https://pakistan.asia-news.com/ur/articles/cnmi_pf/features/2019/01/23/feature-02
جرم و انصاف |

پشاور ہوائی اڈے پر نئے سکینر کا مقصد منی لانڈرنگ کے خلاف جنگ میں مدد کرنا ہے

از محمد اہل

image

ایک پاکستانی ڈیلر 30 نومبر کو کراچی، صوبہ سندھ میں کرنسی تبدیل کروانے کی ایک دکان پر امریکی ڈالر گنتے ہوئے۔ [آصف حسین/اے ایف پی]

پشاور -- پاکستان کی سول ایوی ایشن اتھارٹی (سی اے اے) نے سمگلنگ اور پیسے کے غیر قانونی بہاؤ کا سراغ لگانے کے لیے باچا خان بین الاقوامی ہوائی اڈے پر پورے جسم کو سکین کرنے والا ایک سکینر نصب کیا ہے۔

سی اے اے کی جانب سے 4 جنوری کو جاری ہونے والے بیان کے مطابق، سکینر ان مسافروں کی چھانٹی کرنے کے لیے تیار کیا گیا ہے جن پر ممنوعہ اشیاء، بشمول کپڑوں کے نیچے چھپائی گئی کرنسی لے جانے کا شک ہو۔

بیان میں کہا گیا، "یہ ہوائی اڈے کے ذریعے منی لانڈرنگ کی کسی بھی کوشش کو ناکام بنانے میں مدد کرے گا۔"

image

فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) نے منی لانڈرنگ اور دہشت گردی میں سرمایہ کاری کو روکنے کی استعداد میں "تزویراتی کمیوں" کی وجہ سے ملک کے مالیاتی نظام کو بین الاقوامی مالیاتی نظام کے لیے ایک خطرہ تصور کرتے ہوئے، 27 جون کو پاکستان کو اپنی 'گرے لسٹ' میں شامل کیا تھا۔ [فائل]

image

منی لانڈرنگ اور پاکستان سے باہر پیسے کے غیر قانونی بہاؤ کو روکنے کی ایک کوشش میں، پشاور، خیبرپختونخوا میں باچا خان ہوائی اڈے پر نصب پورے جسم کو سکین کرنے والا سکینر جنوری میں دکھایا گیا ہے۔ [محمد اہل]

image

پشاور، خیبرپختونخوا میں باچا خان بین الاقوامی ہوائی اڈہ جنوری میں دکھایا گیا ہے۔ [محمد اہل]

یہ سکینر دھاتی سراغ رساں آلات سے علیحدہ ہے، جس میں سے تمام مسافروں کو گزرنا ہو گا۔

ہوائی اڈہ اورپشاور کے چوک یادگار میں کرنسی مارکیٹروایتی حوالہ اور ہنڈی کے نظام کے ذریعےمنی لانڈرنگکے سمتیہ کے طور پر چھان بین کے تحت آئے ہیں۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ سکینر "نقصان دہ نہیں ہے اور یہ جسم کی ایکسرے مشینوں سے بہت مختلف ہے جیسا کہ ماہرین کی جانب سے ایکسرے مشینوں کے استعمال کے متعلق پہلے اعتراضات اٹھائے گئے تھے۔"

غیر قانونی پیسے کی روک تھام

باچا خان بین الاقوامی ہوائی اڈے پر کیا جانے والا اقدام پاکستانی حکومت کی جانب سے ان معیارات کی تعمیل کرنے کی کوششوں کا جزو ہے جوفنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف)کی جانب سے بتائے گئے تھے، جو کہ دہشت گردی میں عالمگیر سرمایہ کاری پر نظر رکھنے والا ادارہ ہے جس نے پاکستان کو جون کے مہینے میں اپنی گرے لسٹ میں رکھا تھا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسی سکیننگ اور نگرانی منی لانڈرنگ اور پیسے کے غیر قانونی لین دین کی روک تھام میں مدد کرے گی جو ایسے افراد کی جانب سے کی جاتی ہے جو ایسے بدعنوان حکام کے ساتھ مل کر کام کرتے ہیں، جو اکثر ملی بھگت کر لیتے ہیں اور مجرموں کو محفوظ راستہ فراہم کرتے ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ مثال کے طور پر 10 دسمبر کو، کسٹمز حکام نے باچا خان بین الاقوامی ہوائی اڈے پر ایک مسافر محمد داؤد کو گرفتار کیا تھا، اور اس کے بیگ سے 200،000 یورو (31 ملین روپے) برآمد کیے تھے جو وہ دبئی، متحدہ عرب امارات، لے جانے کا ارادہ رکھتا تھا۔

انہوں نے مزید کہا کہ بعد میں کی جانے والی تفتیش میں پتہ چلا کہ وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) کے کچھ افسران نے مشکوک مسافر کی تلاشیوں سے گریز کرنے اور ہوائی جہاز تک پہنچنے میں مدد کی تھی۔

پشاور میں ایک سول سوسائٹی کی تنظیم، بلیو وینز کے سی ای او، قمر نسیم نے کہا کہ ثقافتی حساسیتیں، جیسے کہ خواتین مسافروں کے جسمانی تلاشی دینے میں تامل، کا جرائم پیشہ عناصر کی جانب سے ناجائز فائدہ اٹھایا گیا ہے جو ممنوعہ اشیاء اور پیسہ سمگل کرنے کے عزائم رکھتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ نیا نصب ہونے والا پیسے کو سکین کرنے کا آلہ خواتین سمگلروں کو استعمال کرتے ہوئے غیر قانونی طریقے سے پیسہ باہر لے جانے کی مجرموں اور دہشت گردوں کی کوششوں کو ناکام بنانے میں مدد کرے گا۔

نسیم نے کہا، "ہوائی اڈے پر نیا ڈٹیکٹر وقت بچانے میں بھی مدد کرے گا کیونکہ مسافروں کی لمبی قطاروں کی تلاشی لینے کی بجائے، مشینوں کے ذریعے مشکوک مسافروں کی سکیننگ کرنا مجرموں کی شناخت کرنے اور انہیں پکڑنے میں مدد کرے گا۔"

ایف اے ٹی ایف کی جانب سے اٹھائی گئی تشویشوں پر توجہ دینے کے لیے، وزیرِ اعظم عمران خان نے منی لانڈرنگ اور غیر قانونی مالیات سے متعلقہ امور کو سنبھالنے کے لیےمختلف وزارتوں کی ایک ٹیم قائم کرنے کا حکم دیاتھا۔ وزیرِ خزانہ اسد عمر اور وفاقی وزیر برائے داخلہ شہریار خان آفریدی ایک چھ رکنی وزراء کی کمیٹی کی سربراہی کر رہے ہیں جس میں وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی، وزیرِ دفاع پرویز خٹک، وزیرِ قانون فروغ نسیم اور وزیرِ اعظم کے مشیر برائے تجارت عبدالرزاق داؤد بھی شامل ہیں۔

حکومت کی انسدادِ منی لانڈرنگ پالیسی، جس کی نگرانی خود خان کر رہے ہیں، وہ پاکستانی فوج کے تعاون سے انجام دی جا رہی ہے یہ دکھانے کے لیے کہ ملک کےسیاسی اور عسکری قائدین معاملے کو سنبھالنے کے متعلق سنجیدہ ہیں۔

ایک سمجھدار چال

سکینرز کا حوالہ دیتے ہوئے، یونیورسٹی آف پشاور کے شعبہ امن اور تنازعہ مطالعات کے چیئرمین، ڈاکٹر حسین شہید سہروردی نے کہا، "یہ ایک سمجھداری کا فیصلہ ہے، یہ اور بہت سے دیگر اقداماتپاکستان کی [ایف اے ٹی ایف] معیارات کی تعمیل کرنے کے لیے ہیں، جو گرے لسٹ سے باہر نکلنے میں ہمارے ملک کی مدد کریں گے۔"

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا، "یہ پاکستان کی معیشت کو بڑھاوا دینے میں بھی مدد کرے گا، جو کہ غیر قانونی پیسے کے لین دین اور تبادلوں کی وجہ سے افراتفری کی شکار ہے، کیونکہ اس وقت، چوٹی کے سیاستدان مثلاً میاں محمد نواز شریف اورآصف علی زرداری اور ان کے خاندانوں کوقانونی مقدمات اور مبینہ منی لانڈرنگ پر سزاؤں کا سامنا ہے۔"

سہروردی نے کہا، "سکیننگ اچھی ہے، لیکن حوالہ اور ہنڈی کے کاروبار کے خلاف دیگر اقدامات لانڈرنگ کرنے والوں کو بے اثر کریں گے کیونکہ بہت سے جرائم پیشہ عناصر اور دہشت گرد تنظیمیں ان چینلوں کو استعمال کر رہے ہیں۔"

پشاور کے مقامی سینیئر دفاعی تجزیہ کار، بریگیڈیئر (ر) محمود شاہ نے پاکستان فارورڈ کو بتایا، "دستی بیگوں اور جیبوں میں بہت بڑی بڑی رقوم ملکی معیشت کے لیے نقصان دہ ہیں۔"

شاہ نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ پیسے کے غیر قانونی لین دین نے پاکستانی معیشت کو تباہ کیا ہے۔ "اس معاشی دہشت گردی کو روکنے کی ضرورت ہے۔"

انہوں نے کہا، "ہوائی اڈوں پر جسم کے سکینر بلاشبہ مدد کریں گے، لیکن افغانستان کے ساتھ مشترکہ سرحد رکھنے والے صوبوں -- خیبرپختونخوا اور بلوچستان دونوں -- کو مزید سخت اقدامات کی ضرورت ہے تاکہدہشت گرد تنظیموں کو پیسے کا بہاؤ روکا جائے

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا
3
نہیں
تبصرے 0
تبصرہ کی پالیسی
Captcha