https://pakistan.asia-news.com/ur/articles/cnmi_pf/features/2017/06/27/feature-01
رمضان |

خطاطی کی پاکستانی نمائش فن، امن اور ہم آہنگی کو فروغ دے رہی ہے

جاوید محمود

image

نمائش میں پیش کیا جانے والا ایک کام 19 جون کو دکھایا گیا ہے۔ ]جاوید محمود[

image

نمائش میں پیش کیا جانے والا ایک کام 19 جون کو دکھایا گیا ہے۔ ]جاوید محمود[

image

نمائش میں پیش کیا جانے والا ایک کام 19 جون کو دکھایا گیا ہے۔ ]جاوید محمود[

image

نمائش میں پیش کیا جانے والا ایک کام 19 جون کو دکھایا گیا ہے۔ ]جاوید محمود[

image

فن کے کچھ قددان 19 جون کو نمائش میں پیش کی جانے والی ایک پینٹنگ پر توجہ دے ہوئے۔ ]جاوید محمود[

کراچی - کراچی میں جاری خطاطی کی ایک نمائش فن، امن اور ہم آہنگی کو 30 جون تک فروغ دے رہی ہے۔

مجموعہ آرٹ گیلری کے سی ای او اور پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کی کمیٹی برائے فن و ورثہ کی سربراہ مہرین الٰہی نے کہا کہ "رمضان کا جشن 2017" کا آغاز 19 جون کو "فن کے عاشقوں کے لیے رمضان کے بابرکت مہینے میں ایک نعمت کے طور پر ہوا اور اس کا مقصد عقیدے، ہم آہنگی اور امن کو فروغ دینا ہے"۔

ایف پی سی سی آئی کمیٹی اور مجموعہ آرٹ گیلری نے اس نمائش کا اہتمام کراچی میٹروپولیٹن کوآپریشن کے تعاون سے کیا تھا۔

image

نمائش میں پیش کیا جانے والا ایک کام 19 جون کو دکھایا گیا ہے۔ ]جاوید محمود[

الٰہی نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ "ہم نے لاہور اور کراچی کے تقریبا 40 خطاطوں کے حیرت انگیز فن پاروں کی نمائش کی ہے"۔ انہوں نے مزید بتایا کہ خطاطی کے تقریبا 100 نمونے نمائش کے لیے پیش کیے گئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ زیادہ تر کام روایتی نستعلیق اور کوفی خط میں ہے اور اس کے علاوہ کچھ تجریدی کام بھی نمائش کے لیے پیش کیا گیا ہے۔

اس میں شرکت کرنے والے خطاطوں میں طارق تونکی، عاطف علی، یاسر، وامق، مریم، روحین اے ملک، اکبر، عائشہ بیلا ملک، میاں آصف، عائشہ کمال اور دیگر شامل ہیں۔

200 سے زیادہ عاشق کھنچے آئے

مہرین نے اس نمائش کا افتتاح کیا اور افتتاح کے دن 200 سے زیادہ مہمانوں کو خوش آمدید کہا۔

انہوں نے کہا کہ "صادقین ہال عاشقوں سے بھرا ہوا تھا اور متاثرکن فن پاروں نے اس تقریب کے ماحول کو مزید خوبصورت بنا دیا تھا"۔

کراچی کے آرٹ اسٹوڈیو آمناز کریشن کی سی ای او آمنہ علی نے کہا کہ خطاطی مسلمان فنکاروں کے لیے بہت بڑا سرمایہ ہے اور اسے پاکستان اور دوسرے ممالک میں فروغ دیا جانا چاہیے۔

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ "خطاطی کو امن، محبت اور ہم آہنگی کی وکالت کرنے کے لیے فروغ دیا جانا چاہیے"۔

ایف پی سی سی آئی، ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان اور کراچی میٹروپولیٹن کوآپریشن کے ارکان کے ساتھ ساتھ سماجی سرگرم کارکنوں، کاروباری خواتین، طلباء اور فن کے دوسرے عاشقوں نے بھی نمائش کے افتتاحی سیشن میں شرکت کی۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا
0
تبصرے 1
تبصرہ کی پالیسی

ایسی نمائش دیکھ کر بہت اچھا لگتا ہے اور فنکاروں کا کام اور ہنر دکھانے کے لیے انہیں اکثر منعقد کیا جانا چاہیئے۔ جاری رکھیں!

جواب