https://pakistan.asia-news.com/ur/articles/cnmi_pf/features/2016/10/14/feature-01
جرم و انصاف |

کے پی پولیس اصلاحات نے عسکریت پسندی کو کچل دیا

محمّد شکیل

image

29 ستمبر کو پشاور پریس کلب میں ایک تقریب کے دوران میڈیا اور عوام کو عسکریت پسندی سے متعلقہ سانحات پر قابو پانے کے لیے پولیس کی کاوشوں سے متعلق بریف کیا گیا۔ [محمّد شکیل]

پشاور — حکام کا کہنا ہے کہ خیبر پختونخوا (کے پی) پولیس متعدد اصلاحات کے نفاذ کے ذریعے انسدادِ دہشتگردی اور جرائم کے خلاف جنگ کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے اپنی استعداد میں اضافہ کر رہی ہے۔

پشاور کینٹ کے سپرانٹنڈنٹ پولیس کاشف ذوالفقار نے پاکستان فارورڈ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ کے پی رسٹرکشن آف رینٹڈ بلڈنگز (سیکیورٹی) ایکٹ، ہوٹل رسٹرکشن ایکٹ اور سنسٹیو اینڈ ولنرایبل اسٹیبلشمنٹس اینڈ پلیسز ایکٹ نے کے پی پولیس انسدادِ دہشتگردی حکمتِ عملی کو ایک نئی جہت دی ہے۔

پولیس استعداد میں اضافہ

انہوں نے کہا کہ کرائے کی عمارتوں کی پابندیوں کے ایکٹ 2014 کے تحت حکام نے پشاور میں اب تک 128,000 غیر رہائشی مکینوں کے ڈیٹا کو آرکائیو کیا ہے، جو کہ جرائم اور عسکریت پسندی سے لڑنے میں ایک کلیدی عنصر ہے۔

انہوں نے کہا، ”اس کامیابی نے عسکریت پسندی پر قابو پانے اور پولیس کو اس آفت کے خلاف مزید مؤثر کاروائی کے لیے ایک حکمتِ عملی فراہم کرنے کی ان کی استعداد میں اضافہ کیا ہے۔“

یہ ڈیٹا کرائے داروں کی معلومات کے نظام (ٹی آئی ایس) کے ذریعے تالیف کیا گیا، جو کہ تمام املاک مالکان/جاگیرداروں اور 14 برس سے زائد عمر کے تمام مرد مکینوں سمیت کرائے کی عمارتوں کے کرایہ داروں سے متعلق تمام بایوگرافک معلومات اکٹھی کرتا ہے۔

علاقائی اور مقامی نمائندگان اور پولیس کی جانب سے معلومات کی تصیق کیے جانے کے بعد کرایہ دار اپنا کرایہ داری معلوماتی فارم اپنے پاس رکھتا ہے تاکہ رہائش پر چھاپہ مارے جانے کی صورت میں پولیس کو پیش کیا جا سکے۔

کاشف نے کہا، ”اب کرائے دار کا معلوماتی نظام (ٹی آئی ایس) اب نئی پولیس پالیسی کا ایک ناگزیر جزو بن چکا ہے، جس نے ہماری استعداد میں اضافہ کیا ہے اور ہم صوبے میں عسکریت پسندی اور شدت پسندی کے بڑھتے ہوئے چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لیے کام کر رہے ہیں۔“

انہوں نے کہا اس نے کے پی پولیس کو ابتدائی اطلاعاتی رپورٹ (ایف آئی آر) کی ڈجیٹائیزیشن کے تحت فوجداری ڈیٹابیس میں کرایہ داروں کو تلاش کرنے کی تکنیکی استعداد سے بھی لیس کر دیا ہے، جو کہ کسی مکین کے ڈیٹا کے کسی بھی فوجداری ریکارڈ سے میل کھانے پر حکام کو خبردار کر دیتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ڈیٹابیس رجسٹریشن مہم کا ایک کلیدی عنصر دستاویزات کی تصدیق ہے۔

کاشف نے کہا، ”دستاویزات کی تصدیق اور کرایہ دار کے کوائف کی تالیف مکینوں اور املاک مالکان، ہر دو کے لیے سدِ راہ ہو گا کہ ان کی [حوصلہ افزئی ہو] کہ وہ قانون پر عمل پیرا رہیں اور کسی بھی قابلِ اعتراض اور غیرقانونی سرگرمی سے احتراز کریں۔“

انہوں نے کہا، ”ٹی آئی ایس کے تحت ہونے والے پولیس چھاپوں کے نتیجے میں اکثر ملزمان کی گرفتاریاں ہوئی ہیں اور ان کی تحقیقات میں ان کے دائرۂ رسوخ اور سرگرمیوں کی وسعت کا انکشاف ہوا۔ کسی مقام پر گرفتاریوں کی کثافت سے ہمیں زیادہ زد پزیر علاقوں کی نشاندہی میں مدد ملتی ہے۔“

پولیس اصلاحات کی مزید کاوشوں میں پولیس نے تحقیقات، انٹیلی جنس، تدابیر، دھماکہ خیز مواد سے نمٹنے، انتشار اور فسادات کا انتظام و انصرام اور انفارمیشن ٹیکنالوجی سمیت جدید پولیسنگ تکنیکوں سے متعلق افسران کو تربیت دینے کے لیے چھ خصوصی سکول کھولے ہیں۔

کے پی انسپکٹر جنرل پولیس نے کہا ہے کہ یہ سکول کے پی پولیس کے اس منصوبہ کا جزُ ہیں جو اس نے عسکریت پسندی کے خاتمہ اور فورس کی پیشہ ورانہ استعداد کو بہتر بنانے کے لیے مرتب کیا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ ان کوششوں کا مقصد عسکریت کے بعد کے دور میں کے پی میں قانون کی عملداری، پولیس اصلاحات اور امن کو مستحکم کرنا ہے۔

عسکریت پسندی میں 'بے پناہ' کمی

پشاورکے علاقہ نوتھیا سے یونین کاؤنسل کے ایک رکن صفدر باغی نے کہا، ”پولیس اصلاحات کے نفاذ کے بعد سے صوبائی صدرمقام میں عسکریت پسندی کے واقعات میں 60-70 فیصد تک کمی آئی ہے۔“

انہوں نے پاکستان فارورڈ سے بات کرتے ہوئے کہا، ”نئی [اصلاح شدہ] پالیسی کے مطابق، پولیس کی جانب سے کیے گئے اقدامات نے بے مثال جرأت اور استقامت سے عسکریت پسندی کے حملہ کا مقابلہ کرنے والے صوبہ کے پی میں ڈرامائی اثرات پیدا کیے ہیں۔“

انہوں نے کہا کہ دونوں فریقین کے ڈیٹا کی تصدیق کے بعد پولیس کی جانب سے جاری کیے گئے کمپیوٹرائزڈ بیع نامہ کے ذریعے عسکریت پسندی اور دہشتگردی کے خاتمہ کے لیے پولیس کی کوششیں مزید تیز ہو سکتی ہیں۔

انہوں نے وضاحت کی کہ مقامی حکومتوں کے حالیہ نظام میں ہر یونین اور علاقائی کاؤنسل سند پیدائش اور دیگر شناختی دستاویزات کا مکمل کمپیوٹرائزڈ ریکارڈ رکھتی ہے۔

انہوں نے کہا، ”ریکارڈز اور مقامی حکومتی اکائیوں کے رہائشی ڈیٹا کو استعمال کرتے ہوئے کسی اجنبی یا مشتبہ شخص کی تصدیق کی جا سکتی ہے۔“

پولیس کو دستیاب کرایہ داری کے ڈیجیٹائزڈ معاہدوں کے ذریعے ”کرایہ دار کے کسی نئی جگہ پر منتقل ہونے کی صورت میں۔۔۔ اس کے ڈیٹا کا سراغ لگایا جا سکتا ہے اور اس کی تصدیق کی جا سکتی ہے۔“

انتہاپسندی سے جنگ کے لئے شہری ذمہ داری

باغی نے بتایا، دہشت گردی کے انسداد کے لئے پولیس کے اقدامات نے عام عوام کو بھی متحرک کیا ہے جو اپنی شہری ذمہ داریوں اور امن قائم کرنے اور عسکریت پسندی کے خاتمے میں اپنے کردار کا احساس کر رہے ہیں۔

انہوں نے بتایا، "ٹی آئی ایس نے ہر مالک مکان کو کرایہ دار کے ساتھ ایک معاہدہ کرنے اور مکمل کوائف پولیس کو مہیا کرنے کا پابند بھی کیا ہے، اس طرح دونوں جوانب کی شمولیت سے گڑبڑ کے امکانات محدود ہوگئے ہیں۔"

نائب سٹی ناظم سید قاسم علی شاہ نے بتایا مالک مکان کو ٹی آئی ایس کے ذریعے پابند کرنے، پولیس کو اطلاع دینے کی پابندی اور انھیں فارم کی ایک نقل مہیا کرنے سے انسداد دہشت گردی کے اقدامات موثر ہونے میں اضافہ ہوا ہے۔

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا، "عسکریت پسندی کے واقعات میں یقیناً کمی ہوگی جب مالک مکان اپنے کرایہ دار کی کسی بھی مشتبہ سرگرمی کی اطلاع حکام کو دے گا بصورت دیگر مالک مکان کے لئے رہائشیوں کے موجب سزا ہونے سے خود کو الگ کرنا ناممکن ہوگا۔"

انہوں نے مزید بتایا، عسکریت پسندی اور انتہاپسندی کے خلاف جنگ میں کامیابی کے لئے پولیس کو شہریوں کی مکمل شراکت اور تعاون درکار ہے۔

انہوں نے بتایا، "اس بارے میں عوام کو ان کی ذمہ داریوں سے آگاہی مہیا کرنا انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔"

انہوں نے بتایا، عسکریت پسندی کی کارروائیاں کسی اکیلے شخص کی کارروائی نہیں بلکہ ساتھیوں کا نیٹ ورک تشکیل دے کر محتاط منصوبہ بندی کا نتیجہ ہوتی ہیں۔

انہوں نے بتایا، "معلومات اکٹھا کرنے اور اطلاعات کو مربوط کرنے کا نیا نظام عسکریت پسندی کے چیلنج کو انتہا پسندوں کے مل بیٹھنے اور سازشیں کرنے کے امکانات کو کم کرنے میں مددگار ہوگا۔"

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا
2
نہیں
تبصرے 2
تبصرہ کی پالیسی
Captcha

کیا رشتے داروں کو بھی مکان کرایہ پر دینے پر پولیس کو اطلاع لازمی ھے

جواب

یہ اصلاحات ضرورتِ وقت ہیں۔ عوامی آگاہی تبدیلی کا پہلا قدم ہے۔ کے پی پولیس، خدا آپ کو کامیاب کرے۔

جواب