صحت

کووڈ-19 کی جائے پیدائش، وُوہان میں اب زندگی ایک جشن ہے

پاکستان فارورڈ اور اے ایف پی

image

15 اگست کو لی گئی اس تصویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ تماشائی وُوہان چین میں ایک سوئمنگ پول میں خود کو ٹھنڈا کرتے ہوئے فن کا ایک مظاہرہ دیکھ رہے ہیں۔

وُوہان، چین – جبکہ دیگر دنیا کووڈ-19 سے ہونے والی اموات کی ان گنت تعداد سے بنرد آزما ہے، تباہ کن کرونا وائرس کی جائے پیدائش، وُوہان، چین کے مقامی لوگ ایسا جشن منا رہے ہیں کہ جیسا کبھی نہ منایا۔

اختتامِ ہفتہ پر وُوہان میں، معروف مایا ساحلِ سمندر کا واٹرپارک ایسے ہزاروں افراد سے اٹا پڑا تھا، جو ایک الیکٹرانک میوزک فیسٹیول میں تیراکی کے لباس اور چشمے پہنے جوق درجوق آ رہے تھے، متعدد ربڑ کی چھوٹی کشتیوں پر چھتریاں لگائے آرام کر رہے تھے یا چھاتی تک پانی میں چل رہے تھے۔

76 روزہ لاک ڈاؤن کے بعد، وُوہان کے بتدریج کھلنے پر یہ واٹر پارک جون میں دوبارہ کھولا گیا، اور اب معلوم ہوتا ہے کہ زندگی واپس معمول پر آ گئی ہے۔

پانی کے سامنے سٹیج سے ایک فنکار مجمع کو ہاتھ ہلا رہا ہے اور ایک دوسرے کے قریب کھڑے مجمع کے افراد واپس ہاتھ لہرا رہے ہیں، بعضے اپنی گردنوں کے گرد پلاسٹک کے تھیلوں میں لپٹے فون سے تصاویر بنا رہے ہیں۔

image

15 اگست کو وُوہان، چین میں ہزاروں تماشائیوں نے فن کے ایک مظاہرے میں شرکت کی۔ [ایس ٹی آر / اے ایف پی]

image

15 اگست کو وُوہان میں ہزاروں افراد ایک سوئمنگ پول پر فن کا ایک مظاہرہ دیکھ رہے ہیں۔ [ایس ٹی آر / اے ایف پی]

واٹر جیٹ بورڈ پر ایک اور فنکار، جس کی کمر سے چنگاریاں نکل رہی ہیں، اپنے تماشائیوں کے اوپر منڈلا کر انہیں محظوظ کر رہا ہے۔

مجمع میں سے بعض نے زندگی بچانے والی جیکٹس پہن رکھی تھیں، تاہم جب شوخ زرد ہیڈ فون لگائے ڈی جے سٹیج پر گانے بجا رہا تھا تو ایک دوسرے کے نہایت قریب کھڑے جشن منانے والوں میں سے کسی نے فیس ماسک نہیں پہنا تھا۔

لاکھوں افراد کو ہلاک اور معیشتوں کو اپاہج کر دینے والے اس وائرس کے دنیا بھر میں پھیلنے سے قبل گزشتہ برس 11 ملین کی آبادی کے شہر وُوہان میں کووڈ-19 کا پہلا معلوم واقعہ منطرِ عام پر آیا۔

دنیا عالمِ حیرت میں

بے پرواہی سے جشن کے یہ مناظر ممکنہ طور پر دنیا بھر میں ان لوگوں کے لیے ناقابلِ یقین ہوں گے جو وُوہان سے شروع ہونے والی بے مثال وبا کی وجہ سے شدید متاثر ہو رہے ہیں۔

پیر (17 اگست) تک کووڈ-19 21 ملین سے زائد افراد کو متاثر اور 770,000 کو ہلاک کرتے ہوئے دنیا کے ہر ملک پر ایکناقابلِ پیمائش سیاسی، معاشی، معاشرتی اور صحت سے متعلقہ نقصانات کی تعداد کا باعث بن چکا ہے اور تاحدِ نظر اس کا خاتمہ کہیں معلوم نہیں۔

دنیا بھر میں مشاہدین بھی یہ دیکھ کر خوش نہیں ہوں گے کہ بیجنگ خود کو اس وبا کے عالمی ہیرو کے طور پر پیش کرنے کی فعال کوششیں کر رہا ہے۔

چین کی غلط معلومات کی مہم کی حالیہ ترین مثال میں چین کے قومی عجائب گھر نے ایسی تصاویر، نقّاشی اور خطاطی کی آئینہ دار، ایک نئی نمائش، "اتحادِ قوت" کا آغاز کیا، جو حکومت کے مطابق، اس بحران کو ردِّ عمل دینے میں اس کی کامیابی ہیں۔

تاہم "دانشمندانہ افعال" کا بیجنگ کا بیانیہ وبا میں اس کے حقیقی کردار سے متصادم ہے۔

2020 کے اوائل میں چینی حکام نے یہ جانتے ہوئے بھیتقریباً ایک ہفتے تک خاموشی اختیار کیکہ ایک مہلک وبا آنے کو ہے، جس کی وجہ سے اس وائرس نے وُوہان میں قدم جمائے اور پوری دنیا میں پھیل گیا، جبکہ انہوں نےاسوبا کے پھوٹنے کے شواہد کو عمداً دبا دیا یا ختم کر دیا۔

اس بحران کے آغاز سے اب تکبیجنگ نظریاتِ سازش کو فروغ دے کر کروناوائرس وبا میں اپنے کردار پر تنقید کا رخ موڑنے کے لیے فعالیت کے ساتھ کوششیں کر رہا ہے، اوراس وائرس کے بارے میں ہیجان انگیز غلط معلومات سے خبروں اور سوشل میڈیا کو بھرتے ہوئےپکڑا گیا ہے۔

درایں اثناءچینی کمپنیاں منافع حاصل کرنے کے لیے اس وبا سے فائدہ اٹھا رہی ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق، مارچ اور مئی کے درمیان چین نے 150 بلین فیس ماسک برآمد کیے – جو کہ گزشتہ برس کے مقابلہ میں ایک دس گنا اضافہ ہے۔

اس کاوش کے جزُ کے طور پر چینی حکام ژنجیانگ خطے میں مسلمان اقلیت کو ذاتی تحفظ کے ایسے آلات (پی پی ای) تیار کرنے کے لیے فیکٹریوں میں کام کرنے پر مجبور کر رہے ہیں،جن میں سے زیادہ تر غیر معیاری اور غیر مؤثر ثابت ہوئے ہیں۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا

تبصرے 0

تبصرہ کی پالیسی * لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے 1500 / 1500