https://pakistan.asia-news.com/ur/articles/cnmi_pf/features/2019/10/14/feature-01
| دہشتگردی

غیر یقینی مستقبل شامی کیمپ میں داعش کے یتیموں کا منتظر

اے ایف پی اور پاکستان فارورڈ

image

8 اگست 2019 کوایک بچہ شمال مشرقی شام میں الحول کیمپ میں دیکھ رہا ہے۔ [دیلِل سلیمان/اے ایف پی]

عين عيسى شام – شمالی شام میں لوہے کی باڑ کے عقب میں ایک ویل چیئر پر بیٹھی نو سالہ رقیّہ محمّد صحافیوں سے چھپنے کے لیے اپنے چہرے پر اوڑھنی ڈال رہی ہے۔

مارچ میں "دولتِ اسلامیہٴ عراق و شام" (داعش) گروہ کے شام میں آخری گڑھ میں ان کے خلاف معرکوں میںیہ مصری لڑکی اپنی بائیں آنکھ، اپنی ٹانگیں اور والدین سے محروم ہو گئی۔

اب وہ این عیسیٰ میں بے گھر افراد کے ایک کیمپ میں اس کیمپ کے بڑی عمر کے رہائشیوں کے زیرِ سرپرستی غیر ملکی داعش جنگجوؤں کے 23 دیگر یتیموں کے ہمراہ مقیم ہے۔

image

الحول میں موجود چند یتیم انہیں حلقہ کیے ہوئے داعش کے شدّت پسندانہ نظریہ کے سوا کم ہی علم رکھتے ہیں۔ نام نہاد ’خلافت‘ کے سکوت سے قبل داعش کی ایک ویڈیو کے سکرین شاٹ میں دو ’زیرِ تربیت بچے‘ دکھائے گئے ہیں۔ [فائل]

image

متعدد شام کے الحول کیمپ میں داعش کے یتیموں کے مستقبل سے متعلق پریشان ہیں۔ نام نہاد ’خلافت‘ کے سکوت سے قبل داعش کی ایک ویڈیو کے سکرین شاٹ میں دکھایا گیا ہے کہ ’زیرِ تربیت بچوں‘ کے ایک گروہ کو عقیدہ ذہن نشین کرایا جا رہا ہے۔ [فائل]

18 ماہ سے 13 برس کی عمروں کے یہ بچے روس، ازبکستان، انڈونیشیا، تاجکستان، مصر اور عراق سے تعلق رکھنے والے والدین کے یہاں پیدا ہوئے۔

37 سالہ سارہ العبداللہ، جو یتیموں کی دیکھ بھال میں مدد کرتی ہے، نے کہا، "ان بچوں میں، رقیّہ مجھے سب سے زیادہ جذباتی کر دیتی ہے۔"

این عیسیٰ کیمپ کی نو خاتون باشندوں میں سے ایک، تین بچوں کی اس بیوہ ماں، جسے بچوں کی دیکھ بھال کرنے کے لیے تھوڑی بہت اجرت دی جاتی ہے، کا کہنا ہے، "وہ ہمیشہ کھوئی ہوئی، شرمائی ہوئی اور اداس دکھائی دیتی ہے۔"

ٹینٹ کے باہر، لوہے کی باڑ پر چھوٹے بچوں کی قمیصیں اور پائجامے سوکھنے کے لیے ڈالے گئے ہیں۔ اندر چھوٹے لڑکے ٹماٹروں میں پکائے گئے نرم بینگن کے پیالوں میں روٹی ڈبو رہے ہیں۔

ایک رضاکار ایک چھوٹے لڑکے کو منہ کھولنے کے لیے بہلا رہی ہے، جبکہ ایک اور عورت ایک نومولود کو بوتل سے دودھ پلا رہی ہے۔

ایک چھوٹا لڑکا پورے ٹینٹ میں بھاگتے ہوئے حادثاتی طور پر خود کو بستروں کے ایک ڈھیر پر گرا رہا ہے۔

تلخ بچپن

رضاکاروں کا کہنا ہے کہ داعش کے تحت اپنے والدین (جو اب مرحوم ہو چکے ہیں) کے ساتھ رہنے کے بعد کچھ بچوں پر تاحال خوف عیاں ہے۔

العبداللہ نے کہا، "وہ ایک دوسرے پر گولیاں چلانے اور زمین میں بارودی سرنگیں بچھانے کا کھیل کھیلتے ہیں۔"

وہ کہتی ہے کہ وہ داعش جنگجوؤں کی چیخ و پکار کی تصویر کشی کرتے ہوئے لکڑی کے ٹکڑوں کو بندوقیں تصور کرکے خود کو تخیّلاتی جنگوں میں ڈالتے ہیں۔

اس نے کہا، "یہ سب ان کے ذہنوں میں نقش ہو چکا ہے۔ اسے بھلانے میں کوئی چیز ان کی مدد نہیں کر سکتی۔ وہ پڑھتے ہیں، نہ چھوٹے بچوں سے کھیلنے جاتے ہیں۔ یہ سب ان سے چھِن چکا ہے۔"

2014 میں داعش نے شام کے بڑے حصّے اور ہمسایہ عراق پر حملہ کرتے ہوئے ایک نام نہاد "خلافت" کا اعلان کیا اور دسیوں لاکھوں افراد پر اسلام سے متعلق اپنی وحشیانہ توضیع مسلط کر دی۔

امریکی پشت پناہی کے حامل شامی جنگجوؤں نے مارچ میں انہیں اپنے علاقہٴ عملداری کے آخری پارچے، باغوز سے نکال باہر کیا۔

شورشیوں کے خلاف لڑائی کی کئی برسوں تک قیادت کرنے کے بعد، شام کے کردوں نے داعش کے ہزاروں مشتبہ غیر ملکی ارکان کو حراست میں اور کیمپوں میں رکھا ہوا ہے: جن میں نہ صرف مرد و خواتین، بلکہ 8,000 کے قریب بچے بھی ہیں – جن میں سے نصف سے زائد پانچ برس سے کم عمر کے ہیں۔

اقوامِ متحدہ کا کہنا ہے کہ ان میں سے سینکڑوں تنہا ہیں۔

این عیسیٰ کے یہ 24 یتیم کئی ماہ کی خوراک کی قلت اور شدید بمباری کے بعد،جنگ کے آخری ہفتوں میںباغوز سے نکلنے والے دسیوں لاکھوں باشندوں میں شامل تھے۔

این عیسیٰ کیمپ کے مینیجر جلال ایّاف نے کہا، "وہ قابلِ رحم حالت میں تھے۔ وہ ہسپتال جا کر بہتر ہوئے۔"

لیکن، انہوں نے اپنے دفتر میں اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ، کیمپ کو یتیموں کے لیے کوئی معاونت نہیں ملی اور وہ ان کی سہولت کے لیے تگ و دو کر رہا ہے۔

انہوں نے کہا، "ہم کپڑوں، خوراک، پینے کی چیزوں اور ان کی بحالی اور داعش کے نظریے سے ان کو چھٹکارا دلانے میں مدد کا مطالبہ کرتے ہیں۔"

تکلیف میں کمی

وہاں ٹینٹ میں 20 سالہ سعاد محمّد امین ایک چھوٹے بچے کو ٹی شرٹ پہنا رہی ہے۔

اس کا کہنا ہے کہ جن بچوں کی وہ مدد کرتی ہے انہیں صرف خوراک اور کپڑے ہی نہیں بلکہ نفسیاتی معاونت بھی درکار ہے۔

اس نے کہا، "سب سے زیادہ مشکل تب ہوتی ہے جب وہ مجھے بتاتے ہیں کہ ان کے ماں باپ ان کے سامنے قتل ہوئے، یا کیسے ان کے بہن بھائی گزر گئے۔"

تکلیف کم کرنے کے لیے اس نے بچوں کو کہانیاں سنانے کا وعدہ کر رکھا ہے اور وہ بچیوں کو کروشے بھی سکھاتی ہے۔

اس نے کہا، "میں نے ان سے وعدہ کیا ہے کہ اب جبکہ ان سے سب کچھ چھوٹ گیا، وہ انہیں پڑھنے لکھنے میں مدد کرے گی۔"

لیکن، کیمپ کے مینیجر ایّاف نے دلیل دی کہ بہترین حل یہ ہو گا کہ ان کے آبائی ملک انہیں واپس لے لیں۔

شمال مشرقی شام میں کرد حکام نے بار ہا یہ مطالبہ کیا ہے کہ – یتیموں سمیت – ان کے پاس موجود غیر ملکیوں کو ان کے اپنے ملکوں کے حوالہ کیا جائے، یہ ایک ایسی درخواست ہے جسے ماسوائے چند خال واقعات کے، بڑے پیمانے پر مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔

ایک اور 19 سالہ نگہداشت کنندہ عالہ سلیمان الصالح بھی پر امّید ہے کہ یہ بچے اپنے وطن واپس جا سکیں گے۔

چند لڑکیوں کو کروشے سکھانے والی اس نوجوان خاتون نے کہا، "اس ٹینٹ میں صورتِ حال واقعی مشکل ہے۔"

اس نے کہا، "میں امّید کرتی ہوں کہ یہ بچے اپنے ملکوں کو واپس لوٹ جائیں گے تاکہ یہ اپنی تعلیم اور بچپن کی کمی پوری کر سکیں۔"

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا
1
نہیں
تبصرے 1
تبصرہ کی پالیسی
Captcha

اللہ مسلمانوں پر رحم کرے

جواب