https://pakistan.asia-news.com/ur/articles/cnmi_pf/features/2018/09/18/feature-01
| دہشتگردی

پاکستان کی دہشتگردی کے لیے غیر قانونی ترسیلِ زرپر نگاہ

محمّد اہِل

image

16 ستمبر کو پشاور میں حکام چوک یادگار سے ضبط شدہ غیر قانونی روپیہ کی نمائش کر رہے ہیں۔ [محمّد اہِل]

پشاور – پاکستان میں غیر قانونی ترسیلِ زر اور دہشتگردی کے لیے فراہمیٴ مالیات کی انسداد کی ایک کوشش میں زیادہ تر حوالہ یا ہنڈی کے ذریعہ کی جانے والی غیر قانونی ترسیلِ زر کے خلاف کریک ڈاؤن کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

حکام نے 15 ستمبر کو پشاور، خیبر پختونخوا (کے پی) میں 40 سے زائد منی ایکسچینجرز کو گرفتار کر لیا اور چوک یادگار کرنسی مارکیٹ کو سیل کر دیا ۔

یہ آپریشن حکومت کی جانب سے دہشتگردی کے لیے فراہمیٴ مالیات کے ایک عالمی واچ ڈاگ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف)، جس نے جون میں پاکستان کو اپنی گرے لسٹ میں ڈال دیا تھا ، کی شرائط پر پورا اترنے اور بلیک لسٹ ہونے سے بچنے کی ایک کاوش کا جزُ ہے۔

image

کے پی زون کے لیے ایف آئی اے کے ڈائریکٹر میرواعظ نیاز 16 ستمبر کو پشاور میں میڈیا سے بات کر رہے ہیں۔ [محمّد اہِل]

image

15 ستمبر کو پشاور میں حکام چوک یادگار کرنسی مارکیٹ سیل کر رہے ہیں۔ [محمّد اہِل]

وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) کے ڈائریکٹر برائے کے پی زون میرواعظ نیاز، جنہوں نے پشاور میں اس آپریشن کی قیادت کی، نے کہا، "چوک یادگار کرنسی [مارکیٹ] نہایت قدیمی ہے، جہاں کئی دہائیوں سے روپیہ کا غیر قانونی اور متوازی لین دین کیا جا رہا ہے۔"

نیاز نے پاکستان فاروروڈ سے بات کرتے ہوئے کہا، "اگر یہ غلط طریقے سے حاصل کیا گیا روپیہ ہے تو یہ بشمول دہشتگردی کے لیے فراہمیٴ مالیات اور دہشتگردی کے لیے اسلحہ کی خریداری کے، ہر غیر قانونی سرگرمی کے لیے استعمال ہوتا ہے۔"

انہوں نے کہا، "ایف آئی اے کی کاوشیں پاکستان کو ایف اے ٹی ایف گرے لسٹ سے نکالنے اور اسے بلیک لسٹ ہونے سے بچانے کے حکومتی اقدام سے موافقت رکھتی ہیں۔"

نیاز نے کہا، "ہم نے 26.8 ملین [217,000 ڈالر] سے زائد بازیاب کیے ہیں۔۔۔ پشاور کا یہ آپریشن محض آغاز ہے اور اسے ہمسایہ ڈیرہ اسماعیل خان، بنّوں اور یہاں تک کہ ہزارہ تک پھیلایا جائے گا، جہاں پوشیدہ سرگرمیوں کے لیے حوالہ کا روپیہ استعمال ہوتا ہے۔"

نیاز نے کہا، "افغان شہریوں سمیت، مقامی افراد کو گرفتار کیا گیا اور وہ پاکستان اور افغانستان کے مابین روپیہ کے غیر قانونی لین دین میں ملوث تھے۔ اس مرتبہ صرف نوٹس یا گرفتاریاں نہیں ہوں گی؛ ہم انہیں سلاخوں کے پیچھے چاہتے ہیں تاکہ اس امر کو یقینی بنایا جائے کہ اس متوازی نظامِ بنکاری کا خاتمہ کر دیا جائے۔"

نیاز نے کہا، "باقاعدہ منصوبہ بندی اور پیشگی تیاری کے ذریعے [تصدیق شدہ] گرفتار شدگان میں۔۔۔ غیر قانونی ترسیلِ زر میں ملوث قانونی اور غیر قانونی، ہر دو منی ایکسچینجرز شامل تھے۔ تیرہ ٹیموں نے آپریشن کیا، جو گرفتار شدگان کی رہنمائی کے بعد پھیل جائے گا۔"

بلیک لسٹ سے بچاؤ

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پاکستان کو ایف اے ٹی ایف کی بلیک لسٹ سے بچانے کا واحد ذریعہ پاکستانی حکام کا ملک بھر میں غیر قانونی حوالہ کے خلاف کاروائی کرنا ہے ۔

سیاسی امور پر وزیرِ اعظم عمران خان کے ایک معاونِ خصوصی نعیم الحق نے پاکستان فارورڈ سے بات کرتے ہوئے کہا، "پشاور میں غیر قانونی ہنڈی ڈیلرز کے خلاف یہ آپریشن غیر بنکاری اور غیر قانونی ذرائع سے ترسیلِ زرکی بیخ کنی کے لیے پاکستان کے عزم کا آغاز ہے۔"

انہوں نے مزید کہا، "ہمارا ہدف نہایت واضح ہے: ہم ایف اے ٹی ایف کی بلیک لسٹ پر نہیں رہنا چاہتے۔ ہمیں تبادلہٴ زر کے ایسے متوازی اور غیر قانونی میکنزم کے خلاف جانا ہو گا۔"

بنکاری کے پس منظر کے حامل اور قبل ازاں لندن میں بطور معاشی مشیر کام کرنے والے حق نے کہا، "غیر قانونی ترسیلِ زر پاکستان کو درپیش حقیقی معاشی چیلنج ہے۔ نہ صرف اس لیے کہ یہ [بدعنوان] سیاستدانوں اور دیگر کی جانب سے ٹیکس ادا کرنے والے پاکستانیوں کا پیسہ بیرونِ ملک منتقل کرنے کا ایک ذریعہ ہے، بلکہ [اس لیے بھی کہ] یہ دہشتگردی کے لیے فراہمیٴ مالیات کا ایک بڑا ذریعہ ہے، جسے جاری رہنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔"

انہوں نے کہا کہ کئی برسوں سے حوالہ میں ملوث افراد کو عمومی طور پر کاروبار جاری رکھنے کی اجازت دینے کی کوئی وجہ نہیں، انہوں نے مزید کہا کہ حکام اس آپریشن کو ملک بھر میں پھیلائیں گے کیوں کہ پاکستان کی ساکھ داؤ پر ہے۔

حق نے کہا، "اس سے نہ صرف غیر قانونی ترسیلِ زر کی بیخ کنی میں مدد ملے گی، بلکہ اس سے دیگر ممالک سے ہماری لوٹی ہوئی دولت بھی واپس آئے گی۔"

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا
10
نہیں
تبصرے 1
تبصرہ کی پالیسی
Captcha

Wo jo ghareeb logo ka paysa doubal shah ka sat ha f I a wale daubal shah urf bai jan jo kpk central jel ma qid bi koi karwaii q nahi ki karta FIA wale

جواب