سلامتی

امریکی فوج نے افغانستان سے چلے جانے کے بعد القاعدہ اور داعش پر دباؤ ڈالنے کا عہد کیا ہے

پاکستان فارورڈ

image

داعش کے عسکریت پسندوں کے ایک گروہ کی افغانستان کے نامعلوم مقام پر لی گئی تصویر۔ [فائل]

کابل -- مشرقِ وسطی میں اعلی امریکی کمانڈر نے گزشتہ ہفتے کہا کہ امریکی فوج، دہشت گرد گروہوں جیسے کہ القاعدہ اور دولتِ اسلامیہ (داعش) کو افغانستان اور شام میں دوبارہ سے صف بندی کی اجازت نہیں دے گی۔

امریکہ اور نیٹو کی فورسز کی طرف سے 11 ستمبر تک تمام فوجیوں کو افغانستان سے واپس بلُا لینے کے ساتھ، امریکی فوج ملک کے باہر سے داعش اور القاعدہ پر دباؤ ڈالنا جاری رکھے گی۔ یہ بات امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کے کمانڈر جنرل فرینک مکینزی نے جمعہ (11 جون) کو ملٹری ٹائمز کو بتائی۔

انہوں نے کہا کہ "اگر انہیں آزاد چھوڑ دیا گیا ۔۔۔ تو وہ یقینی طور پر اپنے آپ کو دوبارہ سے تعمیر اور مضبوط کر لیں گے"۔

مکینزی نے کہا کہ "اس وقت ہم واپس چلے جانے کے بعد جس چیز کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں وہ القاعدہ اور داعش پر دباؤ برقرار رکھنا ہے

image

سینٹکام کمانڈر جنرل فرینک میکنزی 22 اپریل کو واشنگٹن ڈی سی میں پینٹاگون میں خطاب کرتے ہوئے۔ (سینٹکام)

"ہمیں انتہائی یقین سے اس بات کا علم ہے کہ القاعدہ اور داعش --- دونوں ہی امریکہ پر حملہ کرنے کی خواہش رکھتے ہیں"۔

"افغانستان اور شام دونوں سے ہی ان حملوں کی پیش رفت کو، جس چیز نے گزشتہ کئی سالوں سے روکے رکھا ہے، وہ دباؤ ہے جو ان دونوں گروہوں پر ڈالا گیا ہے"۔

انہوں نے کہا کہ شامی جمہوری افواج (ایس ڈی ایف) اور افغان نیشنل ڈیفینس اینڈ سیکورٹی فورسز (اے این ڈی ایس ایف) اس دباؤ کو قائم رکھنے کے لیے کام کر رہی ہیں۔

اگر --- اور صرف اگر ایسا ہوا --- کہ یہ گروہ "امریکہ کے خلاف قابلِ عمل خطرہ" بنے تو امریکی فوج "اندر جانے" اور "عملی قدم اٹھانے" کے لیے تیار ہے اگر اے این ڈی ایس ایف اکیلے ایسا کرنے کے قابل نہ ہوئیں۔

انہوں نے کہا کہ "یہ افغانستان میں ہمارے متحرک اقدامات کی حد ہو گی"۔

اُفق کے پار

مکینزی نے کہا کہ اگرچہ امریکی فوج افغانستان میں زمین پر موجود نہیں ہو گی مگر وہ "افق کے پار سے افغان فوج کی مدد" کرنا جاری رکھے گی۔

انہوں نے کہا کہ "ہم انہیں مالی طور پر امداد فراہم کرنا جاری رکھیں گے۔ ہم افغان فضائیہ کو افق کے پار سے مدد فراہم کرنے کی بھرپور کوشش کریں گے"۔

انہوں نے کہا کہ "افغان شہریوں کو جو بہت بڑا فائدہ میسر ہے وہ ان کی فضائیہ ہے۔ جو گزشتہ کئی مہینوں سے ان کے لیے بہت سا اچھا کام کر رہی ہے"۔

مکینزی نے کہا کہ امریکی افوج "دور سے مشاورت" کے ذریعے اے این ڈی ایس ایف کی مدد جاری رکھیں گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ علاقے میں دوسری جگہوں پر افغان فوجیوں کو تربیت دینا اور اس کے ساتھ ہی افغان جہازوں کو ملک کے باہر مرمت کے لیے لے کر جانا "زیرِ غور" ہیں۔

مکینزی نے کہا کہ حتمی طور پر، یہ اے این ڈی ایس ایف پر ہے کہ وہ طالبان کی شورش اور دہشت گردی کے دیگر خطرات سے، ملک کا دفاع کیسے کرتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ "اب یہ ان کے کندھوں پر ہے کہ وہ کھڑے ہوتے ہیں یا گرتے ہیں اور میرے خیال میں ان کے پاس مقابلہ کرنے کی صلاحیت موجود ہے"۔

انہوں نے کہا کہ اے این ڈی ایس ایف کا آنے والے وقت میں "امتحان ہونے والا ہے" مگر وہ اس چیلنج کے لیے تیار ہیں۔

مکینزی نے کہا کہ "گزشتہ تقریبا ایک سال سے اور کرونا وائرس سے پہلے ہی، افغانستان میں ہماری تعداد ماضی کی تعداد کے مقابلے میں قابلِ قدر حد تک کم تھی"۔

"اس لیے، افغان لڑائی کا زیادہ تر کام، ہمارے وہاں پر ان کے ساتھ موجود ہونے کے بغیر، خود انجام دے رہے تھے۔ اس لیے اس سلسلے میں کوئی زیادہ تبدیلی نہیں آئے گی"۔

انہوں نے مزید کہا کہ "ہم ان کی حمایت کرنا جاری رکھیں گے صرف وہ اس طریقے سے نہیں ہو گا جیسا کہ ہم اس وقت کر رہے ہیں"۔

امریکہ کے ڈیفینس سیکریٹری لائیڈ آسٹن نے بھی امریکی کانگرس کی کمیٹی کو گزشتہ ہفتے بتایا کہ امریکی مسلح افواج نے پہلے ہی، افغانستان میں نگرانی کی مہمات کو ملک کے باہر سے یا فوجی زبان میں "افق کے پار" سے انجام دینا شروع کر دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ "ہمارے بہت سے جنگی جہاز یا ہماری مہمات خلیج میں موجود پلیٹ فارم استعمال کر رہی ہیں۔ اس لیے ہمارے پاس اہلیت موجود ہے"۔

انہوں نے کہا کہ "ہمیں جس چیز کی تلاش ہے وہ آنے والے وقتوں میں، کچھ صلاحیتوں کو ہمسایہ ممالک میں تعینات کرنے سے، فاصلے کو کم کرنا ہے۔ اس پر ابھی کام جاری ہے"۔

مستقبل کے خطرات

مکینزی نے کہا کہ چین اور روس افغانستان میں اپنی کوششوں میں اضافہ کر رہے ہیں اور نیٹو کے واپس چلے جانے کے بعد، وہ اسے پُر کرنے کے طریقے تلاش کر ہے ہیں جسے وہ ملک میں حکومتی خلاء سمجھ رہے ہیں۔

مگر دونوں حکوتیں افغانستان کو اپنے جفرافیائی -سیاسی مفادات کی نظر سے دیکھ رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بیجنگ ملک کے وسیع معدنیاتی ذخیروں تک رسائی حاصل کرنے کے لیے افغانستان میں قدم جمانا چاہتا ہے۔ جبکہ کریملین کو وسطی ایشیا کے راستے دہشت گردی کے شمال میں پھیل جانے پر تشویش ہے۔

مکینزی نے کہا کہ "ان میں سے کوئی بھی ہماری مدد نہیں کر رہا تھا جب ہم افغانستان میں موجود تھے اور اگر ہم چلے گئے تو میرے خیال میں وہ اسے پُر کرنے کے لیے آگے بڑھیں گے جسے وہ ایک خلا سمجھ رہے ہیں"۔

"تاہم اسے حقیقت میں حاصل کرنا اس سے زیادہ مشکل ہو گا جتنا وہ سمجھ رہے ہیں"۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا

تبصرے 0

تبصرہ کی پالیسی * لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے 1500 / 1500