دہشتگردی

الہول کیمپ میں قتلوں، تشدد میں اضافہ جبکہ داعش کے تعصب پسندوں کے حملے

از ولید ابو الخیر

image

شام کے صوبہ الحساکہ میں الہول کیمپ میں جلتا ہوا ایک خیمہ، جہاں ایسے حملے ان خواتین کے خلاف انتقامی کارروائی کے طور پر کیے گئے ہیں جو داعش کی خواتین کے احکامات کو ماننے سے انکار کر دیتی ہیں۔ [چشمِ فرات]

الحساکہ - حکام کا کہنا ہے کہ شمال مشرقی شام کے صوبہ الحساکہ میں الہول کیمپ کے اندر "دولتِ اسلامیہ عراق و شام" (داعش) کے کارکنان کی جانب سے قتلوں اور ارتکاب کردہ جرائم کی تعداد میں اس سال بہت تیزی کے ساتھ اضافہ ہوا ہے۔

بدھ (3 مارچ) کے روز کیمپ کے اہلکار جابر شیخ مصطفیٰ نے کہا کہ جولائی کے اوائل سے لے کر اب تک کیمپ میں کم از کم 31 ہلاکتیں ہو چکی ہیں۔

انہوں نے اے ایف پی کو بتایا کہ ہلاک شدگان میں سے چھ کو تیز دھار آلے سے قتل کیا گیا، "جبکہ باقیوں کو گولی مار کر ہلاک کیا گیا۔ ہمیں یقین ہے کہ ان قتلوں کے پیچھے داعش کے سلیپر سیلز کا ہاتھ ہے۔"

اسائش کی حفاظتی شاخ کے ایک اہلکار، عدنان ازادی نے المشارق کو بتایا، "الہول کیمپ میں داعش خاندان اپنے افعال کے ساتھ کیمپ میں منظم طور پر دہشت پھیلا رہے ہیں۔"

image

3 مارچ کو الہول کیمپ میں لی گئی تصویر میں، خود تعینات کردہ حسبہ ('مذہبی پولیس') یونٹوں کی جانب سے نافذ کردہ لباس کے سخت ضابطے کی تعمیل کرتے ہوئے ایک خاتون نقاب اور دستانے پہنے ہوئے ہے۔ [دلیل سلیمانی/اے ایف پی]

image

3 مارچ کو شمال مشرقی شامل کے صوبہ الحساکہ میں، ایک خاتون اور ایک بچہ الہول کیمپ میں خمیوں کے درمیان چلتے ہوئے، جس میں داعش کے جنگجوؤں کے رشتہ داروں کو رکھا گیا ہے۔ [دلیل سلیمانی/اے ایف پی]

شامی جمہوری قوتوں (ایس ڈی ایف) کے ساتھ منسلک، اسائش، شمالی شام کے کردوں کے زیرِ تسلط علاقوں میں داخلی سلامتی کی ذمہ دار ہے۔

ازادی نے کہا کہ اکثر ان جرائم کا ارتکاب ان کے خلاف کیا جاتا ہے جو داعش اور کیمپ کے اندر متعصب خواتین کی جانب سے قائم کردہ حسبہ ("مذہبی پولیس") یونٹ کے احکامات کی خلاف ورزی کرتے ہیں۔

ان جرائم میں "قتل، جسمانی تشدد، دھمکیاں اور خیموں کو جلانا" شامل ہیں۔

انہوں نے کہا، "ان کارروائیوں میں کسی بھی ایسے فرد کو نشانہ بنایا جاتا ہے جو گروہ اور کیمپ میں اس کی خواتین کے احکامات کی خلاف ورزی کرتا ہے، اور کسی ایسے شخص کو بھی جو ان کے ساتھ تعاون نہیں کرتا، خواہ وہ پیسے دینے، فرار کی کوششوں میں مدد دینے کی شکل میں ہو، یا پھر معلومات کو آگے پھیلانے کی شکل میں۔"

ازادی کا کہنا تھا کہ وسط فروری میں داعش کے سابقہ اہلکار کو ہلاک کر دیا گیا تھا، جو "گروہ کے ظلم و جبر اور مجرمیت کو اختلاف کرنے والوں پر قابو پانے کی اپنی کوشش میں ایک ذریعے کے طور پر استعمال کرنے میں ثابت قدم رہنے کے عزم" کو ظاہر کرتا ہے۔

انہوں نے کہا، "افواج کو کیمپ کے اندر گشت کرنے اور امن و امان برقرار رکھنے کا کام سونپا گیا ہے اور وہ ان کارروائیوں کو روکنے کے لیے اپنی نگرانی اور تعاقب کی کارروائیوں میں شدت لا رہے ہیں۔"

ازادی کا کہنا تھا، "لیکن یہ مشاہدے میں آیا ہے کہ جب بھی کبھی پہرہ سخت کیا گیا ہے، کیمپ میں سے فرار ہونے کی کوششیں دریافت ہوئی ہیں اور مجرم اور سمگلر پکڑے گئے ہیں، کیمپ کے اندر جرائم میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔"

ہلاکتوں میں تیزی کے ساتھ اضافہ

کرد ہلالِ احمر کے اہلکار ازاد دودیکی نے کہا کہ حملہ آور "سائلنسر لگے ہوئے پستول" استعمال کرتے تھے اور "چاقو گھونپنے کی وارداتیں تیز دھار آلات" کے ساتھ انجام دیتے تھے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ درجنوں افراد زخمی ہوئے ہیں، اور خیموں کو نذرِ آتش کیا گیا ہے، جس میں خیمے کے کچھ باشندوں کو آبلے پڑ گئے یا دھوئیں سے دم گھٹ گیا۔

انہوں نے کہا کہ الہول کیمپ میں دفاعی قوتیں کیمپ کے مسائل والے حصوں پر محدود چھاپے مارنے کے ذریعے حملوں کو روکنے کی کوشش کر رہی ہیں، جس کے دوران وہ باقاعدگی کے ساتھ تیز دھار آلات اور آتش گیر مواد ضبط کرتی ہیں۔

دودیکی نے کہا کہ اسائش کے اہلکار، جن کے ذمے کیمپ میں امن و امان برقرار رکھنے کا کام لگایا گیا ہے، ان پر بھی حملے ہوئے ہیں، انہوں نے یاد دلایا کہ وہ متواتر خطرے کی زد میں ہیں کیونکہ "وہ کیمپ کے مکینوں کے ساتھ براہِ راست اور متواتر رابطے میں ہیں"۔

حملوں کی حالیہ طغیانی نے کیمپ میں انسانی ہمدردی کی بنیاد پر کام کرنے والی تنظیموں کو چوکس کر دیا ہے، جنہوں نے اپنے اہلکاروں کے تحفظ کے لیے احتیاطی تدابیر اختیار کر لی ہیں۔

دودیکی نے کہا کہ یہ "عام شہریوں کے لیے ان کی اعانت اور خدمات کے معیار اس کی مقدار، کی سطح میں کمی" پر منتج ہوا ہے، "مطلب یہ کہ داعش دسیوں ہزاروں پناہ گزینوں کو محروم کرنے کی گناہگار ہے" ادویات سے، غذا اور تعلیم سے۔

اے ایف پی نے خبر دی کہ 2 مارچ کو ڈاکٹرز ودآؤٹ بارڈرز (ایم ایس ایف) تنظیم نے اعلان کیا تھا کہ وہ کیمپ میں اپنی کارروائیوں کو عارضی طور پر معطل کر رہی ہے اور یہ اعلان اس کی مقامی ٹیم کے ایک رکن کو 24 فروری کو اس کے خیمے کے اندر گولی مار کر ہلاک کر دینے کے بعد کیا گیا ہے۔

ایم ایس ایف کے ہنگامی منتظم، وِل ٹرنر نے کہا، "لوگوں کو بے رحمانہ تعدد کے ساتھ قتل کیا جا رہا ہے، اکثر ان خیموں میں جہاں وہ رہتے ہیں۔ یہ ایک محفوظ ماحول نہیں ہے اور بلاشبہ بچوں کے پرورش پانے کے لیے ایک موزوں جگہ نہیں ہے۔یہ ڈراؤنا خواب ٹوٹنا لازمی ہے۔"

مایوسی کی ایک علامت

ذرائع ابلاغ میں کام کرنے والے اور سماجی کارکن عمار صالح نے کہا، "داعش کی خواتین نے حال ہی میں کیمپ کے اندر پہنچنے والی ترسیلِ زر [پیسے کی منتقلی] کی کڑی نگرانی کے پیشِ نظر پیسے بٹورنے کے لیے ایک نیا طریقہ اختیار کیا ہے۔"

انہوں نے کہا کہ وہ اپنے بچوں کو "خیموں سے یا طبی اور دفاعی اہلکاروں سے" چوریاں کروانے کے لیے استعمال کرتی رہی ہیں،" -- ایک طریقۂ کار جو اس وقت سامنے آیا جب ایک بچے کو کیمپ کے ایک اہلکار کی کار سے فون اور پیسے چراتے ہوئے پکڑ لیا گیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ اس کی اس قسم کے طرزِ عمل کی ایک تاریخ ہے، انہوں نے یاد دلایا کہ جب شام اور عراق کے علاقے اس کے زیرِ تسلط تھے، تو اس نے اپنے ارد گرد فوجی محاصرے کے سخت ہونے کے ردِعمل میں پھانسیوں اور تشدد کی کارروائیوں میں اضافہ کر دیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ پیغام ان کو دینا مقصود ہے جو اس کی حکم عدولی کرتے ہیں، "جو عکاسی کرتا ہے کہ تنظیم میں بظاہر ایک خوف پایا جاتا ہے کہ کیمپ کے اندر کی صورتحال ان کے ہاتھوں سے پھسلتی جا رہی ہے، اور یہ دھونس جمانے اور وسعت پانے کی اپنی صلاحیت سے محروم ہو رہی ہے"۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا

تبصرے 0

تبصرہ کی پالیسی * لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے 1500 / 1500