدد سے اسے اس شک کی بنیاد پر جبرالٹر کے ساحل کے قریب روکا تھا کہ یہ 2.1 ملین بیرل تیل شام پہنچا رہا تھا۔

ٹینکر کو حراست میں رکھنے کی امریکہ کی 11 گھنٹے کی کوشش کے باوجود، جبرالٹر کی عدالت نے 15 اگست کو ایران کی جانب سے تحریری ضمانت موصول ہونے پر اسے رہا کرنے کا حکم دیا تھا کہ یہ یورپی یونین کی پابندیوں والے ممالک کی طرف نہیں جائے گا۔

ٹینکر نے 18 اگست کو اپنی رہائی کے بعد مشرقی مالٹا بخارا کے سمندر میں آڑا ترچھا سفر کرنا شروع کر دیا، اس پر ایرانی پرچم اور نیا نام -- آدریان داریا 1 لہرا رہے تھے۔ پہلے اس کا نام گریس 1 تھا۔

ایران نے کبھی بھی جہاز کی منزل نہیں بتائی، اور بار بار تردید کی کہ یہ شام جا رہا تھا کیونکہ اس کا رخ مشرق کی سمت تھا۔

دریں اثناء امریکہ وزارتِ خزانہ نے انسدادِ دہشت گردی کے حکم کے تحت جہاز کو بلیک لسٹ کر دیا تھا اور کہا تھا کہ یہ "ممنوعہ ملکیت" ہے اور یہ کہ "جو کوئی بھی آدریان داریا 1 کو معاونت فراہم کرے گا اس پر بھی پابندیاں عائد ہونے کا خطرہ ہے۔"

سیٹلائیٹ سے حاصل کردہ تصاویر کے ساتھ جمعہ (7 ستمبر) کو امریکہ کی قومی سلامتی کے مشیر جان بولٹن نے ٹویٹ کیا تھا، "کوئی بھی فرد جو یہ کہتا ہے کہ آدریان داریا-1 شام کی طرف نہیں جا رہا تھا وہ تردید کر رہا ہے۔"

شامی صدر بشار الاسد کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے ٹویٹ کیا، "تہران کا خیال ہے کہ اپنے عوام کے لیے سہولیات فراہم کرنے سے زیادہ قاتل اسد کی حکومت کو فنڈ کرنا اہمیت کا حامل ہے۔ ہم بات چیت کر سکتے ہیں، مگر ایران کو اس وقت تک پابندیوں میں کوئی نرمی نہیں ملے گی جب تک وہ جھوٹ بولنا اور دہشت گردی پھیلانا نہیں چھوڑ دیتا!"

اتوار (8 ستمبر) کے روز، ایران میں ریاستی ذرائع ابلاغ نے وزارتِ خارجہ کے ترجمان عباس موسوی کے اس بیان کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا تھا کہ ٹینکر مالٹا بخارا کے سمندر کے ساحلوں پر ایک گودی میں لنگرانداز ہو گیا تھا اور سامان اتار دیا تھا، انہوں نے وہ جگہ نہیں بتائی کہ کہاں سامان اتارا گیا تھا۔

مزید تفصیلات فراہم کیے بغیر انہوں نے کہا کہ آدریان داریا 1 "اپنی منزل پر پہنچ گیا ہے اور تیل فروخت کر دیا گیا ہے۔"

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا
0
نہیں
تبصرے 0
تبصرہ کی پالیسی
Captcha