https://pakistan.asia-news.com/ur/articles/cnmi_pf/features/2018/11/13/feature-02
| جرم و انصاف

جرم، تعصب پسندی سے لڑنے کے لیے کے پی پولیس کی نظریں نوجوانوں سے رابطے پر

از جاوید خان

image

کیپیٹل سٹی پولیس افسر پشاور قاضی جمیل الرحامن 10 نومبر کو ملک سعد شہید پولیس لائنز پر "پولیس نوجوان باہمی رابطہ" کے دوران طلباء و طالبات سے بات چیت کرتے ہوئے۔ [جاوید خان]

پشاور -- خیبر پختونخوا (کے پی) سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں کے کئی نمائندگان نے صوبے کے اعلیٰ پولیس افسران کے ساتھ باہمی رابطے کی ایک نشست کا انعقاد کیا جس میں انہوں نےمحکمے کی کوششوں کے متعلق جانااور انتہاپسندی، جرم اور منشیات کے خلاف لڑنے کا عزم کیا۔

نمائندگان، جن میں کے پی کے صوبائی دارالحکومت، پشاور کے مختلف تعلیمی اداروں سے تعلق رکھنے والے طلباء اور طالبات دونوں ہی شامل تھے، نے پہلی بار منعقد ہونے والی تقریب "نوجوان پولیس باہمی رابطہ" کے دوران عہد کیے۔ یہ 10 نومبر کو ملک سعد شہید پولیس لائنز پر منعقد ہوئی۔

طلباء و طالبات کے کئی گروہوں نے، مختلف کالجوں، سکولوں اور یونیورسٹیوں سے تعلق رکھنے والے اساتذہ کی قیادت میں، پانچ گھنٹے کی اس تقریب میں شرکت کی، جس میں ایک نمائش بھی شامل تھی۔

image

افسران کا ایک گروہ 10 نومبر کو پشاور میں "پولیس نوجوان باہمی رابطہ" کے دوران طلباء و طالبات سے بات چیت کرتے ہوئے۔ [جاوید خان]

طلباء و طالبات نے محکمۂ پولیس کے کئی یونٹوں کے متعلق جانا، بشمولبم ڈسپوزل یونٹشہر میں گشت کرنے والی پولیس، فوری ردِ عمل دینے والا یونٹ اور محکمے کا انفارمیشن ٹیکنالوجی یونٹ، نیز انہوں نے مختلف ہلکے اور بھاری ہتھیاروں اور مسلح اہلکاروں کو لے جانے والی گاڑیوں کے متعلق بھی جانا۔

چھوٹے چھوٹے گروہوں میں دیگر افسران کے علاوہ کیپیٹل سٹی پولیس افسر (سی سی پی او) پشاور قاضی جمیل الرحمان، سینیئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس ایس پی) آپریشنز جاوید اقبال اور ایس ایس پی انویسٹیگیشن نثار احمد خان نے طلباء و طالبات سے ملاقات کی تاکہ انہیں گزشتہ چند برسوں میں مجرموں، منشیات فروشوں اور دہشت گردوں کے خلاف پولیس کے اقدامات کے متعلق بتایا جائے۔

قاضی جمیل الرحمان نے پاکستان فارورڈ کو بتایا، "جرم، دہشت گردی، منشیات اور دیگر معاشرتی برائیوں کے خاتمے کے لیےنوجوان ایک اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔۔۔ انہیں ایسے طریقے سے مشغول کیا گیا تھا کہ نہ صرف انہوں نے ہماری کوششوں کے متعلق جانا بلکہ اس بارے میں بھی جانا کہ اپنا کردار کیسے ادا کرنا ہے۔"

انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کا ردِعمل بہت زبردست تھا۔

انہوں نے مزید کہا، "انہوں نے نہ صرف انتہاپسندی، جرم اور منشیات کے خالف اپنے مکمل تعاون کا یقین دلایا بلکہ انفارمیشن ٹیکنالوجی اور دیگر شعبوں میں پولیس کو اپنی خدمات بھی پیشکش کی۔"

معاشرے میں امن کو یقینی بنانا

قاضی جمیل الرحمان کے مطابق، تقریب کا مقصد نوجوانوں میں یہ شعور بیدار کرنا تھا کہ وہ معاشرے میں امن کو یقینی بنانے کے لیے کیسے ہاتھ بٹا سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا، "مختلف سکولوں اور کالجوں سے تعلق رکھنے والے طلباء و طالبات کو مختصراً عوام کے لیے دوستانہ پولیس، تنازعات کے حل کی کونسلوںکے ذریعے اختلافات کو حل کرنے اور [شہریوں کو] پولیس کی رہنمائی کی لائنوں اور پولیس تک رسائی کی خدمات کے ذریعے سہولت فراہم کرنے کے متعلق بتایا گیا۔"

انہوں نے بتایا، "طلباء و طالبات کو بتایا گیا کہ محکمے کے اندر کا ماحولحالیہ اصلاحاتکی وجہ سے بہت زیادہ بہتر ہو گیا ہے، جبکہ پولیس افسران کے بہتر تربیت حاصل کرنے اور جدید ترین ٹیکنالوجی اور ہتھیار حاصل کرنے کے بعد کارکردگی بہتر ہو گئی ہے۔"

ایس ایس پی آپریشنز اقبال نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ تقریب کا مقصد "نوجوانوں اور محکمے کے درمیان ارتباط کو بہتر بنانا بھی تھا کیونکہ اس سے جرائم پیشہ عناصر کی غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کی حوصلہ شکنی ہو گی۔"

انہوں نے کہا کہ نوجوانوں نے ان منشیات فروشوں جنہوں نے تعلیمی اداروں اور نوجوان نسل کو ہدف بنا رکھا ہے کا پیچھا کرنے میں پولیس کی کوششوں کے متعلق جانا۔

اقبال نے مزید کہا، "طلباء و طالبات یونیورسٹیوں، کالجوں اور ہوسٹلوں کے قرب و جوار میں منشیات فروشوں کے خلاف پولیس کی کوششوں سے خوش تھے۔"

اتفاقِ رائے کو بہتر بنانا

جناح کالج برائے خواتین کی ایک طالبہ کرن شاہ، جو تقریب میں شریک تھیں، نے پاکستان فارورڈ کو بتایا، "یہ حقیقتاً ترغیب دہ تقریب تھی جس سے ہم سمجھے کہ کیسے ۔۔۔ کے پی پولیس نے جدید ٹیکنالوجی استعمال کرتے ہوئے اور عوام الناس اور پولیس کے درمیان اتفاقِ رائے کو بہتر بناتے ہوئے جرائم کے خاتمے کے طریقوں کو بدلا ہے۔"

اقراء یونیورسٹی کے ایک طالب علم خضر حیات نے پاکستان فارورڈ کو بتایا، "تقریب بہت معلوماتی تھی اور مجھے بہت مزہ آیا۔"

پشاور سے تعلق رکھنے والی ایک اور طالبہ حلیمہ خان نے پاکستان فارورڈ کو بتایا، "ہمارے شہر کی پولیس کے متعلق بصیرت حاصل کرنا بہت اچھا تھا۔ تقریب نے اطمینان کا ایک احساس دیا ہے کہ ہمارا معاشرہ محفوظ ہاتھوں میں ہے، اور ہم باہمی رابطے کی مزید نشستوں کے منتظر رہیں گے۔"

جناح کالج برائے خواتین کی ایک استانی، نرگس اکرام نے پاکستان فارورڈ کو بتایا، "شہر میں جرائم کی شرح کو کم کرنے کے لیے نوجوانوں کو مشغول کرنے کی یہ ایک بہترین پہل کاری تھی۔"

انہوں نے کہا کہ نمائش کے دوران پولیس کی جانب سے جدید انفارمیشن ٹیکنالوجی کا استعمال متاثر کن تھا، انہوں نے مزید کہا کہ وہ پُرامید ہیں کہ ایسی مزید تقریبات نہ صرف پشاور میں بلکہ دیگر شہروں میں بھی منعقد ہوں گی۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا
1
نہیں
تبصرے 0
تبصرہ کی پالیسی
Captcha