تجزیہ

ایران کی ہٹ دھرمی مشرقِ وسطیٰ میں اسرائیل کے بڑھتے ہوئے رسوخ کا باعث

سلطان الباری

image

19 مارچ، 2021 کو دبئی میں متحدہ عرب امارات کے خلاف ایک دوستانہ میچ سے قبل اسرائیل کی رگبی ٹیم مشق کر رہی ہے۔ [کریم شہاب/اے ایف پی]

ریاض – تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ 2015 کے جوہری معاہدے پر واپس لوٹنے کے لیے بات چیت کرنے میں تہران کی ہٹ دھرمی اور تمام تر مشرقِ وسطیٰ اور اس سے بھی آگے ضمنی ملشیا کے لیے اس کی جاری حمایت سے عالمی سطح پر ایران کی تنہائی میں اضافہ ہی ہوا ہے۔

یورپی یونیئن نے جائنٹ کمپریہنسیو پلان آف ایکشن (جے سی پی او اے) کے نام سے 2015 کے جوہری معاہدے کی تعمیل پر واپسی سے متعلق مزاکرات کے لیے بات چیت میں تسہیل کاری کی پیشکش کی، لیکن ایران نے تاحال ان کاوشوں کو مسترد کر رکھا ہے۔

بطورِ خاص لبنانی رساست کے سکوت میں ایران کی پشت پناہی کی حامل حزب اللہ کے کرادار اور ایران کی پشت پناہی کے حامل عراقی ملشیا کی جانب سے عسکری اور سفارتی اہداف پر جاری حملوں کے تناظر میں – ایران کو درپیش متعدد بحرانوں سے نکلنے کے لیے اشد ضروری – یورپی معاونت کم ہو رہی ہے۔

درایں اثناء، خلیجی تعاون کاؤنسل (جی سی سی) ممالک کے مابین سفارتی اور تجارتی تعلقات پھل پھول رہے ہیں، اور اسرائیل اور متعدد علاقائی ممالک کے مابین مفاہمتی معاہدے، جو قبل ازاں ناقابلِ فہم تھے، ایران کو مزید اکیلا کرنے کے ساتھ ساتھ اس کی قوت کو کم کر ہے ہیں۔

image

دسمبر میں کاروبار اور ٹیکنالوجی کے شعبے سے ایک اسرائیلی وفد متحدہ عرب امارات میں جی آئی ٹی ای ایکس ٹیکنالوجی ویک میں شریک ہے۔ [امارات نیوز ایجنسی]

image

گزشتہ ستمبر عراقی نوجوان بغداد ہوائی اڈے کے قریب ایک ایرانی ساختہ راکٹ لگنے سے ایک گھر کو ہونے والے نقصان کو دیکھ رہے ہیں۔ [احمد الرباعی/اے ایف پی]

اتحادوں کی منتقلی

برطانیہ، فرانس، بیلجیئم، یونان، پولینڈ اور یورپی یونیئن کی نمائندگی کرنے والے سفارتکاروں کے ایک گروہ کی جانب سے لبنان کے ساتھ اسرائیل کی شمالی سرحد کا ایک حالیہ دورہ ایران اور اس کی ضمنی فوج حزب اللہ کی جانب یورپ کے نقطہٴ نظر میں تبدیلی کو نمایاں کرتا ہے۔

اسرائیل کے لیے بیلجیئم کے سفیر جیان-لوس بوڈسن نے 16 مارچ کو کہا، "جہاں تک ایران کا تعلق ہے، ہم بیلجیئم میں نہایت خائف ہیں کہ ایران جوہری استعداد حاصل کر لے گا اور ہمیں امّید ہے کہ [امریکی صدر جو] بائیڈن کی انتظامیہ کے ساتھ معاونت سے ہم بہترین حل تلاش کر سکیں گے۔"

یہ دورہ اس وقت ہوا جبکہ زیادہ سے زیادہ ممالک حزب اللہ کو ایک دہشتگرد تنظیم قرار دینے کے لیے اقدامات کر رہے ہیں، جن میں سے مارچ کے اوائل میں کوسووو تازہ ترین تھا۔

حزب اللہ کی سیاسی اور عسکری شاخوں کے یک جان ہونے کے بڑھتے ہوئے اعتراف کے دوران، گزشتہ برس جرمنی اور برطانیہ نے حزب اللہ کو دہشتگرد گروہ قرار دے دیا تھا۔

مانا جاتا ہے کہ یہ گروہ یورپی ممالک کو بشمول مجرمانہ سرگرمیوں کے، منصوبے بنانے، حامی بھرتی کرنے اور مالیات اکٹھے کرنے کے لیے محفوظ پناہ گاہ کے طور پر استعمال کرتا ہے۔

تاحال چند یورپی ممالک نے، بکثرت فرانس کے رسوخ کی وجہ سے بلاک کے اندر حزب اللہ کوکام کرنے کے قابلِ ذکر حقوق فراہم کر رکھے ہیں۔

فرانس تمام لبنانی جماعتوں کے لیے بھی دروازے کھلے رکھنا چاہتا ہے اور جوہری معاہدے کو بھی ٹوٹنے نہیں دینا چاہتا۔ لیکن حزب اللہ اور ایران، دونوں سے ہاتھ اٹھا لینے کے لیے اس پر دباؤ میں اضافہ ہو رہا ہے۔

ضمنی گروہوں سے خطے کو خطرہ

قاہرہ سے تعلق رکھنے والے بحرینی سیاسی محقق عبداللہ بن حماد نے کہا کہ گزشتہ 10 برسوں میں خطے میں ہونے والی جغرافیائی سیاسی تبدیلیوں کی بڑی وجہ مشرقِ وسطیٰ میں ایران کا ایجنڈا ہے جس کی پیروی اس نے سپاہِ پاسدارانِ انقلابِ اسلامی (آئی آر جی سی) کی قدس فورس کے ذریعے کی۔

گزشتہ برس کے دوران مشرقِ وسطیٰ میں بڑی سفارتی پیش رفت ہوئیں، جن میں ابراہم معاہدوں کے نام سے معروف، امریکی پشت پناہی میں اسرائیل اور متعدد عرب ممالک کے مابین امن معاہدے اور سعودی عرب اور قطر کے مابین مفاہمت شامل ہیں۔

اسرائیل کے ساتھ ابراہم معاہدوں پر سوڈان نے 23 اکتوبر اور مراکش نے 10 دسمبر کو، جبکہ بحرین اور متحدہ عرب امارات نے 15 ستمبر کو دستخط کیے۔

اگرچہ دیگر عرب ممالک نے ان معاہدوں پر دستخط نہیں کیے، تاہم متعدد خبروں سے جلد ہی سعودی عرب سمیت نئے شرکاء کا پتا چلتا ہے۔

بن حماد نے کہا کہ اسرائیل – خلیجی تعلقات "انہیں قریب لانے والی بین الاقوامی تبدیلیوں اور ایک مشترکہ خطرے: ایران کے [وسعت کے] منصوبوں، کا سامنا ہونے کے تناظر میں اس وقت درست سمت پر ہیں۔"

وسعت کے ان منصوبوں کے جزُ کے طور پر آئی آر جی سی عراق، لبنان، شام، یمن اور افغانستان میں ضمنی گروہوں کی حمایت جاری رکھے ہوئے ہے۔

کتائب حزب اللہ آئی آر جی سی کی پشت پناہی کی حامل ایک سرکردہ ملشیا ہے، جو عراق اور شام میں فعال ہے۔ اس پر 2019 کے اواخر سے اب تک عراق میں متعدد مغربی عسکری اور سفارتی تنصیبات پر راکٹ حملوں کا شبہ ہے۔

15 مارچ کو بغداد کے شمال میں امریکی افواج کی حامل عراق کی البلد ایئر بیس پر دو راکٹ داغے گئے۔ پانچ دیگر راکٹ ایک قریبی گاؤں میں گرے، جس سے ایک شہری گھر کو نقصان پہنچا۔

فوری طور پر کسی نے ذمہ داری قبول نہ کی، تاہم ایسے ہی حملوں کا الزام کتائب حزب اللہ سے منسلک ضمنی نیٹ ورک پر لگایا جا چکا ہے۔

3 مارچ کو بڑی تعداد میں ایرانی ساختہ راکٹ مشرقی عراق میں العین عسکری چھاؤنی پر گرے، جس میں بین الاقوامی اتحادی افواج تھیں۔

15 فروری کو ایربل پر ہونے والے راکٹ حملے کی ذمہ داری کتائب حزب اللہ سے منسلک ایک دیگر کم معروف گروہ سرایا اولیا الدم نے قبول کی۔

ایرانی خطرات جی سی سی رکن ریاستوں تک بھی پھیل چکے ہیں، جبکہ کتائب حزب اللہ سے منسلک الویة الوعد الحق نے 23 جنوری کو ریاض میں الیمامہ محل اور دیگر مقامات پر ناکام حملوں کی ذمہ داری قبول کی۔

27 جنوری کی ایک ٹیلی گرام پوسٹ میں اس گروہ نے ایسی آمیزش شدہ تصاویر پوسٹ کیں جن میں متحدہ عرب امارات میں یادگار بلند عمارت برج خلیفہ کو ڈرونز سے تباہ کیا گیا تھا۔

’ایک تنہا ریاست‘

ریاض میں جامعہ شاہ سعود میں سیاسیات کے ایک لیکچرار عبداللہ الداخل نے کہا کہ ایران کے عزائم اور خلیجی خطے کی قومی سلامتی کو اس سے درپیش خدشات نے اسے "ایک تنہا ریاست" بنا دیا ہے۔

انہوں نے کہا، "یہ معاملہ مشرقِ وسطیٰ اور خلیجی خطے ہی تک محدود نہیں، کیوںکہ ایران اور دنیا بھر میں اس کے ضمنی، بطورِ خاص حزب اللہ، یورپی برادری میں بھی اپنا رسوخ کھو رہے ہیں۔"

یورپی ممالک خطے میں "دولتِ اسلامیہ" (داعش) کے باقیات سے لڑنے والی بین الاقوامی اتحادی افواج کا جزُ ہیں۔ وہ آبنائے ہرمز میں یورپی بحری آگاہی (EMASOH) جیسے اقدامات کے ذریعے خلیجی پانیوں، آبنائے ہرمز اور باب المندیب میں بحری سفر کی آزادی کو بھی فروغ دیتے ہیں۔

متحدہ عرب امارات میں جامعہ اجمان میں قانون کے ایک پروفیسر خالد الزوبی نے کہا کہ تہران کی وسعت کی پالیسیاں عرب ریاستوں کے اتحاد کے انتخاب کو مضبوط کر رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اسرائیل کے ساتھ سیاسی معاہدے ایک یا دو عرب ممالک تک محدود نہیں رہ گئے، کیوں کہ تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور یہ خطے میں دو اہم سیاسی اجسام جی سی سی اور لیگ آف عرب سٹیٹس تک پہنچ گئے ہیں۔

انہوں نے کہا، "اگر حکومتِ ایران کی پالیسیوں کے خلاف تقریباً متحدہ نقطہٴ نظر اور ایران کو پرعزم اور متحدہ طور پر نہ روکے جانے کی صورت میں پیش آنے والے تباہ کن نتائج پیشِ نظر نہ ہوتے تو یہ اس قدر جلد نہ ہوتا۔"

الزوبی نے کہا کہ متحدہ عرب امارات کے ساتھ معاہدہ بطورِ خاص معنی خیز ہے کیوں کہ اس ملک کے دیگر جی سی سی ریاستوں کے ساتھ مستحکم سیاسی، معاشی اور معاشرتی روابط ہیں۔

انہوں نے کہا، "یہ ایران کو ایک براہِ راست پیغام کی نمائندگی کرتا ہے کہ اگر وہ اپنی وسعت سے متعلقہ سرگرمیوں کو جاری رکھنے کی کوشش کرتا ہے تو خطے کے زیادہ تر ممالک اس کی انسداد کریں گے۔"

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا

تبصرے 0

تبصرہ کی پالیسی * لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے 1500 / 1500