سلامتی

بلوچستان میں داعش-کے کے فوجی کیمپ پر حملے سے ایک بار پھر توجہ سرحد پر مرکوز

از عبدالغنی کاکڑ

image

پاکستانی فرنٹیئر کور کے سپاہی گزشتہ 16 ستمبر کو صوبہ بلوچستان کے قلعہ سیف اللہ میں سرحد پار کرنے کے ایک مقام کی حفاظت کرتے ہوئے۔ پاکستانی افواج نے 30 اگست کو بلوچستان کے ضلع مستونگ میں 'دولت اسلامیہ عراق و شام' کی خراسان شاخ (داعش-کے) کے 11 ارکان کو ہلاک کیا تھا۔ [بنارس خان/اے ایف پی]

کوئٹہ -- بلوچستان کے ضلع مستونگ میں سیکورٹی فورسز نے اس ہفتے کے شروع میں قمر مزار آباد کے علاقے میں عسکریت پسندوں کے ایک بڑے کیمپ پر چھاپہ مارا، جس میں "دولتِ اسلامیہ عراق و شام" کی خراسان شاخ (داعش-کے) کے کم از کم 11 مشتبہ افراد ہلاک ہوئے۔

بلوچستان کے شعبۂ انسدادِ دہشت گردی (سی ٹی ڈی) نے کہا کہ پیر (30 اگست) کو چھاپے میں گرفتار کیے گئے داعش-کے کے سرغنہ عبدالحئی کے کیمپ کو نشانہ بنایا گیا۔

سی ٹی ڈی کے ایک ترجمان نے کہا کہ کارروائی کے دوران عسکریت پسندوں نے سی ٹی ڈی یونٹ پر فائرنگ کی جس سے وہ جوابی کارروائی کرنے پر مجبور ہو گیا۔ کم از کم 11 عسکریت پسند مارے گئے۔

کوئٹہ کے مقامی ایک سینیئر دفاعی اہلکار، احسن جاوید نے پاکستان فارورڈ کو بتایا، "یہ مخبری کی بنیاد پر کی جانے والی ایک کارروائی تھی، اور ہلاک ہونے والے عسکریت پسندوں میں داعش-کے کے اہم قائدین بھی شامل ہیں جو پاکستان کے مختلف حصوں میں اس گروپ کی قیادت کر رہے تھے۔"

انہوں نے کہا کہ ہلاک کردہ عسکریت پسند دہشت گردی کے کئی بڑے واقعات میں ملوث تھے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ کارروائی عبدالحئی کے اعترافات کی بنیاد پر کی گئی تھا، "جو کہ مستونگ اور بلوچستان کے دیگر شورش زدہ علاقوں میں گروپ کی قیادت کر رہا تھا"۔

جاوید نے کہا کہ کیمپ سے بڑی تعداد میں اسلحہ، گولہ بارود اور دھماکہ خیز جیکٹیں برآمد کی گئی ہیں، ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ جگہ مستقبل میں داعش کی کارروائیوں کے لیے لانچ پیڈ کے طور پر کام کرتی۔

داعش-کے سرحدی علاقوں میں قدم جمانا چاہتی ہے

داعش کا عملی کارروائیاں کرنے والا شعبہ بلوچستان اور ملک کے دیگر سرحدی علاقوں میں دوبارہ قدم جمانے کی سرتوڑ کوشش کر رہا ہے۔

اسلام آباد کے مقامی ایک سینیئر خفیہ عہدیدار نے شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا، "ہمارے پاس اطلاعات ہیں کہ عسکریت پسند گروہ اپنے نیٹ ورک کو عسکریت پسندوں کی بھرتی کے ذریعے مضبوط کر رہا ہے۔"

ان کا کہنا تھا، "تحقیقات میں تصدیق ہوئی ہے کہ فرقہ وارانہ کارروائیوں میں ملوث کچھ عناصر ۔۔۔ اپنے علاقوں میں داعش کو خفیہ مدد فراہم کر رہے ہیں۔"

انہوں نے کہا کہ 3 جنوری کو داعش نے بلوچستان کے ضلع مچھ کے کوئلے کی کان کنی کے علاقے میں ہزارہ مزدوروں پر ایک منظم حملہ کیا۔

کوئلے کے کم از کم 11 کان کن، جن کی شناخت شیعہ ہزارہ برادری کے افراد کے طور پر ہوئی تھی، اس وقت مارے گئے جب داعش-کے کے عسکریت پسندوں نے قریب سے ان پر فائرنگ کی۔

اسلام آباد کے عہدیدار نے بتایا کہ سکیورٹی فورسز داعش کے خلاف ملک بھر میں بڑے پیمانے پر مخصوص کارروائیاں کر رہی ہیں۔ "[ہم] نے داعش کے شدت پسندوں کے کئی کیمپوں کو تباہ کر دیا اور گروہ کے کئی اہم اہلکاروں کو ہلاک کر دیا ہے۔"

انہوں نے کہا کہ سیکورٹی فورسز شدت پسندوں کو اپنے عزائم پورے کرنے کے لیے پاکستان میں دوبارہ قدم جمانے سے روکنے کی کوشش کر رہی ہیں، جو کہ 15 اگست کو طالبان کے افغانستان پر قبضے کی طرف ایک اشارہ تھا۔

اسلام آباد کے مقامی ایک سینیئر دفاعی تجزیہ کار میجر (ر) محمد عمر نے کہا، "افغانستان میں داعش کی قیادت خطے میں محفوظ پناہ گاہیں تلاش کرنے کے لیے سخت محنت کر رہی ہے اور پاکستان مستقبل میں اس کی حکمت عملی کا مرکز بن سکتا ہے۔"

انہوں نے کہا ، "داعش پاکستان کے پُرسکون حصوں اور خاص طور پر ان [فرقہ وارانہ] فالٹ لائنوں میں انارکی اور فرقہ وارانہ فسادات کو ہوا دینے کی کوشش کر رہی ہے جہاں یہ گروہ سنی اور شیعہ کے درمیان عدم استحکام کی فضاء پیدا کر سکتا ہے۔"

ٹی ٹی پی کے بیشتر سابق ارکان داعش-کے میں

انہوں نے کہا کہ "داعش کے خراسان دھڑے میں ان عسکریت پسندوں کی بڑی تعداد ہے جو پہلے کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کا حصہ رہے ہیں۔ ان انتہاء پسندوں کا مقامی انتہاء پسندوں کے ساتھ قریبی تعلق رہا ہے" جو ان شورش زدہ علاقوں میں ہیں۔

عمر کا کہنا تھا کہ اگر پاکستان مستقبل میں داعش کے ممکنہ اثر و رسوخ کو ختم کرنا چاہتا ہے تو اسے پاکستانی طالبان کے خلاف سخت حکمتِ عملی کے ساتھ آگے بڑھنا ہو گا۔

انہوں نے کہا، "ہماری [فرقہ وارانہ] فالٹ لائنوں پر داعش کا اثر و رسوخ اس وقت تک جاری رہے گا جب تک پاکستانی طالبان کا خاتمہ نہیں ہو جاتا۔"

انہوں نے کہا کہ پاکستانی افواج کو داعش کے معاون حلقے کو نشانہ بنانے کی ضرورت ہے، ان کا مزید کہنا تھا کہ "وہ عناصر جو داعش کو مالی اور انتظامی معاونت فراہم کر رہے ہیں ان سے مؤثر طریقے سے نمٹا جانا چاہیئے"۔

کوئٹہ کے مقامی علاقائی سلامتی کے تجزیہ کار محمد ندیم نے کہا، "بلوچستان میں، داعش کے مقامی عسکریت پسند گروہوں بشمول کالعدم لشکر جھنگوی العالمی اور جیش الاسلام کے ساتھ مضبوط روابط ہیں۔"

انہوں نے کہا، "داعش کے خلاف مستونگ میں ہونے والی حالیہ کارروائی اس عسکری گروپ کے عملی سیٹ اپ کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے۔"

ندیم نے کہا ، "داعش خطے کی مجموعی سلامتی کے لیے ایک بڑا خطرہ ہے، اس لیے تمام پڑوسی ممالک پر لازم ہے کہ مل کر اس خطرے کو ٹالنے کے لیے حکمت عملی تیار کریں۔"

"اگر پاک افغان اور پاک ایران سرحدی علاقوں میں امن و امان کی صورتحال مزید بہتر نہ ہوئی تو آنے والے دنوں میں یہاں انتہاء پسندی کی کبھی نہ ختم ہونے والی لہر اُبھر سکتی ہے۔"

ندیم کا کہنا تھا کہ ایک بار جب طالبان افغانستان میں اپنی حکومت بنا لیتے ہیں تو وہاں غیر یقینی صورتحال غالب آ سکتی ہے۔

انہوں نے کہا، "داعش-کے کا بنیادی ایجنڈا فرقہ وارانہ فسادات کے ذریعے مذہبی منافرت کو بھڑکانا ہے،" انہوں نے یاد دلایا کہ پاکستان میں داعش-کے کا بڑھتا ہوا اثرورسوخ صورتحال کو مزید خراب کر سکتا ہے کیونکہ یہ نظریاتی طور پر اپنی ذہنیت والوں کو اپنی طرف راغب کرتی ہے۔

ندیم نے کہا، "یہ عناصر پاکستان کی انسدادِ دہشت گردی کی کوششوں کے لیے ایک بڑا چیلنج ہیں۔"

انہوں نے مزید کہا، "پاکستان میں داخلی سلامتی کے مسائل پر دوبارہ نظر ڈالنے کی ضرورت ہے، اور پائیدار امن کے لیے نیشنل ایکشن پلان [این اے پی] کا نفاذ بہت ضروری ہے۔"

The نیشنل ایکشن پلان ایک انسدادِ دہشت گردی پالیسی ہےجو جنوری 2015 میں مؤثر ہوئی تھی۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا

تبصرے 0

تبصرہ کی پالیسی * لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے 1500 / 1500